https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/21/feature-01
صحت

چین کی منافع کی دوڑ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ویکسین کی جانچ کے محفوظ ہونے کو مشکوک بناتی ہے

از اشفاق یوسفزئی

image

خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کووڈ-19 کی عالمی وباء کے دوران اہلکاروں اور رضاکاروں کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے 5 جولائی کو پشاور میں 1122 ہیڈکوارٹرز کے دورے پر۔ [شہباز بٹ]

اسلام آباد -- محکمۂ صحت کے ماہرین چینی ساختہ کورونا وائرس ویکسین کی پاکستان میں بڑے پیمانے پر آزمائش کرنے کے منصوبوں پر سنگین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ بیجنگ کی منافعے کو حفاظت پر مقدم رکھنے کی طویل تاریخمتنازع آزمائش پر تفکرات کو جنم دے رہی ہے۔

حکام نے منگل (18 اگست) کے روز کہا کہ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی طبی آزمائش میں، پاکستانی ریگولیٹرز نے کینسینوبائیو اور بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی چین کی جانب سے تیار کی جا رہی ویکسین کی آزمائش کے حتمی مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔

جیسا کہ اے ایف پی کی جانب سے حوالہ دیا گیا ہے، ایک بیان میں پاکستان کے قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) کا کہنا تھا، "یہ پاکستان میں کسی بھی ویکسین کے لیے پہلی بار مرحلہ 3 کی طبی آزمائش ہو گی۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ آزمائش میں پاکستان کا شامل ہونا "ویکسین کی ترجیحی فراہمی اور قیمت کے تعین" میں اس کی شمولیت میں مدد کرے گا۔

image

31 مارچ 2020 کو راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر عارضی کوارنٹین کی سہولت کے طور پر تیار کی گئی ٹرین کی بوگی میں ڈاکٹر سوار ہیں۔ مارچ میں، پاکستانی ہسپتالوں نے کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے بیمار ہونے اور اموات کے سلسلے کے بعد چینی ساختی ذاتی حفاظتی آلات کو مسترد کرنا شروع کر دیا تھا۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

image

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کووڈ-19 کی عالمی وباء کے خلاف جنگ کے 100 دن پورے ہونے پر 5 جولائی کو لگایا گیا ایک بینر۔ [شہباز بٹ]

یہ آزمائشیں پاکستان بھر میں کئی طبی مراکز، بشمول کراچی کے ایک بڑے ہسپتال انڈس ہسپتال میں ہوں گی۔

منافع حفاظت پر مقدم

ڈاکٹر، ماہرینِ محکمۂ صحت، اور مبصرین ان خطرات سے متنبہ کر رہے ہیں جو اس آزمائش سے شرکاء کو لاحق ہو سکتے ہیں۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال، پشاور میں ایک ماہرِ امراضِ اطفال، ڈاکٹر علی کمال نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک میں کووڈ-19 کی ویکسین بنانے اور عالمی منڈی کو اپنے ہاتھ میں کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

ڈان کا حوالہ دیتے ہوئے، کمال کا کہنا تھا کہ چینی حکومت نے جو وعدہ کیا ہے کہ پاکستان کو اس کی آبادی کے تقریباً پانچویں حصے کو ویکسین لگانے کے لیے کافی ڈوز ملے گی وہ ایک دھوکا ہے کیونکہ بیجنگ کو ایسے کاموں سے پیسہ کمانے کی عادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ کبھی بھی وعدہ پورا نہیں کرے گا اور پیسہ کمانا جاری رکھے گا جیسا کہ اس نے ان غیر معیاری مصنوعات کی فروخت سے کمایا تھا جو اس نے عالمی وباء کے دوران فراہم کی تھیں۔

جولائی میں، چینی ساختہ گھٹیا وینٹی لیٹرزپاکستان میں کووڈ-19 کی وجہ سے ہونے والی اموات میں اضافے میں ایک بڑا عنصر قرار پائے تھے۔

جون میں، ایک رپورٹ نے تفصیلات بیان کی تھیں کہ کیسے کووڈ-19 کا سراغ لگانے والی چینی ساختہ کٹس غلط نتائج دے رہی تھیں، جس سے پاکستان کے محکمۂ صحت کے اہلکاروں اور جانچ کروانے والوں دونوں کے لیے بڑے مسائل پیدا ہوئے تھے۔

مئی میں، پاکستانی ہسپتالوں نے چین کے تیار کردہ ذاتی حفاظتی آلات (پی پی ای) کو مسترد کرنا شروع کر دیا تھاجب کووڈ-19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے اہلکاروں میں بیماری اور اموات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

"پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد میں طب کے ایک عالم، ڈاکٹر محمد سلیم نے کہا، "چین نے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں جن سے کورونا وائرس کی طغیانی کو اس کے ابتدائی مراحل میں روکا جاتا اور وہ ناقص معیار کے وینٹی لیٹر، کٹس اور ذاتی حفاظتی آلات کی فروخت کے ذریعے منافع کماتا رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، " [چین] اب ویکسین سے پیسے کمانا چاہتا ہے جب عالمی وباء اپنے خاتمے کے قریب ہے۔"

سلیم کے مطابق، ویکسین کی آزمائش میں حصہ لینے والے اولین افراد وہ ہوں گے جو کووڈ-19 کے لیے سب زیادہ حساس ہوں گے -- بزرگ، محکمۂ صحت کے اہلکار اور وہ افراد جن کی حالت متعدی بیماری کی سنگین صورتوں کے ساتھ منسلک ہے۔

سلیم نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں ہدف آبادی ویکسین کی ابتدائی ڈوز وصول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گی جس کی وجہ سے وہ خوف ہے جو چین نے پیدا کیا ہے -- عالمی وباء کے دوران ناقص معیار کی مصنوعات فراہم کر کے اور خود وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہو کر۔"

ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ کووڈ-19 سے منافع کما رہا ہے، اور اگر ویکسین کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ اس کی تیاری کا سہرا اپنے سر باندھے گا۔ ناکامی کی صورت میں، یہ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرائے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "طب کے لحاظ سے بات کریں، تو پاکستان کا چین کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور ہمیں اس منصوبے سے دور رہنا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "دیگر ممالک کو یہاں انسانوں پر آزمائش کرنے کی اجازت دینا قابلِ عمل نہیں ہے۔"

ویکسین کی دوڑ

کورونا وائرس کی عالمی وباء، جس نے دنیا بھر میں 760،000 سے زائد جانیں لی ہیں، اس نے ایک ویکسین تیار کرنے کی عالمی دوڑ لگوا دی ہے۔ محققین دنیا بھر میں 150 سے زائد امیدوار ویکسینز تیار کر رہے اور جانچ رہے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 11 اگست کو دعویٰ کیا تھا کہ روس نے پہلی کورونا وائرس ویکسین تیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی رائے تھی کہ غیر مصدقہ، غیر جانچ کردہ دوا درحقیقت کووڈ-19 سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر این آئی ایچ اسلام آباد میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے کہا کہ چینی حکومت کا ویکسینیشن پروگرام ویکسین کے لیے منڈی میں روس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "اس سے پہلے، روس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ویکسین تیار کر لی ہے، جس کے بعد چین نے اعلان کر دیا، دونوں ویکسینیشن کے لیے عالمی طلب سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔"

اہلکار کا کہنا تھا کہ روس کو معلوم ہے کہ چین نے کووڈ-19 سے متعلقہ طبی آلات کی فروخت سے بھاری منافع کمایا ہے اور اس لیے اس نے اپنی فروخت سے منافع کمانے کے لیے ایک اعلان کر دیا کہ اس نے ویکسین تیار کر لی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ کریملن کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑے گا اور اس سے ملتے جلتے ایک جواب کے ساتھ مقابلے میں چھلانگ لگا دی کہ وہ بھی ویکسین فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔

اہلکار نے کہا، "کسی بھی تحقیقی مطالعہ کا مرحلہ 3 انتہائی احتیاط کے ساتھ انجام دینے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ آزمائش کے شرکاء کو وائرس کے خطرے میں ڈال دیتا ہے یہ دیکھنے کے لیے آیا کہ وہ ویکسین حاصل کرنے کے بعد انفیکشن سے بچتے ہیں یا نہیں۔"

کراچی کے مقامی ایک دوا ساز، جمال احمد، جو ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل فرم کے ساتھ کام کرتے ہیں، انہوں نے کہا، "عالمی وباء کے ساتھ نمٹنے کا واحد طریقہ ایک ویکسین ہے، اور دونوں ممالک [روس اور چین] ممکنہ استعمال کے لیے اپنی مصنوعات کو جلد سے جلد منظور کروانا اور بھاری منافع کمانا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "دونوں ویکسین کو منڈی میں لانے کے لیے بے چین ہیں کیونکہ دنیا بھر کے محققین ایک ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ اگر امریکہ، برطانیہ یا کوئی دیگر یورپی ملک ویکسین منڈی میں لے آیا، پھر کوئی بھی ملک مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)