حقوقِ نسواں

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود نڈر افغان خواتین کی جانب سے اپنے حقوق کا مطالبہ

از عمران اور اے ایف پی

2 ستمبر کو درجنوں افغان خواتین نے طالبان کی اپنے حقوق پر پابندیوں کے خلاف ایک نایاب احتجاج کیا۔ تقریباً 50 خواتین مظاہرین کے گروپ نے ہرات شہر کی سڑکوں پر پلے کارڈز لہراتے ہوئے نعرے لگائے کہ 'تعلیم ، کام اور تحفظ ہمارا حق ہے'۔ [عمران/سلام ٹائمز]

ہرات - سینکڑوں نڈر خواتین نے منگل (7 ستمبر) کے روز کابل کی سڑکوں پر مارچ کیا، جس میں طالبان سے اپنے حقوق کا احترام کرنے اور ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلانے پر جواب دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزاحمت کے ایک مظاہرے کے طور پر کابل بھر میں کم از کم تین ریلیاں نکالی گئیں جو کہ طالبان کے اقتدار کے آخری دور میں ناقابلِ تصور بات تھی - جب لوگوں کو سرِعام پھانسی دی جاتی تھی اور چوروں کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے تھے۔

ایک ریلی میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والی سارہ نے اے ایف پی کو بتایا، "افغان خواتین چاہتی ہیں کہ ان کا ملک آزاد ہو۔ وہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو چاہتی ہیں۔ ہم تھک گئے ہیں۔"

25 سالہ خاتون کا کہنا تھا، "ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے سبھی لوگ معمول کی زندگیاں گزاریں۔ ہم کب تک اس صورتحال میں جیئیں گے؟"

image

7 ستمبر کو افغان خواتین کابل میں ایک ریلی کے دوران نعرے لگاتے ہوئے۔ [ہوشانگ ہاشیمی/اے ایف پی]

image

2 ستمبر کو ہرات شہر میں افغان خواتین مظاہرین ایک احتجاج کے دوران طالبان کے ایک رکن کے ساتھ بات کرتے ہوئے۔ [عمران/سلام ٹائمز]

image

2 ستمبر کو ہرات شہر میں درجنوں خواتین نے ہرات کے گورنر کے دفتر کے سامنے ریلی نکالی اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کی ماضی کی کامیابیوں کو محفوظ رکھیں اور انہیں مستقبل کی حکومت میں شامل کریں۔ [عمران/سلام ٹائمز]

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک علیحدہ ریلی کی ویڈیوز میں 100 سے زائد افراد کو طالبان کے مسلح ارکان کی نظروں کے سامنے سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ایک اور احتجاجی، زہرہ جو کہ کابل کی ایک ڈاکٹر ہیں، کا کہنا تھا: "ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان آزاد ہو جائے۔ ہم آزادی چاہتے ہیں۔"

حالیہ دنوں میں چھوٹے شہروں میں کہیں کہیں مظاہرے ہوئے ہیں، بشمول ہرات اور مزار شریف، جہاں خواتین نے نئی حکومت کا حصہ بننے کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت میں امن و امان رکھنے کے انچارج طالبان اہلکار جنرل مبین نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں طالبان پہرے داروں نے موقع پر بلایا جن کا کہنا تھا کہ "خواتین خلل پیدا کر رہی ہیں"۔

مظاہرے کی کوریج کرنے والے ایک افغان صحافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس کا پریس کا شناختی کارڈ اور کیمرہ طالبان نے ضبط کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا، "مجھے لات ماری گئی چلے جانے کو کہا گیا۔"

جمعہ کے روز، تقریباً 30 خواتین کام کے حق اور حکومت میں شمولیت کا مطالبہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔

ہرات میں مظاہرے

ہرات میں خواتین نے گزشتہ جمعرات کو طالبان کی طرف سے نافذ کردہ اقدامات کے خلاف احتجاج کیا۔

ہرات میں سرکاری اور نجی شعبے میں کام کرنے والی متعدد خواتین کا کہنا ہے کہ سقوطِ ہرات شہر کے بعد طالبان انہیں کام پر جانے سے روکتے رہے ہیں۔

تقریباً 50 خواتین مظاہرین کے گروپ نے ہرات شہر کی سڑکوں پر پلے کارڈز لہراتے ہوئے نعرے لگائے کہ "تعلیم ، کام اور تحفظ ہمارا حق ہے۔"

فرخندہ، جو ہرات میں دیہی بحالی و ترقی کے ڈائریکٹوریٹ میں پانچ سال تک کام کر چکی ہیں، نے کہا کہ جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو وہ اپنی ملازمت سے محروم ہو گئیں۔

انہوں نے کہا، "طالبان کی آمد سے، ہزاروں خواتین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ طالبان خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔"

جب انہوں نے کام پر جانے کی کوشش کی تو جنگجوؤں نے انہیں اپنے دفتر کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے افغان خواتین اور لڑکیوں نے سخت محنت کی، تعلیم حاصل کی اور طالبان کی دھمکیوں کے باوجود ملازمتیں حاصل کیں۔ "ایک بار پھر گھر میں بند رہنے کی سزا دینا تکلیف دہ ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "عالمی برادری سے ہماری درخواست ہے کہ وہ افغان خواتین کو لاوارث نہ چھوڑیں اور ان کے حقوق کا دفاع کریں۔"

ہرات شہر میں ایک سکول کی استانی لینا نے کہا، "افغان خواتین کی 20 سال کی محنت اور کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔ "یہ کامیابیاں بہت تکلیف سے حاصل کی گئی تھیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ افغان خواتین کی آواز اب خاموش نہ ہو۔"

لینا نے زور دیا کہ "بین الاقوامی برادری اور وہ ممالک جو حقوقِ نسواں کی حمایت کرتے ہیں ہمارے حقوق اور کامیابیوں کے دفاع کے لیے ہمارے ساتھ کھڑے ہوں"۔

ایک مشمولہ حکومت

خواتین کو کام کرنے کی اجازت دینے کے مطالبات کے علاوہ، ہرات میں مظاہرین نے کہا کہ ملک کے فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو نمائندگی دی جائے۔

طالبان، جو نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، نے وعدہ کیا ہے کہ ان کی قیادت "مشمولہ" ہو گی، مگر بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ خواتین کو افغانستان کی نئی حکومت میں کوئی جگہ ملے۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ خواتین کے شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

ہرات شہر میں سول سوسائٹی کی ایک کارکن فریبہ نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ طالبان کی حکومت میں خواتین پر پابندی کا مطلب افغانستان کی ممکنہ افرادی قوت کا آدھا حصہ ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ شرعی قانون کے تحت کام کیا ہے اور کرتی رہیں گی، ان کا مزید کہنا تھا، "ہمارے خاندان ہمیں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں... طالبان کو ہمیں نہیں روکنا چاہیئے۔"

فریبہ کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کبھی بھی طالبان کو اپنے کام اور سرگرمیوں سے روکنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

لیکن احتجاجی مظاہرے کی منتظمین میں سے ایک، فعالیت پسند بصیرہ، کو تشویش ہے کہ ابھی تک طالبان کے اجتماعات اور افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی ملاقاتوں میں کسی بھی عورت نے حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے کہا، "اگرچہ طالبان نے ہمیشہ وعدہ کیا ہے کہ خواتین سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔۔۔ درحقیقت، وہ اس وعدے پر قائم نہیں رہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "جب تک حکومت میں خواتین کا بامقصد اور اہم کردار نہیں ہوتا، یہ نامکمل رہے گی اور دیرپا نہیں ہو گی۔"

'خواتین اپنے حقوق کا دفاع کریں گی'

ہرات یونیورسٹی کی طالبہ، آسیہ نے کہا کہ بہت سی تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین حکومت میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا، "ہم، خواتین، افغانستان کی آدھی آبادی ہیں۔ ہم مردوں کی طرح کام کرنا چاہتی ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں فعال رہنا چاہتی ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ہم ایسی حکومت کو قبول نہیں کرتیں جو ہمیں ہٹائے اور ہمارے حقوق کو نظر انداز کرے۔"

"انسانی وقار اور خواتین کے حقوق کو مجروح کرنے والے قوانین کبھی بھی قابلِ عمل یا قابل قبول نہیں ہوں گے۔"

ہرات شہر کی ایک استانی، رابعہ نے کہا وہ دن گئے جب خواتین کو خاموش کروا دیا جاتا تھا۔

"ہم اپنی تمام کامیابیوں کی حفاظت کریں گی اور کسی کو انہیں برباد کرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔"

رابعہ نے کہا، خواہ کتنا بھی دباؤ ہو، افغان خواتین اپنے حقوق کا دفاع کریں گی۔

حقوقِ نسواں کی کارکن مریم نے کہا، "ہم جیسے پہلے لباس پہنتی تھیں ویسے ہی پہنیں گی، بازاروں میں جائیں گی اور اپنی سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500