صحت

ووہان کی کروناوائرس تجربہ گاہ میں غیر محفوظ طریق ہائے کار سے وبا پھوٹنے پر سوالیہ نشان

پاکستان فارورڈ

image

فروری میں ووہان، چین میں ایک نرس کووڈ-19 کروناوائرس کے مریضوں کے علاج کے ایک انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں آلات تیار کر رہی ہے۔ [ ایس ٹی آر/ اے ایف پی]

واشنگٹن پوسٹ نے منگل (14 اپریل) کو خبر دیکہ امریکی حکام نے 2018 میں ووہان چین میں ایک تحقیقی تجربہ گاہ سے متعلق یہ کہتے ہوئے متعدد تنبیہات جاری کیں کہ اس میں چمگادڑوں کے کروناوائرس، جو کہ اسی قسم کا وائرس ہے جس نے 2020 میں دنیا کو درہم برہم کر دیا، پر خطرناک تحقیق کے دوران غیر موزوں حفاظتی اقدامات ہیں۔

یہ انکشافات اس فکر کو مستحکم کرتے ہیں کہ کروناوائرس کووڈ-19، جیسا کہ بعض اوقات چین دعویٰ کرتا ہے، ایک مرطوب بازار سے نہیں بلکہ حکومت کی زیرِ کفالت ایک تجربہ گاہ سے آیا۔

بیجنگ میں امریکی سفارتخانے نے 2018 میں ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی (ڈبلیو آئی وی) میں بارہا چوٹی کے سائنسی سفارتکار بھیجنے کا غیرمعمولی اقدام کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس وقت ڈبلیو آئی وی نے ان دوروں سے متعلق انگریزی میں ایک خبر جاری کی لیکن گزشتہ ہفتے اسے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے عہدیداران کی جانب سے پیغام میں ڈبلیو آئی وی تجربہ گاہ میں حفاظتی اور تنظیمی کمزوریوں سے متعلق تنبیہ کی گئی اور اس "تجربہ گاہ کے چمگادڑوں کے کروناوائرس پر کام اور انسانوں میں اس کی ممکنہ ترسیل" اور اس کے "ایک نئی سارس جیسی وبا" کی نمائندگی کرنے پر خصوصی خدشات کے ساتھ مزید توجہ اور مدد کی پیشکش کی۔

image

11 اپریل 2020 کو لیشنشان ہسپتال ووہان کے سامنے سیکیورٹی اہلکار چہرے کے ماسک پہنے کھڑے ہیں۔ [نوئیل سیلِس/اے ایف پی]

نظامِ تنفس کے شدید سخت مرض (سارس) وبا کا آغاز 2002 کے اواخر میں چین سے ہوا اور 2003 میں دنیا بھر میں اس کے 8,000 سے زائد واقعات پیش آئے۔

2018 کے پیغامات میں سے ایک میں تنبیہ کی گئی، "ڈبلیو آئی وی تجربہ گاہ میں سائنسدانوں کے ساتھ تعامل کے دوران انہوں نے نوٹ کیا کہ نئی تجربہ گاہ میں درست طور پر تربیت یافتہ ٹیکنیشنزکی شدید قلّت ہے اور محققین کو چاہیئے کہ اس ہائی کنٹینمنٹ تجربہ گاہ کو حفاظت سے چلائیں۔"

جیسا کہ نظریاتِ سازش بُننے والے چند افراد الزام لگاتے ہیں کہ یہ وائرس بنایا گیا، اس کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں؛ سائنسدان بڑے پیمانے پر متفق ہیں کہ یہ جانوروں سے آیا۔

بارکلے میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سکول آف انفارمیشن میں ایک محقق سائنسدان ژاؤ چیانگ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ یہ وائرس جانوروں سے آیا، یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ وائرس ڈبلیو آئی وی تجربہ گاہ سے پیدا ہوا، جس نے جانوروں میں چمگادڑوں کے کرونا وائرس کی جانچ کرنے میں کئی برس صرف کیے۔

انہوں نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر غیر واضح ہے کہ نوول کروناوائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے نکلا، تاہم اس تجربہ گاہ سے متعلق خدشات حقیقی ہیں۔

انہوں نے کہا، "میں نہیں سمجھتا کہ یہ ایک نظریہٴ سازش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک جائز سوال ہے جس پر تحقیق کرنے اور جواب حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے وقوع پذیر ہونے کے طریقے سے متعلق علم مستقبل میں اس کے واقع ہونے سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے۔"

تاریخ کی تحریرِ نو

بیجنگ نے نظریاتِ سازش پھیلا کر کئی ماہ تک کروناوائرس کے الزام کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے۔

چین کی غلط معلومات پھیلانے کی مشین نے حکام کے اس امر کا ادراک کرنے کے بعد کام کا آغاز کی کہ چین سے پیدا ہونے والا وائرس دنیا بھر میں ایک بے مثال تباہی مچا رہا ہے۔

یورپی یونیئن، نیٹو اورجی سیون، تمام کروناوائرس وبا سے متعلق مسلسل غلط معلومات کے پھیلاؤ، دنیا بھر میں زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور جمہوری معاشرتوں کی بیخ کنی پر حکومتِ چین کے خلاف نکل کھڑے ہوئے

چینی حکام کی جانب سے آنے والی معلومات کی درستگیپر بھی بین الاقوامی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ووہان، جہاں سے یہ وائرس پیدا ہوا، میں اب کوئی نئے واقعات نہیں ہیں۔

اس وبا کو ہرانے میں عالمی کوششوں میں ایک کلیدی کردار ڈاکٹر انتھونی فاؤچیی نے کہا کہ اگر، تو اب دنیا کووڈ-19 سے لڑنے کے لیے ایک خاصی بہتر صورت میں ہوتی۔

اب اس بحران کے دوران، افغانستان، پاکستان، وسط ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں طبی آلات برآمد کر کے چین ایک خیراندیش قوت نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم،ممالک کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد غیر معیاری یا ناقص طبی مصنوعات کی شکایت کر رہی ہے، جبکہ بیجنگ ان کی فروخت سے دسیوں لاکھوں کما رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500