حقوقِ انسانی

مسلمان خاتون کی جانب سے سنکیانگ میں منظم عصمت دری کی چینی مہم کی تفصیلات

از پاکستان فارورڈ

image

دو یغور نسلی کی خواتین اُرمچی، سنکیانگ میں گرینڈ بازار کے باہر پہرے پر کھڑے نیم فوجی پولیس اہلکاروں کے پاس سے گزر رہی ہیں۔ [پیٹر پارکس / اے ایف پی]

سابقہ قیدیوں اور ایک محافظ نے حال ہی میں بی بی سی کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ سنکیانگ کے علاقے میں 'دوبارہ تعلیم دینے' کے چینی کیمپوں میں مسلمان خواتین کی ایک منظم طریقے سے عصمت دری کی جاتی ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گواہوں کی شہادتوں پر مبنی طویل تحقیقات کی غلیظ تفصیلات نے پوری بین الاقوامی برادری میں صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جس نے سنکیانگ میں چینی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ترجیح بنا رکھا ہے۔

گواہان اور سابقہ قیدیوں نے بجلی کے جھٹکوں کے ذریعے تشدد کے متعلق بتایا، بشمول محافظوں کی جانب سے بجلی سے چارج کی گئی چھڑیوں کو استعمال کرتے ہوئے عصمت دری کرنا، کھانے پینے کی اشیاء سے محروم رکھنا، مار پیٹ کرنا، اجتماعی عصمت دری اور جبری طور پر بانجھ بنانا۔

'ہر کسی کی روح کو کچلنے' کے لیے تیار کردہ تشدد

42 سالہ، طورسنائے ضیاء الدین نے جنگی و سیاسی قیدیوں کے چینی کیمپوں میں کُل نو ماہ کاٹے -- پہلے 2016 میں تقریباً ایک مہینہ اور پھر دوبارہ 2018 میں۔

image

31 مئی 2019 کو چین کے علاقے سنکیانگ میں ہوتان کے نواحی علاقے میں ایک خاتون یغور قبرستان میں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

image

4 جون 2019 کو سنکیانگ کے علاقے، اتکو میں سکول کے بچے جاسوس کیمروں کے نیچے سے جاتے ہوئے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

image

4 جون 2019 کو لی گئی اس تصویر میں، ایک ایسی عمارت دکھائی گئی ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ 'دوبارہ تعلیم دینے' کا کیمپ ہے جہاں چین کے علاقے سنکیانگ میں بیشتر مسلمان نسلی اقلیتیں زیرِ حراست ہیں۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

ضیاء الدین نے کہا کہ ان کی حراست کا پہلا عرصہ نسبتاً آسان تھا۔ ایک ماہ کے بعد انہیں معدے کا السر ہو گیا اور انہیں رہا کر دیا گیا۔

اس کا شوہر، ایک قازق جسے بھی زیرِ حراست رکھا گیا تھا، روزگار کے سلسلے میں قازقستان واپس چلا گیا، مگر حکام نے ضیاء الدین کا پاسپورٹ قبضے میں لے کر، اسے سنکیانگ میں پھنسا لیا۔

دو برس بعد، ضیاء الدین کو ہدایات ملیں کہ وہ مقامی پولیس تھانے جائے اور وہاں اسے بتایا گیا کہ اسے "مزید تعلیم" کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں، پولیس نے قیدیوں کے بال کاٹ کر چھوٹے کر دیئے اور انہیں اپنے سیلوں میں پراپیگنڈہ پروگرام دیکھنے پر مجبور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آخرکار ان کے غیر وضاحت کردہ طبی ٹیسٹ ہوئے، انہیں گولیاں دی گئیں اور ہر 15 دن بعد زبردستی ایسی "ویکسین" کے ٹیکے لگائے جاتے جس سے متلی ہوتی اور بے حسی طاری ہو جاتی۔ حکام نے جبراً ان میں مانع حمل آلات لا دیئے یعنی انہیں بانجھ بنا دیا۔

ضیاء الدین نے روزانہ رات کو ہونے والی دہشت بیان کی۔

انہوں نے کہا "روزانہ رات کو" ماسک پہنے چینی مرد ان خواتین کو منتخب کرنے کے لیے سیلوں میں آ جاتے جنہیں وہ "کال کوٹھڑی" میں لے جانا چاہتے تھے، جہاں نگرانی والے کوئی کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے۔

ضیاء الدین نے کہا کہ کچھ خواتین جنہیں لے جایا گیا تھا کبھی واپس نہیں لوٹیں۔ جو واپس لوٹی تھیں انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ سیل میں دوسروں کو مت بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا، "آپ کسی کو نہیں بتا سکتے کہ کیا ہوا تھا؛ آپ صرف خاموشی سے لیٹ سکتے ہیں۔ یہ ہر کسی کی روح کو کچلنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔"

ضیاء الدین نے کہا کہ بہت سی راتیں، وہ انہیں بھی لے کر گئے۔

یاد کرتے وقت نمایاں پریشانی کے اظہار کے ساتھ، انہوں نے کہا، "وہ صرف عصمت ہی نہیں لوٹتے بلکہ آپ کے پورے جسم پر کاٹتے بھی ہیں؛ آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ انسان ہیں یاں جانور۔ وہ جسم کا کوئی حصہ نہیں چھوڑتے۔"

ضیاء الدین نے کہا، "میرے ساتھ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ اور پھر ایک ہی شخص نہیں ہوتا جو آپ پر تشدد کرتا ہے، محض ایک درندہ نہیں۔ ہر بار وہ دو یا تین آدمی ہوتے تھے۔"

گلزائرہ الخان، سنکیانگ سے تعلق رکھنے والی ایک قازق خاتون جنہیں کیمپوں کے نظام میں 18 ماہ کے لیے قید کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ انہیں مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ یغور خواتین کو بے لباس کریں اور ان کے ہاتھ باند دیں، جس کے بعد انہیں چینی مردوں کے ساتھ تنہا چھوڑ دیں۔ بعد میں، وہ کمروں کی صفائی کرتی تھیں۔

دکھانے کے لیے اپنی کلائیاں اپنے سر کے پیچھے باندھ کر دکھاتے ہوئے، انہوں نے بی بی سی کو بتایا، "میرا کام ان کے بالائی بدن کو برہنہ کرنا اور ان کے ہاتھ باندھنا تھا تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔"

الخان نے کہا، "پھر میں خواتین کو کمرے میں چھوڑ کر چلی جاتی، اور ایک مرد کمرے میں داخل ہوتا -- کوئی باہر کا چینی آدمی یا پولیس اہلکار۔ میں خاموشی کے ساتھ دروازے کے باہر بیٹھ جاتی، اور جب آدمی کمرے سے چلا جاتا، میں خاتون کو غسل کے لیے لے جاتی۔"

انہوں نے کہا کہ چینی آدمی "خوبصورت ترین نوجوان قیدیوں کے انتخاب کے لیے پیسے دیتے تھے۔"

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ مزاحمت یا مداخلت کرتیں۔

'چیخیں پوری عمارت میں گونجتیں'

ضیاء الدین نے کہا کہ قیدی حب الوطنی کے چینی گیت گاتے اور چینی صدر شی پنگ کے متعلق حب الوطنی کے ٹی وی پروگرام دیکھتے ہوئے کئی گھنٹے بھی گزارتے تھے۔

انہوں نے کہا، "آپ کیمپ سے باہر کی زندگی کے متعلق سوچنا بھول جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آیا انہوں نے ہمارے دماغ دھو دیئے تھے یا یہ ٹیکوں اور گولیوں کا مضر اثر تھا، مگر آپ اس سے آگے کچھ بھی نہیں سوچ سکتے کہ آپ کی خواہش ہے آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ خوراک سے محرومی اتنی شدید ہوتی ہے۔"

کیمپ کے ایک سابقہ محافظ کے مطابق، کیمپ کا عملہ شی کے متعلق کتب میں سے پیرے درستگی کے ساتھ یاد کرنے میں ناکامی جیسی خلاف ورزیوں کی سزا دینے کے لیے خوراک سے محرومی کو استعمال کرتا تھا۔

چین سے باہر کسی ملک سے ویڈیو لنک پر بات کرتے ہوئے اس کے بی بی سی کو بتایا، "قیدیوں کو بلاشبہ کئی اقسام کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔"

انہوں نے تصدیق کی کہ کیمپ کے محافظ کئی طرح کے محسوس کردہ جرائم کا جبری اقبال کروانے کے لیے "الیکٹروکٹنگ آلات" استعمال کرتے تھے۔

انہوں نے کہا، "وہ اقبالِ جرم میرے دل پر لکھے ہوئے ہیں۔"

قلبِ نور صدیق، سنکیانگ کی ایک ازبک خاتون، ان چینی زبان کی استانیوں میں سے ایک تھی جنہیں قیدیوں کو سبق دینے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔

یغور انسانی حقوق منصوبے کی ایک شہادت میں صدیق نے کہا کہ "چار قسم کے برقی جھٹکے تھے: کرسی، دستانے، ہیلمٹ اور ایک چھڑی کے ساتھ غیر فطری طور پر عصمت دری۔"

ان کا کہنا تھا، "چیخیں پوری عمارت میں گونجتی تھیں۔ میں دوپہر کے کھانے اور بعض اوقات جب میں کلاس میں ہوتی تھی تو مجھے وہ سنائی دیتی تھیں۔"

کیمپوں میں کام کرنے پر مجبور ایک اور استانی، سائرہ گل سوئیتبیف نے کہا، "عصمت دری عام بات تھی"۔

انہوں نے ایک نوجوان خاتون کی سرِ عام اجتماعی آبرو ریزی دیکھنے کے متعلق بتایا جسے کیمپ کا عملہ تقریباً 100 دیگر قیدیوں کے سامنے جبری اقبال کروانے کے لیے لایا تھا۔

سوئیتبیف نے بی بی سی کو بتایا، "اس کے بعد، ہر کسی کے سامنے، پولیس نے باری باری اس کی عصمت دری کی۔"

"جبکہ یہ جانچ کرتے ہوئے، انہوں نے بڑے دھیان سے لوگوں کو دیکھا اور جس کسی نے بھی مزاحمت کی اسے اٹھا لیا، ان کی کلائیاں باندھیں، ان کی آنکھیں بند کیں، یا منہ دوسری طرف گھما دیا، اور انہیں سزا دینے کے لیے لے گئے۔

'واضح شیطانی کام'

گواہوں کی تازہ ترین شہادتوں نے امریکہ اور برطانیہ میں حکام میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جن کی حکومتیں سنکیانگ میں چینی حکومت کی کارروائیوں کی سرِعام مذمت کرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔

بیجنگ کی کارروائیاں "نسل کشی" ہیں ، یہ بات گزشتہ ماہ امریکی حکومت نے کہی تھی۔

جمعرات (4 فروری) کو امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا، "یہ مظالم ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور ان کے سنگین عواقب ہونے چاہیئیں۔"

ایشیاء کے لیے ایک برطانوی وزیر نائیجل ایڈمز نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ نے "واضح شیطانی کاموں" کا انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے جمعرات کے روز پارلیمنٹ کو بتایا، "ان خلاف ورزیوں کے پیمانے اور شدت کے ثبوت اب حد سے بڑھ گئے ہیں؛ یہ ایک حقیقی خوفناک تصویر دکھاتا ہے۔"

رپورٹ کے نتیجے میں چینی حکومت سے نئے مطالبات کئے جانے لگے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ کے حقوق کے انسپکٹروں کو سنکیانگ کا دورہ کرنے کیے رسائی دے۔

حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں ایک ملین سے زائد یغور اور دیگر ترک نژاد مسلمان، بشمول نسلی قازق، اور کرغیز، تلقینِ عقیدہ کیمپوں میں محبوس ہیں جہاں "خوفناک اور منظم بدسلوکیاں" وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

آغاز میں کیمپوں کے وجود کی تردید کرنے کے بعد، اب بیجنگ انہیں "حرفتی تربیتی مراکز" کہہ کر ان کا دفاع کرتا ہے جن کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ کرنا اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے.

اگست میں شائع ہونے والی بزفیڈ نیوز کی تحقیقات نے سنکیانگ کے علاقے میں جیلوں کے نشانات والی سینکڑوں عمارات یا حراستی کیمپوں کو بے نقاب کیا تھا، جن میں سے بہت سی عمارات گزشتہ تین برسوں میں تعمیر کی گئی ہیں۔

دسمبر کے آخر میں شائع ہونے والی مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ کمیونسٹ ریاست نے سنکیانگ میں 100 سے زائد نئے حراستی مراکز تعمیر کرنا جاری رکھا ہوا ہے.

پاکستانی شہریوں کی یغور بیویاں اور بچے بھی مبینہ طور پر چینی حکومت کے بدنامِ زمانہ "تلقینِ عقیدہ کیمپوں" میں رکھے جا رہے ہیں۔

چین کی یغور پالیسی 'بالکل چوٹی پر چلی گئی ہے'

چینی وزیرِ خارجہ نے بی بی کی تحقیقات کو "جھوٹ" اور جبری بانجھ بنانے کے الزامات کو "مکمل طور پر بے بنیاد" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

ایک بیان میں چینی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا، "چینی حکومت تمام نسلی اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کا مساوی تحفظ کرتی ہے"، ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت "حقوقِ نسواں کے تحفظ کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے"۔

لیکن ایک آزاد تحقیق کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں سنکیانگ میں شرح پیدائش کم ہو گئی ہے، جسے تجزیہ کار "آبادیاتی نسل کشی" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

چینی سفارت کار ایک اور وضاحت پیش کرتے ہیں۔

سنکیانگ ترقیاتی تحقیقی مرکز کی جانب سے ایک غیر مطبوعہ تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے، امریکہ میں چینی سفارت خانے نے 7 جنوری کو ٹویٹ کیا تھا، "سنکیانگ میں [یغور] خواتین کے ذہنوں کو آزاد کیا گیا اور جنسی مساوات اور تولیدی صحت کو فروغ دیا گیا، جس سے اب وہ مزید بچے جننے والے مشینیں نہیں رہیں.

چین میں ایک سابقہ برطانوی سفیر اور اب رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ایک سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو، چارلس پارٹن نے کہا، کہ یغوروں کے خلاف چینی پالیسی "بالکل چوٹی پر چلی گئی ہے"۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا، "اب قطعاً کوئی شبہ نہیں ہے کہ جو بھی ہے یہ شی جنگ پنگ کی پالیسی ہے۔"

پارٹن نے کہا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ شی یا دیگر اعلیٰ حکام نے آبرو ریزی یا تشدد کرنے کی ہدایات یا منظوری دی ہو گی، مگر وہ "اس سے یقیناً باخبر ہوں گے۔"

انہوں نے کہا، "میرے خیال میں اعلیٰ حکام نے محض صرفِ نظر کرنے کو ترجیح دی ہو گی۔ لکیر اس پالیسی کو بہت بے رحمی سے نافذ کرنے تک چلی گئی ہے، اور یہی کچھ ہو رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500