https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/31/feature-01
حقوقِ انسانی

سابقہ قیدیوں نے چین کے تلقینی کیمپوں کی ہولناک تفصیلات بتائی ہیں

پاکستان فارورڈ

image

چین کے سنکیانگ علاقے کی ادخا مسجد میں 5 جون 2019 کو رمضان کے اختتام پر ایغور مرد عید الفطر کی نماز کے بعد ایک سب وے کے داخلی راستے کے قریب سے گزر رہے ہیں۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

سنکیانگ میں چین کے تلقینی کیمپوں کے 28 سابقہ قیدی سامنے آئے ہیں اور انہوں نے اس قسم کے استحصال، محرومی اور مسلسل تذلیل پر روشنی ڈالی ہے جس کا ان خفیہ کیمپوں میں مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں میں،بیجنگ نے ایک ملین سے زیادہ مسلمانوں، جن میں قازق اور کرغیز النسل بھی شامل ہیں، کو ان کیمپوں میں جانے پر مجبور کیا جہاں "بھیانک اور منظم استحصال" ہوا جس میں تشدد اور خواتین کو جبری طور پر بانجھ بنانا بھی شامل ہے۔

بزفیڈ کی طرف سے کی جانے والی دو حصوں کی تفتیش جسے 27 اگست کو شائع کیا گیا، میں قیدیوں کو درپیش آنے والے تجربات کے بارے میں انتہائی گہری تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

جن لوگوں کا انٹرویو لیا گیا ان میں سے ایک نرسول ہے جو کہ 60 سالہ قازق نژاد خاتون ہے اور جوتچینگ شہر کی رہائشی ہے۔

image

سنکیانگ، چین کی کیمونسٹ پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری اور سنکیانگ ایغور خودمختار علاقہ کے چیرمین، شہرت ذاکر گزشتہ سال 9 دسمبر کو بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔ چین کے حکام کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں "انسانی حقوق کے احترام اور حفاظت کے بنیادی قانون" پر "سختی سے عمل" کیا جاتا ہے۔ [نیکولس اسفوری/ اے ایف پی]

ایک دن اس کے دروازے پر دستک ہوئی جب نرسول نے دروازہ کھولا تو ایک خاتون دو باوردی پولیس اہلکاروں کے ساتھ گھس آئی۔ انہوں نے اسے بتایا کہ وہ اسے "طبی معائینے" کے لیے لے جا رہے ہیں۔

پہلے ایک کلینک پر نرسول کے بہت سے خون کے ٹیسٹ کیے گئے۔ پھر حکام نے اس سے کچھ ایسی دستاویزات پر دستخط کروائے جس کی اسے کوئی سمجھ نہیں آئی تھی اور پھر اس کی انگلیوں کے نشان لیے گئے۔ جس کے بعد وہ گھنٹوں تک بغیر کھانے اور پانی کے انتظار کرتی رہی۔ ایک چینی پولیس افسر نے اسے بتایا کہ اسے "کچھ تعلیم دینے" کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔

'ہم سے جانوروں جیسا سلوک کیا گیا'

چین کی پولیس اسے ایک بدنام انتہائی سیکورٹی کے کیمپ میں لے گئی، جہاں اسے مسلح گارڈوں اور حملہ آور کتوں نے گھیرا، اسے دیگر درجنوں مردوں اور خاتون قیدیوں کے سامنے اپنے کپڑے اتارنے پڑے اور کیمپ کی وردی پہننی پڑی۔

قازق نژاد 48 سالہ فارماسسٹ فریدہ جسے فروری 2018 میں قید کیا گیا تھا نے کہا کہ "ہم قطار میں کھڑے ہوئے اور ہم نے اپنے کپڑے اتار کر نیلی وردی پہنی۔ انہوں نے ہم سے جانوروں جیسا سلوک کیا۔ میں رونا چاہتی تھی، میں شرمندہ تھی، آپ جانتے ہیں، دوسروں کے سامنے اپنے کپڑے اتارنے پر"۔

پھر چینیوں نے اس کے بال انتہائی چھوٹے کاٹ دیے۔

نرسول نے کہا کہ "میں اپنے بال رکھنا چاہتی تھی۔ ایک قازق خاتون کے لیے لمبے بال رکھنا بہت ضروری ہے۔ میں نے انہیں اس وقت سے لمبا کیا تھا جب میں چھوٹی بچی تھی، میں نے اپنی زندگی میں انہیں کبھی نہیں کاٹا تھا۔ بال عورت کی خوبصورتی ہیں"۔

تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ "گاہے بگاہے قیدیوں سے تفتیش کی جاتی تھی جہاں انہیں اپنی مبینہ سرکشی، مذہبی رسومات، غیر ملکی سفر اور آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں اپنی داستان کو بار بار دہرانا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "تفتیش کار ان سیشنز کی انتہائی احتیاط سے دستاویز بندی کرتے تھے اور ان کا نتیجہ اکثر قیدیوں کی طرف سے اپنے آپ پر تنقید لکھنے کی صورت میں نکلتا تھا۔ جن لوگوں کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا، انہیں دستخط کرنے کے لیے دستاویزات دی جاتی تھیں"۔

نگرانی صرف کیمروں اور گارڈز تک محدود نہیں تھی۔ رات کے وقت، قیدیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے کمروں میں کھڑے ہو کر دوسرے قیدیوں کی شفٹوں میں نگرانی کریں۔ اگر کمرے میں کوئی بھی تمیز کا مظاہرہ نہ کرتا، مثال کے طور پر ایک دوسرے سے جھگڑا کرتا یا چینی زبان کی بجائے ایغور یا کرد زبان میں بات کرتا تو جو نگرانی کر رہے ہوتے تھے، انہیں بھی سزا ملنے کا خطرہ ہوتا۔ عام طور پر ان کی پٹائی کی جاتی اور خواتین کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جاتا۔

دنوں تک تنہا اور طوق بند

نرسول نے کہا کہ اسے کبھی مارا پیٹا نہیں گیا مگر ایک دن اس کا دوسری قیدی سے جھگڑا ہو گیا اور گارڈوں نے اس کے سر پر بوری ڈال دی اور اسے قیدِ تنہائی کے کمرے میں لے گئے۔

تین دن تک اسے اس چھوٹے سے کمرے میں تنہا چھوڑ دیا گیا جس میں کوئی کھڑی یا روشنی نہیں تھی اور صرف ایک دھاتی کرسی اور بالٹی موجود تھی۔ اس کے ٹخنوں کو ایک دوسرے سے باندھ دیا گیا تھا۔

تقریبا ہر سابقہ قیدی جس نے بزفیڈ نیوز سے بات کی ہے، نے بتایا کہ انہیں ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں منتقل کیا جاتا رہا اور ہمیشہ یوں لگتا کہ لوگ جیل کی عمارات میں آتے جاتے رہتے ہیں۔

ان میں سے ایک 27 سالہ قازق خاتون دینا نوردیابی بھی ہیں جو کپڑے بنانے کا ایک کامیاب کاروبار چلاتی ہیں۔ 14 اکتوبر 2017 کو قید کیے جانے کے بعد سے، نوردیابی کو پانچ مختلف کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کیمپ میں "یوں لگتا تھا کہ ہر رات 50 نئے لوگ آ رہے ہیں۔ آپ ان کی ٹانگوں پر لگی بیڑیوں کی آواز سن سکتے تھے"۔

اپنی گرفتاری کے ایک سال کے بعد، نرسول کو آخرکار رہا کر دیا گیا۔چینیوں نے اس سے پوچھا کہ آیا وہ قازقستان جانا چاہتی ہے اور اس نے کہا کہ ہاں۔ حکام نے اس سے بہت سے کاغذات پر دستخط کروائے جس میں اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی کو بھی اپنے اس تجربے کے بارے میں نہیں بتائے گی۔

وہ چین میں اس وقت تک نظربند رہی جب تک کہ وہ ہمیشہ کے لیے قازقستان نہیں آ گئی۔

چین کے تلقینی کیمپوں میں قیدیوں کے تجربات کے بارے میں بزفیڈ کی ویب سائٹ پر مزید پڑھیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)