صحت

چینی ویکسین کے تجربات کو روک دیا گیا: رضاکار بازو ہلانے سے معذور

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ایک طبی کارکن، 9 دسمبر کو لاما، پیرو میں، چین کے ادارے سائنوفارما کی طرف سے بنائی جانے والی کووڈ-19 کی ویکسین دینے کے لیے ایک رضاکار کو تیار کر رہا ہے۔ [ارنسٹو بینویڈز/ اے ایف پی]

لاما، پیرو -- پیرو نے چین کے بڑے دوا ساز ادارے سائنوفارما کی طرف سے بنائی جانے والی کووڈ-19 کی ویکسین کے طبی تجربات کو اس کے تجرباتی رضاکاروں میں سے کم از کم ایک میں اعصابی مسائل کا پتہ چلنے کے بعد ملتوی کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پیرو قومی ادارہ صحت نے جمعہ (11 دسمبر) کو کہا کہ اس نے ایک رضاکار کو اپنے بازو اور ٹانگیں ہلانے میں مشکلات کا سامنا کرنے پر، ان تجربات کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف محقق جرمن مالگا نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کیے جانے والے تبصرے میں کہا کہ "کئی دن پہلے ہم نے ریگولیٹری حکام کو اشارہ دیا تھا، جیسا کہ ہمیں کرنا لازمی ہے، کہ ان تجربات میں شامل ہمارے ایک رضاکار میں اعصابی علامات سامنے آئی ہیں جو کہ گوئلین بیری سنڈروم نامی ایک بیماری کی علامات سے مماثلت رکھتی ہیں"۔

گوئلین بیری سنڈروم ایک کمیاب اور غیر متعدی بیماری ہے جو کہ بازو اور ٹانگوں کی حرکت پر اثر کرتی ہے۔ پیرو نے جون 2019 میں متعدد علاقوں میں کئی واقعات کے سامنے آنے کے بعد، پانچ علاقوں میں عارضی طور پر صحت کی ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر دیا تھا۔

1970 کی دہائی میں، امریکی شہریوں کو سوائن فلو کی ایک مبینہ تباہ کن قسم کے خلاف ویکیسن دینے کی مہم کو، 450 افراد جن کو ویکیسن دی گئی تھی، میں علامات سامنے آنے کے بعد، جس سے فالج بھی ہو سکتا ہے، روک دیا گیا تھا۔

سائنوفارما ویکیسن کے لیے پیرو کے کلینیکل ٹرائلز، تقریبا 12,000 افراد کا ٹیسٹ کرنے کے بعد، اس ہفتہ اختتام پذیر ہونے تھے۔

تقریبا ایک ملین افراد کو سائنوفارما کی ویکیسن ہنگامی استعمال کے لیے دی گئی ہے، یہ بات بات کمپنی کے چیرمین نے نومبر میں کہی تھی۔ تاہم انہوں نے مخصوص اعداد و شمار فراہم نہیں کیے تھے۔

اس ادارے کے تجربات زیادہ تر بیرونِ ملک ہو رہے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین، مصر، پاکستان، اردان، پیرو اور ارجنٹینا شامل ہیں۔

کمپنی ویکسین کی تیاری میں "تمام پہلوؤں سے دنیا میں سب سے آگے" ہونے کا دعوی کرتی ہے تاہم اس نے اپنے تجربات کے لیے ابھی تک کوئی طبی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

چین میں جن افراد کو ویکسین دی گئی ہے وہ ادویات ساز کی طرف سے تجربات کے باقاعدہ شرکت کار نہیں ہیں بلکہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایسا رضاکارانہ طور پر کیا ہے۔

تاہم، مشاہدین کا کہنا ہے کہ کووڈ- 19 کے لیے ایک مصدقہ ویکیسن تیار کرنے والا پہلا ملک قرار دیے جانے کی دوڑ میں،بیجنگ اپنے شہریوں کو یہ ویکیسن لینے کے لیے آمادہ یا زبردستی تیار کرتا رہا ہے۔

بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات

چین کے طبی حکام اور ویکیسن بنانے والوں کی طرف سے شفافیت کی کمی نے دنیا بھر میں چین کے کووڈ-19 کی ویکیسن کے امیدواروں پر اعتبار کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس نے چین کی حکومت کی طرف سے اپنی خراب ہو جانے والی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے آخری ہتھیار کے طور پر ویکیسن کو تیار کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے،اس سے پہلے اس نے ابتدائی طور پروبائی مرض کی خبروں کو چھپا کردنیا کو ایک آفت میں مبتلا کر دیا تھا۔

مثال کے طور پر اتوار (13 دسمبر) کو کیے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ برازیل سے جواب دینے والوں میں سے 50 فیصد نے کہا کہ وہ چین کی بنی ہوئی ویکیسن نہیں لیں گے جس کے مقابلے میں 47 فیصد نے کہا کہ اسے لے لیں گے۔

چین کی چار ویکسینز، جس میں سائنو فارما بھی شامل ہے، تیاری کے آخری مراحل میں ہیں اور وہ بہت سے ممالک میں بڑے پیمانے پر انسانوں میں تجربات کے سلسلے میں بھی کافی زیادہ آگے ہے۔

مگر میڈرنا، ایسٹرازینکا اور جانسن اینڈ جانسن کی طرف سے تیار کی جانے والی ویکسیز کے برعکس، چین کے ادویات سازوں نے ان ویکسینز کے محفوظ ہونے یا اثرپذیر ہونے کے بارے میں بہت کم معلومات شائع کی ہیں۔

لندن کنسلٹنسی ایرفینیٹی سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، چین کی ویکیسن میں سب سے آگے کے امیدوار سائنوویک اور سائنوفارما کو نومبر کے وسط تک 500 ملین سے کم خوراکوں کا ایڈوانس آرڈر ملا تھا -- جس میں سے زیادہ تر ان ممالک سے ہے، جنہوں نے ان تجربات میں شرکت کی ہے۔

دریں اثناء، برطانیہ کی ایسٹرازینکا کو 2.4 بلین خوراکوں کا ایڈوانس آرڈر اور فائزر کو تقریبا نصف ارب کا آرڈر مل چکا ہے۔

جوں جوں مغربی ویکسینز کے آرڈرز اور ان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے، چین کی حکومت -- روس کے صدر ولادیمیر پوٹن جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع ہو گئی ہے جنہوں نے حال ہی میں اپنے ملک کی تجرباتی ویکیسن سپٹنک V کی تشہیر کی تھی -- اور اپنے ملک کے اندر بنائے گئے ٹیکے غریب ممالک کو پیش کرنے کی کوششوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

مگر یہ سخاوت صرف اور صرف نیکی کے لیے نہیں ہے بلکہ بیجنگ اس کے جواب میں طویل المعیاد سفارتی فوائد کی امید رکھتا ہے۔

امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات میں عالمی صحت کے سینئر فیلو ہوانگ یان زونگ نے اے ایف پی کو بتایا کہ "اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ چین ویکیسن سفارت کاری استعمال کر رہا ہےتاکہ وہ اپنی داغ دار ساکھ کو بہتر بنا سکے"۔

"یہ چین کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور سیاسی-جغرافیائی معاملات کو ٹھیک کرنے کا ایک ہتھیار بن گیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500