تجزیہ

چین کی عالمی وباء کی حکمتِ عملی میں مسئلہ: ہو سکتا ہے اس کی ویکسینز کام نہ کریں

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ایک بزرگ خاتون 16 مارچ کو لاہور میں چینی ساختہ سائینوفارم ویکسین کی خوراک لگواتے ہوئے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

بیجنگ -- ایک قابلِ ذکر ابتداء میں، ملک کی کورونا وائرس کی ویکسینز کی تاثیر میں اضافہ کرنے کے ممکنہ منصوبے کے درمیان گزشتہ ہفتے ایک چینی اہلکار نے چینی ساختہ ٹیکوں کے مؤثر ہونے پر تشویشوں کا سرِعام اعتراف کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جیسے چین اپنی ویکسین کی بہت بڑی مہم میں پیش رفت کر رہا ہے اور اپنے ٹیکے دنیا بھر میں برآمد کر رہا ہے، یہ تسلیم کرنا کہ اثر کرنے کا کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے حکومت کی "ویکسین سفارتکاری" کی حکمتِ عملی میں حائل ہو سکتا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر دی کہ چینی مرکز برائے کنٹرول و تدارک امرض کے سربراہ، گاؤ فو نے 10 اپریل کو چینگڈو میں ایک کانفرنس کو بتایا کہ محکمہ "غور کر رہا ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کرے کہ موجودہ ویکسین کی تاثیر زیادہ نہیں ہے.

بی بی سی نے خبر دی کہ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ویکسینز، بشمول سائینوویک اور سائینوفارمکی خوراکیں، "حفاظت کی بہت بلند شرحوں کی حامل نہیں ہیں"۔

image

فلسطینی وزارتِ صحت کے اہلکار 6 اپریل کو، مقبوضہ مغربی کنارے پر ہربون کے شمال میں، ہالحول میں ایک سکول کے اندر چینی حکومت کی جانب سے عطیہ کردہ سائینوفارم کووڈ-19 کورونا وائرس کی ویکسین کی خوراکیں تیار کرتے ہوئے۔ [حزیم بدر/اے ایف پی]

image

6 اپریل کو کولمبو، سری لنکا میں محکمۂ صحت کا ایک اہلکار چینی ساختہ سائینوفارم ویکسین کا ٹیکہ اس ملک میں رہنے والے ایک چینی شہری کو لگاتے ہوئے، اس سے پہلے محکمۂ صحت کے مقامی حکام نے واضح کیا تھا کہ چینی ساختہ ٹیکے کا استعمال صرف جزیرے پر مقیم چینی شہریوں کے لیے ہو گا۔ [اشارا ایس کودیکارا/اے ایف پی]

چین کی مشروط طور پر منظور شدہ چار ویکسینز ہیں، جن کی شائع شدہ تاثر کی شرحین حریف ٹیکوں فائزر کی بائیواین ٹیک اور موڈرنا، سے کم ہے، جن کی شرحیں 95 فیصد اور 94 فیصد بالترتیب ہیں۔

گاؤ نے مختلف ویکسینز کو آپس میں ملانے نیز خوراکوں کی تعداد اور مقدار تبدیل کرنے، یا ان کے درمیان وقفے کو تبدیل کرنے کی تجویز دی۔

کونسل برائے خارجہ تعلقات کے عالمی صحت کے لیے ایک سینیئر فیلو، ین ژونگ ہوانگ کے مطابق، چین کے اندر سوشل میڈیا پر ان کے تبصرے کو فوری طور پر سنسر کر دیا گیا۔

انہوں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، "یہ پہلا موقع ہے کہ ۔۔۔ ایک سرکاری اہلکار نے سرِعام اعتراف کیا ہے کہ ویکسینیشن کی مہم میں حفاظتی شرحیں تشویش کا باعث ہیں"۔

بیانیے کی ترتیبِ نو

چینی ساختہ ویکسینز لگانے میں کوئی بھی تبدیلیاں ان درجنوں ممالک کے لیے بڑے نتائج کی حامل ہوں گی جنہیں بیجنگ اپنے حکام کے بقول "عالمی عوامی بھلائی" کی کوشش کے جزو کے طور پر فراہم کر رہا ہے۔

فروری کے آخر میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن ے کہا تھا کہ چین کووڈ-19 کی ویکسینز 27 ممالک کو برآمد کر رہا ہے اور 53 ضرورت مند ممالک کو مفت "ویکسین امداد" فراہم کر رہا ہے۔

چین کی "ویکسین سفارتکاری" کے بارے میں بات کرتے ہوئے، مارچ میں ڈیوک یونیورسٹی کے ڈیوک گلوبل ہیلتھ انوویشن سینٹر کے بانی ڈائریکٹر، کرشنا ادے کمار نے کہا تھا، "کچھ [ویکسین کی خوراکیں] عطیہ کردہ ہیں، کچھ فروخت کردہ ہیں اور کچھ اس کے ساتھ منسلک قرض پر فروخت کردہ ہیں"۔

چینی حکومت نے رسد کی ان سکیموں میں سے کسی بھی سکیم کے ذریعے چینی ساختہ ویکسینز وصول کرنے والے ممالک کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی۔

چینی ایسی "امداد" کو بیجنگ کے عالمی وباء کے بیانیئے کو اس کی ووہان میں ابتدائی وباء سے ہٹا کر نئی شکل دینے کی مہم اور بحران کے تاخیر سے ہونے والے اعتراف کے جزو کے طور پر دیکھتے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں "ہیرو والے کار ہائے نمایاں"انجام دینے میں ملک کی کامیابی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔

فنانشل ٹائمز نے بتایا کہ مارچ تک، چین نے دنیا بھر میں، زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں اپنی کورونا وائرس کی ویکسینز کی 40 ملین خوراکیں برآمد کر دی تھیں۔

ایسے ممالک کو جو زیادہ مہنگی ویکسینز خریدنے سے قاصر ہیں یا جن کی طلب بہت زیادہ ہے انہیں ویکسینز کی رسد بیجنگ کی تاریخ از سرِ نو رقم کرنے کی کوشش کا کلیدی عنصر ہے۔

لیکن چین کی ویکسین سفارتکاری کی کوششیں اتنی ہی مؤثر ہوں گی جتنی اس کی طرف سے پیش کی جانے والی ویکسین کا معیار ہے۔

صحت کے عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مناسب اندازہ لگانے کے لیے چینی ساختہ ٹیکوں کی تاثیر کے متعلق کافی معلومات نہیں ہیں.

پبلک ہیلتھ انگلینڈ میں وبائی امراض پر قابو پانے والے ایک ریٹائرڈ مشیر، پیٹر انگلش نے فنانشل ٹائمز کو بتایا، "ہمارے پاس اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں کہ یہ ویکسینز کتنی مؤثر ہیں"۔

دیگر ویکسین مصنوعات تیار کنندگان کے برعکس، چینی دوا سازوں نے مرحلہ 3 کی آزمائش کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے، جس سے تاثیر کی شرحوں کی شفافیت اور درستگی کے متعلق سوالات اٹھ جاتے ہیں۔

ایک واضح انتباہ

بیجنگ کی خراب کووڈ-19 ٹیسٹ کٹس، گھٹیا وینٹی لیٹرز اور "جعلی" ماسک اور دیگر ذاتی حفاظت کے آلات کی برآمدات اک اور انتباہ کا کام دیتی ہیں۔

گزشتہ برس عالمی وباء کے عروج پر، کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے محکمۂ صحت کے اہلکاروں میں انفیکشنز کے سلسلے اور اموات کے بعد پاکستانی ہسپتالوں میں چینی کی بنی ہوئی پی پی ای مسترد کر دی تھیں.

گزشتہ برس مئی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری، ڈاکٹر عمر جواد نے کہا تھا، "کووڈ-19 کو سنبھالنے میں مشغول 1،000 سے زائد ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور نرسوں میں چین سے درآمد شدہ ناقص پی پی ای کی وجہ سے وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔"

اس وقت، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی خیبرپختونخوا (کے پی) شاخ کے سیکریٹری، ڈاکٹر جواد خان نے کہا تھا، "ہم سب جانتے ہیں کہ چین گھٹیا معیار کی مصنوعات کی سمگلنگ اور تجارت کرنے کے لیے بدنام ہے، اور اب یہ عوامی حفاظت کے نام پر غیر معیاری ماسک، گاؤن اور جوتے فراہم کر کے پیسہ کما رہا ہے"۔

"لیکن یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ان اشیاء نے محکمۂ صحت کے اہلکاروں کو کووڈ-19 سے تحفظ نہیں دیا تھا۔"

پاکستانی حکام کو یہ بھی پتہ چلا تھا کہ کووڈ-19 کا سراغ لگانے والی چینی ساختہ کٹس خراب نتائج دے رہی تھیں جس کے نتیجے میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں اور ٹیسٹ کروانے والوں دونوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

جون میں، امریکہ محکمۂ انصاف نے ایک چینی کمپنی پر اپریل کے مہینے میں تقریباً پانچ لاکھ جعلی اور غیرمعیاری این95 ماسک فروخت کرنے کے لیے مقدمہ دائر کر دیا تھا جب کووڈ-19 کی عالمی وباء دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی.

جب گزشتہ گرمیوں میں پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ ہو گیا، تو سینکڑوں مریضوں کی اموات کو چینی ساختہ گھٹیا وینٹی لیٹرز سے منسوب کیا گیا تھا.

دریں اثناء، اگست میں، جب پاکستانی ریگولیٹرز نے کینسینوبائیو اور بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چین کی جانب سے تیار کی جا رہی ویکسین کی جانچ کے حتمی مرحلے کی منظوری دی، محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی.

ان کا کہنا تھا کہ چین عالمی وباء کے دوران چین حفاظت پر منافعے کو مقدم رکھنے کی تاریخ کا حامل ہے اور چینی ساختہ ویکسینز بھی مختلف نہیں ہیں۔

منافع مقدم

"گزشتہ اگست میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد میں ایک طبی ماہر، ڈاکٹر محمد سلیم نے کہا، " چین نے کورونا وائرس کے ابتدائی مرحلوں میں اس کی طغیانی کو روکنے کے لیے انسدادی اقدامات نہیں کیے اور پست معیار کے وینٹی لیٹرز، [ٹیسٹ] کٹس اور ذاتی حفاظت کے آلات فروخت کر کے منافع کماتا رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "اب جب عالمی وباء اپنے اختتام کے قریب ہے، تو [چین] ویکسینز سے پیسے کمانا چاہتا ہے۔"

جنوری میں چینی وزارتِ تجارت نے کہا تھا کہ چین نے گزشتہ برس 220 بلین سے زائد فیس ماسک، 2.3 بلین پی پی ای اور ایک بلین ٹیسٹ کٹس برآمد کی تھیں۔

اس وقت چینی نائب وزیر برائے تجارت، چیان کیمنگ کا کہنا تھا کہ برآمدات "عالمی وباء کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم حصہ تھیں۔"

ان ناقدین کو یہ جذبات بالکل کھوکھلے لگتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے اپنی معیشت کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے عالمی وباء سے فائدہ اٹھایا۔

جنوری کے شروع میں ایک کسٹمز اہلکار نے کہا کہ سنہ 2020 میں صرف ماسک کی برآمدات کی مالیت 52.6 بلین ڈالر تھی۔

جبکہ دنیا کی بیشتر معیشتیں ایک سال سے زائد عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ کووڈ-19 عالمی وباء نے کاروباروں کا زیادہ حصہ تباہ کر دیا اور ان گنت ملازمتیں ختم ہو گئیں، چین واحد ملک تھا جس نے 2020 میں ریکارڈ ترقی بتائی.

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500