صحت

چینی ویکسین کووڈ-19 کے خلاف صرف '79 فیصد موثر' ہے، بیجنگ کا اعتراف

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

محکمۂ صحت کے اہلکار جیورجیو فرانیوتی 28 دسمبر کو میکسیکو شہر میں فائزر/بائیواین ٹیک کی کووڈ-19 کی ویکسین لگواتے ہوئے۔ [الفریڈو ایسٹریلا / اے ایف پی]

بدھ (30 دسمبر) کے روز چین کی سب سے بڑی دواساز کمپنی سائنوفارم نے کہا ہے کہ اس کی کورونا وائرس کی ویکسین مرحلہ 3 کی آزمائشوں میں 79 فیصد مؤثر پائی گئی ہے، جو کہ مخالفین فائزر-بائیواین ٹیک اور موڈرنا کی جانب سے تیار کردہ ٹیکوں سے کمتر ہے۔

چین، جہاں عالمی وباء سب سے پہلے ظاہر ہوئی تھی، کووڈ-19 کے لیے اپنی ویکسین تیار کرنے کے لیے مغرب کے ساتھ دوڑ لگا رہا تھا، جس میں پانچ ویکسینیں پہلے ہی بڑے پیمانے پر مرحلہ 3 کیکلینیکل آزمائشوں میں ہیں، مگر کوئی بھی باضابطہ طور پر ابھی منظور نہیں کی گئی ہے۔

30 دسمبر کا اعلان ایک امیدوار چینی ویکسین کے مؤثر ہونے کے متعلق جاری کردہ پہلا ڈیٹا تھا۔

بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بیالوجیکل پراڈکٹس، جو کہ سائنوفارم کی ایک ذیلی کمپنی ہے جو چائنا نیشنل بائیوٹک گروپ (سی این بی جی) کے ساتھ مل کر ویکسین تیار کرتی رہی ہے، نے کہا، "(سائنوفارم سی این بی جی بیجنگ) کی کووڈ-19 کے خلاف ویکسین کا حفاظتی اثر 79.34 فیصد ہے۔"

جرثومے کے اجزاء کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکوں کی قسم کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ سائنوفارم نے چین کے ڈرگ ریگولیٹر کو ناکارہ بنائے گئے کورونا وائرس کی ویکسین کی منظوری دینے کے لیے درخواست دی ہے۔

مگر چینی حکومت کو اپنی امیدوار ویکسینوں کے لیے بین الاقوامی اعتماد حاصل کرنے میں مشکلات درپیش رہی ہیں، جس میں جانچ کے نتائج میں شفافیت کی کمی ایک رکاوٹ رہی ہے۔

یہ مرحلہ 3 کی آزمائشوں کو مکمل کرنے میں سست رہی ہے، جو کہ بیرونِ ملک انجام دی جانی تھیں.

دریں اثناء، مغربی ممالک ویکسین متعارف کروانے اور منظوریوں کے ساتھ کافی آگے نکل گئے ہیں۔

فائزر-بائیواین ٹیک اور موڈرنا کی جانب سے سب سے آگے امیدوار ویکسینیں، جن کی مؤثر ہونے کی شرح، بالترتیب 95 اور 94 فیصد ہے، کی لاکھوں مقداریں بُک ہو چکی ہیں۔

شفافیت کی کمی اعتماد مجروح کر رہی ہے

چینی محکمۂ صحت کے حکام اور ویکسین تیار کرنے والوں کی جانب سے شفافیت میں کمی نے دنیا بھر میں چین کی کووڈ-19 ویکسین کے امیدواروں کا اعتماد مجروح کیا ہے۔

چینی حکومت کی جانب سے اپنی گری ہوئی ساکھ کو بھال کرنے کی کوششیں جو اس کی جانب سے شروع میں عالمی وباء کی خبروں کو دبانے کے ذریعے دنیا کو اس عفریت میں پھنسانے کے بعد ایک ویکسین کے لیے آخری لمحکے میں زور لگا کر کی گئی تھیں، خراب ہو گئی ہیں۔

مثال کے طور پر، 13 دسمبر کو کروائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں، پتہ چلا کہ برازیل میں 50 فیصد جواب دینے والوں نے کہا کہ وہ چین کی بنی ہوئی ویکسین نہیں لیں گے، جبکہ 47 فیصد نے کہا کہ وہ لیں گے۔

یہ ویکسین کی نسبتاً کم تاثیر کی شرح کی خبروں سے بھی پہلے کی بات ہے۔

موڈرنا، ایسٹرازینکا اور جانسن اینڈ جانسن کی جانب سے تیار کی جا رہی ویکسینوں کے معاملے کے برعکس، چینی دوا سازوں نے اپنی ویکسینوں کی حفاظت اور تاثیر کے متعلق بہت کم معلومات شائع کی ہیں۔

مغربی ممالک کی ویکسینوں کے آرڈرز اور اعتماد میں اضافے کے ساتھ، چینی حکومت -- روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حال ہی میں اپنے ملک کی تجرباتی ویکسین سپتنک پنجم کے لیے تشہیری مہم سے ملتا جلتا حربہ اختیار کرتے ہوئے -- اپنے ملک میں تیار کردہ ٹیکے غریب تر ممالک کو دینے کی پیشکش کے ساتھ آگے آئی ہے۔

مگر یہ فیاضی بالکل ہی بے غرض نہیں ہے، اس میں بیجنگ طویل مدتی سفارتی فائدے کے لیے پُرامید ہے۔

" اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چین اپنے مسخ شدہ تشخص کو بحال کرنے کی ایک کوشش میں ویکسین سفارتکاری پر عمل کر رہا ہے، دسمبر کے اوائل میں یو ایس کونسل فار فارن ریلیشنز میں عالمی صحت کے لیے ایک سینیئر فیلو، ہوانگ یانژونگ نے اے ایف پی کو بتایا تھا".

دریں اثناء، اس ہفتے چینی محکمۂ صحت کے حکام نے کہا تھا کہ ووہان میں زیرِ گردش اینٹی باڈیز کی جانب سے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ عالمی وباء کے مرکز میں کیسز کی تعداد سابقہ اطلاعات سے 10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

وہ خبر سوموار (28 دسمبر) کے روز ایک چینی صحافی کو چین میں کووڈ-19 کی وباء کے ابتدائی مراحل پر پھیلنے کے بارے میں خبر دینے کی وجہ سے چار سال جیل میں ڈال دیے جانے کے بعد آئی ہے اور چند ہی ہفتے بعد عالمی ادارۂ صحت وائرس کے ماخذ کی تحقیقات شروع کرنے جا رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500