دہشتگردی

افغان طالبان اور چین کے درمیان تعاون اویغور عسکریت پسندوں کو داعش-خراسان میں شامل ہونے پر مجبور کر سکتا ہے

از زرک خان

image

30 ستمبر کو کابل میں طالبان کے ارکان ایک پک اپ ٹرک کے پیچھے گشت کرتے ہوئے۔ [بلنٹ کلک / اے ایف پی]

اسلام آباد -- تمام اشارے افغان طالبان اور چین کے درمیان تعاون میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو تجزیہ کاروں کے بقول اویغور علیحدگی پسندوں کو افغانستان اور پاکستان میں "دولت اسلامیہ" (داعش) کے مقامی الحاق میں شامل ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

ماضی میں چین مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کو دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے، اور اس گروہ کو سنکیانگ میں کیے گئے اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، جہاں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ دس لاکھ سے زائد مسلمان تلقینِ عقیدہ کیمپوں میں قید ہیں.

اور جبکہ طالبان نے فروری 2020 میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں کسی بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا تھا، القاعدہ کے ارکان، ای ٹی آئی ایم ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر تنظیموں کے ارکان اگست میں افغانستان پر قبضے کے وقت طالبان کے ہمراہ لڑتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔

چین اور پاکستان نے ای ٹی آئی ایم اور اس کے اتحادی گروہوں، بشمول ٹی ٹی پی، کو چینی شہریوں اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو (بی آر آئی) سے منسلک منصوبوں پر حملے کرنے کے لیے موردِ الزام بھی ٹھہراتے رہے ہیں.

image

طالبان کے دورہ چین کے دوران، طالبان کے شریک بانی، ملا عبدالغنی برادر جولائی کے آخر میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ۔ [اے ایف پی]

image

سنہ 2019 میں داعش کے جنگجو صوبہ ننگرہار میں افغان حکام کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے صف آراء۔ [خالد زیرائی]

اسلام آباد اور بیجنگ نے ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کو 14 جولائی کو ہونے والے خودکش حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس میں نو چینی انجینئروں ہلاک ہوئے تھے، جو پاکستان کے ضلع کوہستان میں ایک پن بجلی کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک دفاعی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "بیجنگ افغان طالبان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ ای ٹی آئی ایم کے عسکریت پسندوں کو چینی حکام کے حوالے کریں اور افغانستان میں ان کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیں۔"

"لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ اگر بیجنگ کے دباؤ میں افغان طالبان ای ٹی آئی ایم کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہیں تو اویغور علیحدگی پسند افغانستان اور پاکستان میں مصروفِ عمل داعش کے مقامی الحاق شدہ تنظیم، داعش-خراسان [داعش-کے] میں شامل ہو سکتے ہیں۔"

دفاعی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو پہلے ہی داعش کے دوبارہ سامنے آنے پر تشویش ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ عسکریت پسند گروہ بین الاقوامی عسکری تنظیموں کو اپنی صفوں میں شمولیت کے لیے راغب کر سکتا ہے۔

داعش کے روابط

ای ٹی آئی ایم کا داعش کے ساتھ عملی تعلق قائم ہے کیونکہ اویغور علیحدگی پسندوں کی ایک بڑی تعداد شام میں اس گروہ میں شامل ہوئی تھی اور شامی صدر بشار الاسد کی افواج کے خلاف لڑی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے دسمبر 2017 میں یغور کے فعالیت پسندوں اور شامی اور چینی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ کم از کم 5 ہزار اویغور لڑنے کے لیے شام گئے تھے -- اگرچہ اس کے بعد سے بہت سے لوگ وہاں سے چلے گئے ہیں۔

جولائی میں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے شام کے صوبہ ادلب میں ای ٹی آئی ایم اور اس کی جانشین ترکستان اسلامک پارٹی (ٹی آئی پی) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 1،500 سے 3،000 کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا تھا۔

دریں اثناء افغانستان میں، ای ٹی آئی ایم کے کئی سو ارکان کے ہونے کا یقین ہے وہ اور بدخشاں، فریاب، کابل اور نورستان صوبوں میں سرگرم ہیں۔

یو این ایس سی نے مشاہدہ کیا کہ افغانستان میں ای ٹی آئی ایم نے "بنیادی طور پر چین کو نشانہ بنانے والے اقدامات" پر توجہ مرکوز کی ہے، جبکہ سیریئن عرب ریپبلک میں گروپ کا "زیادہ عالمی نقطۂ نظر" تھا۔

داعش-کے افغان طالبان کے واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا فائدہ اٹھاتی رہی ہے، جس نے اپنے آپ کو اس خطے کی واحد باغی تحریک کے طور پر سُورما بنایا ہوا ہے جس نے ابھی تک صلح نہیں کی اور بین الاقوامی عسکری گروہوں جیسے ای ٹی آئی ایم کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔

داعش نے اپنے باضابطہ جریدے النباء میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کا مذاق اڑایا ہے، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ طالبان نے حقیقی "جہاد" میں حصہ نہیں لیا، اور القاعدہ اور دیگر گروہوں پر "طالبان کو مبارکباد" دینے پر تنقید کی ہے، اور اعلان کیا ہے کہ یہ افغانستان میں "جہاد" کے ایک نئے مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔

بیجنگ اور طالبان کے درمیان تعاون

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان اور بیجنگ کے درمیان تعاون سے ای ٹی آئی ایم اور داعش کے درمیان قریبی تعلقات کو خطرہ ہے۔

چین نے 8 ستمبر کو طالبان کی عبوری حکومت کے لیے 31 ملین ڈالر کی فوری امداد کا وعدہ کیا تھا کیونکہ اس گروہ نے پورے افغانستان میں اپنی سخت حکمرانی نافذ کی تھی.

اس سے پہلے، جولائی میں، طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں بیجنگ میں حکام سے ملاقات کی تھی۔

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کر کے، طالبان نے اشارہ دیا کہ وہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف چین کے مظالم کو نظر انداز کرنے پر راضی ہیں، جسے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ اور مغربی حکومتیں نسل کشی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

دریں اثناء، لادین سی سی پی، طالبان کے شدت پسند نظریئے اور سابقہ افغان حکومت کی زبردستی بے دخلی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے.

خبروں کے مطابق چینی حکام نے باغی گروپ کی افغانستان میں ایک "اہم عسکری اور سیاسی قوت" کے طور پر تعریف کی۔

اسلام آباد کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار عبدالکریم، جو عسکریت پسند گروہوں کے جرائد پر نظر رکھتے ہیں، نے کہا، "چین کے مسلمانوں کے ساتھ چین کے ناروا سلوک پر افغان طالبان کی خاموشی نے داعش-کے کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ آئی ٹی آئی ایم کو اپنی صفوں کی طرف راغب کر لے۔"

انہوں نے کہا، دوسری جانب، داعش باقاعدہ طور پر یغور زبان میں جرائد کے شمارے شائع کرتی ہے جن میں وہ بیجنگ پر سنکیانگ کے باشندوں کے ساتھ بدسلوکی پر تنقید کرتی ہے۔

چینی حکام کی جانب سے سنکیانگ میں کیے گئے بعض جرائم خاص طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے پریشان کن رہے ہیں، بشمول خطے میں ایک ہزار سے زائد اماموں اور مذہبی شخصیات کی من مانی حراست کم از کم 16000 مساجد کی شہادت اور مسلمان خواتین کی منظم عصمت دری.

طالبان، جو خود کو اسلام کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، -- اچھی قیمت پر -- مسلمانوں کے قتل اور غلام بنائے جانے کو نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500