سلامتی

افغان طالبان کے دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر پاکستان، چین کی کڑی نظر

از زرک خان

image

15 اگست کو چمن میں پاک افغان سرحدی گزرگاہ پر پھنسے افغان شہریوں کی افغانستان واپسی پر ایک پاکستانی سپاہی پہرہ دیتے ہوئے۔ [اے ایف پی]

اسلام آباد -- پاکستان اور چین افغان طالبان کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

افغان طالبان نے فروری 2020 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے میں کسی بھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں یا افراد کی طرف سے افغان سر زمین کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم، القاعدہ کے ارکان ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ارکان اگست میں افغانستان پر قبضہ کرتے وقت طالبان کے ہمراہ لڑتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔

پاکستان کو زیادہ تشویش ٹی ٹی پی پر ہے، ایک پاکستانی عسکریت پسند تنظیم جو ملک میں ہائی پروفائل حملوں میں ملوث رہی ہے۔

image

14 جولائی کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں ایک بم دھماکے جس میں نو چینی کارکنوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کا الزام ٹی ٹی پر عائد کیا گیا تھا، کے نتیجے میں ایک بس کے کھائی میں گرنے کے بعد پاکستانی امدادی کارکن اور تماشائی ایک ملبے کے گرد جمع ہیں۔ [سٹرنگر/اے ایف پی]

image

تھرپارکر میں چین - پاکستان معاشی راہداری (سی پی ای سی) سے منسلک کوئلے کی کان کنی کے منصوبے کی جون 2020 میں لی گئی ایک فائل فوٹو. [زرق خان]

دریں اثناء، چین نے ماضی میں یغور علیحدگی پسند گروپ، ای ٹی آئی ایم کو دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور اس گروپ کو سنکیانگ میں اپنے اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے، جہاں انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ دس لاکھ سے زائد مسلمان تلقینِ عقیدہ کیمپوں میں قید ہیں.

اسلام آباد اور بیجنگ دونوں نے 14 جولائی کو ہونے والے خودکش حملے جس میں نو چینی انجینئر ہلاک ہوئے تھےکے لیے ٹی ٹی پی کو ذمہ دار ٹھہرایا، جو کہ شمال مغربی پاکستان کے ضلع کوہستان میں ایک پن بجلی کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

18 ستمبر کو چینی کمیونسٹ پارٹی کی پشت پناہی کے حامل گلوبل ٹائمز کے حوالے سے ایک تجزیہ کار نے کہا کہ ٹی ٹی پی "پاکستان میں مزید سرگرمیاں کرنا چاہتی ہے اور پاکستانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید چینی افراد یا چینی منصوبوں پر حملے کیے جا سکتے ہیں"۔

سنہ 2014 میں ایک ویڈیو پیغام میں القاعدہ کے ایک بااثر نظریہ ساز اور پاکستانی شہری مفتی ابوذر البرمی نے خبردار کیا تھا کہ جلد ہی چین "اگلا ہدف" بنے گا۔

انہوں نے ٹی ٹی پی سمیت تمام شدت پسند گروہوں پر زور دیا تھا کہ وہ چینی سفارت خانوں اور کمپنیوں پر حملے کریں اور چینی شہریوں کو اغوا یا قتل کریں۔

ماضی میں، ٹی ٹی پی نے متعدد چینی شہریوں کے قتل اور اغواء کی ذمہ داری قبول کی، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں، اور اکثر چینی حکومت کے خلاف تفصیلی بیانات جاری کرتے رہے۔

چینی اور پاکستانی حکام نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ افغان طالبان کی واپسی سے ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کو تقویت مل سکتی ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور ان کے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی نے جولائی کے آخر میں علیحدہ علیحدہ طالبان سے دونوں گروپوں سے تعلقات ختم کرنے کو کہا تھا۔

پاکستانی حکام کے مطابق، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی 4 ستمبر کو کابل کا دورہ کیا اور طالبان قیادت سے ٹی ٹی پی اور "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کی ممکنہ توسیع کے بارے میں بات چیت کی۔

تعلقات توڑنا 'آسان نہیں'

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا بیجنگ اور اسلام آباد کے کہنے پر ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کا امکان نہیں ہے۔

سابق افغان حکومت ک سقوط سے 9 دن پہلے، 6 اگست کو اقوام متحدہ (یو این) میں افغان سفیر غلام اسحاق زئی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ، اپریل کے وسط سے شروع ہو کر، طالبان نے افغانستان کے 34 میں سے 31 صوبوں میں 5،500 سے زیادہ حملے کیے "10،000 سے زائد غیر ملکیوں کی براہِ راست مدد سے ... جو 20 گروہوں کے نمائندہ جنگجو تھے بشمول القاعدہ،ایل ای ٹی [لشکر طیبہ]، ٹی ٹی پی، آئی ایم یو [اسلامک موومنٹ آف ازبکستان]، ای ٹی آئی ایم، اور آئی ایس آئی ایل [داعش کا ایک اور مخفف]"۔

انہوں نے اُس روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو افغانستان کی صورتحال کے بارے میں اپنی بریفنگ میں مزید کہا، "طالبان اور کثیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے درمیان روابط حالیہ دنوں کے کسی بھی وقت سے زیادہ مضبوط ہیں۔"

جلال آباد کے مقامی ایک عالمِ دین قاری حمید نے کہا۔"القاعدہ نے طالبان کو اتنا طاقتور بنانے میں مدد کی کہ وہ کابل حکومت کو للکار سکیں تاکہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم تشکیل دی جائے جس نے علاقائی دہشت گرد گروہوں، جیسے ای ٹی آئی ایم ، ٹی ٹی پی اور جماعت انصار اللہ [افغانستان میں تاجک طالبان کے نام سے جانی جاتی ہے] کو مربوط کیا۔"

انہوں نے کہا، "ٹی ٹی پی کے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور اس کے اتحادی گروپوں کے ساتھ گہرے اور مضبوط تعلقات ہیں۔"

حمید نے کہا، "اسلام آباد اور بیجنگ کے لیے ان کثیر ملکی گروہوں کے درمیان تعاون کو ختم کرنا آسان نہیں ہو گا، جو القاعدہ کے زیرِ انتظام عالمی جہادی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500