صحت

دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے چین کی 'ویکسین سفارتکاری' پر بے چینی کا اظہار

پاکستان فارورڈ

image

28 مئی 2020 کو بیجنگ میں گریٹ ہال آف پیپل میں نیشنل پیپلز کانگریس کی اختتامی نشست کے بعد ایک محافظ تصویر بنواتے ہوئے۔ [نکولس اسفوری/ اے ایف پی]

چینی حکومت "ویکسین سفارتکاری" میں مشغول ہے ۔۔ ایک مؤثر کووڈ-19 ویکسین کو وعدے کو بطور سفارتکاری اشیاء کا تبادلہ استعمال کرتے ہوئے ۔۔ ان خطوں میں جسے وہ اپنے مفادات کے لیے ناگزیر تصور کرتی ہے، اور دنیا بھر میں بہت سے ممالک بیجنگ کے حتمی ارادوں سے زیادہ سے زیادہ محتاط ہو رہے ہیں۔

ایک ماہرِ وبائیات اور رینڈ کارپوریشن میں ایک چینی محقق، جینیفر ہوانگ بوئے نے کہاچین کا مکمل انحصار ایک اچھی ویکسین کی تیاری میں اس کی کامیابی پر ہے اور اس سے بھی زیادہ اس بات پر کہ اگر بہت سے ممالک اسے لینا چاہیں۔

انہوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا، "یہ اس کی سفارت کاری اور کووڈ پر بدلتے ہوئے بیانیئے کے لیے فائدہ مند ہے۔"

چینی حکومت عالمی وباء کے بیانیئے کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش میں ہے جو ووہان میں اس کی ابتدائی وباءسے دور، ملک کی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیابیکی کہانی ہے۔

image

انڈونیشی فوج کے دو جوان 27 مارچ کو جکارتہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس طبی سامان اور امداد کے ڈبوں کے پاس پہرہ دیتے ہوئے جو کووڈ-19 کورونا وائرس کے خلاف لڑنے میں انڈونیشیاء کی مدد کرنے کے لیے چین کی جانب سے بھیجے گئے 40 ٹن سامان کا حصہ ہیں۔ [فجرین راہارجو/ اے ایف پی]

image

چین کے قومی عجائب گھر میں نمائش میں رکھی گئی تصاویر میں سے ایک تصویر، جس میں کورونا وائرس کی عالمی وباء میں ملک کی کوششوں کو "ہیروآنہ" بتایا گیا ہے۔ [ژیانگ ڈونگ/چائنا ڈیلی]

مگر عالمی رہنماء -- جن کےممالک ابھی بھی عالمی وباء کی مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن میں ہیں جنہوں نے معیشت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا ہے -- عالمی وباء کو سنبھالنے میں بیجنگ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں.

عالمی وباء کو سنبھالنے اور اس کے نتیجے میں الزامات کا رخ موڑنے اور جھوٹ پھیلانے کی نیت سے غلط معلومات کی مہمات چلانے میں بیجنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

پچھلے سال جب یہ بیماری پہلی بار ظاہر ہوئی تھی تو اس نے اس کے سانس کی بیماری ہونے کی خبروں کو دبا لیا، اور اس کے ابتدائی مشورے نے بیماری کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم اہم بنا دیا۔

مغربی خفیہ ایجنسیوں نے بتایا کہ جبکہ دنیا میں کووڈ-19 کی ایک مؤثر ویکسین بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے،چینی ہیکروں نے ویکسین کی تیاری کا ڈیٹا چرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ کئی ممالک کی یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور دوا ساز کمپنیوں سے ڈیٹا چوری کیا جائے۔

چین آزمائش کے روایتی طریقے سے ہٹ کر ہزاروں چینیوں کو کووڈ-19 کی غیر تصدیق شدہ آزمائشی ویکسین دے رہا ہے اور ممکنہ طور پر عوامی صحت اور ایک حتمی تصدیق شدہ ویکسین کی تاثیر کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

بیجنگ کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود، اس کے حکام کی کوشش ہے کہ ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے "صرف زیادہ نقصان ہی ہو گا"، جیسا کہ چینی وزیرِ خارجہ وینگ ژی نے 28 ستمبر کو بیجنگ میں ایک فورم میں کہا تھا جس کی مشترکہ میزبانی چائنا پبلک ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی تھی۔

کووڈ-19 پر بدلتا ہوا بیانیہ

ایک طریقہ جس سے بیجنگ کو بیانیہ تبدیل ہونے کی امید ہے وہ ہے اتحادیوں اور ساتھ ہی ساتھ پرانے حریفوں سے کووڈ-19 کی کسی بھی کامیاب ویکسین تک خصوصی رسائی دینے کا وعدہ کرنا۔

11 ستمبر کو دی نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ چینی صدر ژی جن پنگ نے ستمبر کے اوائل میں انڈونیشیاء کو رجھانے کے لیے ویکسین کے تعاون کے وعدے کو استعمال کیا تھا، جو کہ خطے میں چینی معاشی حملوں سے ایک طویل عرصے سے بے آرام ہوا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان کے مطابق، ژی نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو تعلقات میں "ایک نئے روشن مقام" کے طور پر سراہا۔

اگست میں، چینی سربراہِ مملکت لی کیکیانگ نے تھائی لینڈ، لاؤس، کمبوڈیا اور ویتنام کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں تاکہ اس تنقید کا حل نکالا جا سکے جس میں چینی حکومت نے خطے میں ایک تباہ کن خشک سالی کی وجہ سے حصہ ڈالا تھا۔

26 اگست کو ایشیاء ٹائمز نے بتایا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ بیجنگ مفت ویکسین کی کافی مقداریں اضافی طور پر رکھے گا یا ویکسین کے فارمولے اور اجزاء انہیں بتائے گا۔

اس پیشکش کو عام طور پر اچھے سے لیا گیا تھا، مگر کچھ لوگوں نے سوال کیا آیا کہ بیجنگ کی فیاضی کی کوئی شرائط ہیں۔

دی نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ فلپائن میں، صدر روڈریگو دیوترتے نے جولائی میں قانون سازوں کو بتایا تھا کہ انہوں میں ویکسین میں مدد کے لیے ژی سے "درخواست کی تھی"۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ چینی حکومت کے جنوبی چین کے سمندرپر دعوے کی مخالفت نہیں کریں گے -- جہاں بیجنگ، دیگر ممالک کے علاقائی دعووں کے نقصان کے بدلے میں اور وسائل کے ننگے تعاقب میں، مصنوعی جزائر تعمیر کرتا رہا ہے اور ایک بھاری عسکری موجودگی قائم کر رہا ہے۔

ایک روز بعد، چینی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ چینی حکومت فلپائن کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین تک رسائی دینے کے لیے رضامند ہے۔

چینی 'امداد' پر سوالات اٹھانا

چینی حکام نے ایسی ہی باتیں افریقہ، لاطینی امریکہ، کیریبین، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں دیگر ممالک کے ساتھ بھی کی ہیں۔

جون میں ژی نے افریقی رہنماؤں سے کہا تھا، "ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جب چین میں کووڈ-19 ویکسین کی تیاری اور اطلاق مکمل ہو جائے گا، تو افریقی ممالک اس سے مستفید ہونے والے پہلے ممالک میں شامل ہوں گے۔"

میکسیکو حکومت کے مطابق، جولائی میں، وینگ نے وعدہ کیا تھا کہ چین لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کو ویکسین کے لیے 1 بلین ڈالر کے قرضے دے گا۔

ایشیاء ٹائمز نے خبر دی کہ اگست میں، انہوں نے مراکش کے وزیرِ خارجہ سے کہا تھا کہ بیجنگ کبھی بھی کووڈ-19 کی ویکسین کے لیے عالمی طلب سے منافع کمانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

وینگ نے کہا، "چینی ویکسینز عالمگیر عوامی اشیاء ہوں گی، اور جب سال کے اختتام پر ہم تیاری شروع کر سکیں گے تو ہم مراکش جیسے افریقی ممالک کو ترجیح دیں گے۔"

مگر ہر کوئی چینی "امداد" کے لیے بے تاب نہیں ہے۔ بہت سے لوگ ایسے اشتراک کے نتیجے پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف اسلام انڈونیشیاء، جو انڈونیشیاء میں چینی خارجہ پالیسی پر تحقیق کرتی ہے پر ایک استاد، محمد ذوالفقار رحمت نے پوچھا، "کیا ہمیں مشکوک ہونا چاہیئے، یا ہمیں شکرگزار ہونا چاہیئے؟"

انہوں نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا، "میرے خیال میں دونوں۔"

بنگلہ دیش میں، بیجنگ کی مقامی سائنوویک بائیوٹیک نے مرحلہ 3 کی آزمائش کے جزو کے طور پر ملک کو ویکسین کی 110،000 مفت مقداریں فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا جو ستمبر کے اختتام پر شروع ہونا تھا۔

کمپنی نے اتفاق کیا تھا کہ وہ ایک "سندیافتہ" بنگلہ دیشی دواساز کمپنی کو رعایتی نرخوں پر ٹیکے تیار کرنے دے گی -- اگر ویکسین محفوظ ثابت ہوتی ہے۔

ان پیشکشوں کو چین کی جانب سے بنگلہ دیش کو خلوصِ نیت کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا تھا، کیونکہ بہت سے لوگوں کو خوف ہے کہ چینی ویکسین ملک کے بیشتر شہریوں کے لیے بہت مہنگی ہو گی۔

3 اکتوبر کو دی ڈیلی سٹار نے خبر دی کہ 24 ستمبر کی ایک چٹھی میں، سائینوویک نے کہا کہ آزمائش اس وقت تک تاخیر کا شکار رہے گی جب تک کہ بنگلہ دیشی حکومت اس پہل کاری میں سرمایہ کاری میں شریک نہ ہو جائے۔

غیر مستحکم تعلقات کی مرمت کرنا

چین کی بیلٹ اینڈ روڈ پہل کاری (بی آر آئی) کے منصوبوں پر چینی منافع خوری، ماحولیاتی نقصان، سلامتی کے خدشات اور معاشی اختلاف پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ایشیاء ٹائمز نے خبر دی کہ بیجنگ ویکسین کی کم از کم 40 ملین مقداروں کی قابلِ بھروسہ فراہمی کی یقین دہانی کروا کر پاکستان میں اپنے تشخص کی بہتری کے لیے پُرامید ہے.

جہاں اس نے ایسے ہی عہدوپیمان افغانستان اور نیپال کے ساتھ بھی کیے ہیں۔

دی نیویارک ٹائمز نے بتایا کہ نیپال میں، جہاں چینی حکومت ایک سیمنٹ فیکٹری میں کلینکی آزمائش کرنے کی خواہشمند ہے، سیاستدان بیجنگ کے ارادوں سے محتاط ہیں۔

نیپال کے ایک سابق وزیرِ خارجہ اور ملک کی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت، نیپالی کانگریس کے رہنماء، پرکاش شرن ماہت نے سوال کیا، "کیا ہمیں اس کے ضمنی اثرات کے متعلق یقین دہانی نہیں کروائی جانی چاہیئے؟"

افغانستان میں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چین سے درآمد شدہ غیر معیاری ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای)نے افغانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

چین سے درآمد کردہ طبی سامان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کابل کے ایک معالج، ڈاکٹر نسیم ہاشمی نے مئی میں خبردار کیا، "ڈاکٹر جو سامان استعمال کرتے ہیں اس کے ناقص پن نے انہیں سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے، اور صحت کے اہلکاروں کی جانب سے استعمال کیے جانے سے قبل پی پی ای کو جانچنے کی ضرورت ہے۔"

پاکستان میں طبی اہلکاروں نے خراب چینی ساختہ وینٹی لیٹروںکو کووڈ-19 کے بہت سے مریضوں کی اموات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

گھٹیا وینٹی لیٹروں کے علاوہ، چینی ساختہ گھٹیا ٹمپریچر گنز، فیس ماسک اور جوتے ڈھانپنے والی اشیاءپر پاکستانی محکمۂ صحت کے اہلکار سخت غصے میں ہیں۔

بھارت نے بنگلہ دیش اور نیپال کو چین کی پیشکشوں کا اپنے اتحادیوں کو ویکسین فراہم کرنے کے وعدوں کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔

امریکی حکومت نے اس سال دنیا بھر میں کووڈ-19 کے خلاف لڑنے کے لیے 20 بلین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500