https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/03/feature-02
معیشت

چین کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو پر تھر میں مظاہرے شروع

پاکستان فارورڈ

image

تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے سینکڑوں مکین 22 دسمبر کو صوبہ سندھ میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو (بی آر آئی) سے متعلقہ ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچے تھے۔ [پاکستان فارورڈ]

کراچی -- صوبہ سندھ میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹو (بی آر آئی) سے منسلک منصوبے تھر کے صحرائی خطے میں مقامی باشندوں کو احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

بھارت کے ساتھ متصل ضلع تھر میں ہندوؤں کی اکثریت آباد ہے اور یہ پاکستان کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ سنہ 2019 میں خطے میں مسلسل تیسرے سال بھی خشک سالی رہی تھی۔

توانائی کے دو منصوبے جو کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت ہیں -- اینگرو تھر بلاک دوم کوئلے سے چلنے والا پلانٹ اور تھر کے کوئلے کی کانوں کے بلاک دوم میں سطحی کان کنی -- صحرا میں شروع کیے گئے ہیں۔

تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے سینکڑوں مکین 22 دسمبر کو بی آر آئی سے متعلقہ منصوبوں کی وجہ سے ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچے۔

image

خطۂ تھر کے باشندوں کو جون میں لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خطے میں مقامی افراد کی اکثریت بارش پر منحصر زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتی ہے۔ [پاکستان فارورڈ]

image

جون میں لی گئی اس تصویر میں سی پیک سے منسلک منصوبے کے لیے گورانو گاؤں کی زمین پر تعمیر کردہ پانی کا ذخیرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا تھا۔ [پاکستان فارورڈ]

مظاہرے کا اہتمام طے شدہ ذاتوں کی برادریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک آزاد گروہ، بھیل دانشور فورم کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں سینکڑوں مظاہرین کو مزارِ قائد سے کراچی پریس کلب تک مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان میں اسے بیشتر طے شدہ ذات ہندو برادری کے لوگ تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ چینی منصوبوں سے مقامی باشندوں کو فائدہ نہیں ہو رہا اور الٹا وہ علاقے کی آب و ہوا اور روایتی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔

مقامی افراد کے لیے نوکریاں نہیں

مظاہرین کا کہنا تھا کہ تھر خطے کے مکینوں کی اکثریت بارش پر منحصر زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتی ہے اور سی پیک سے منسلک کوئلے کے منصوبے مقامی باشندوں کو بھرتی نہیں کر رہے ہیں۔

سنہ 2018 میں، ضلع تھرپارکر کی انتظامیہ نے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک مراسلہ تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سی پیک منصوبے خطے کے باشندوں کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے کے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے تحت قائم ایک ادارے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے دسمبر 2018 میں سندھ اور وفاق کی حکومتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ علاقے کے لیے سماجی فوائد کو ذہن میں رکھتے ہوئے تھر کوئلے کے پورے منصوبے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

این سی ایچ آر کے چیئرمین کا حوالہ دیتے ہوئے، نیوز انٹرنیشنل نے 2018 میں خبر دی تھی کہ تھر کے مکین "ایسی بڑی تبدیلی کو قبول کرنے کو تیار نہیں جو ان سے مشاورت کیے بغیر ان پر ٹھونسی جا رہی ہے" اور "انہیں خوف ہے کہ علاقے میں موسمیاتی تباہی ان کے روزگاروں کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور بڑی سماجی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے"۔

احتجاجی مظاہرے کے منتظمین میں سے ایک لالہ بھیل نے کہا، "کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے جزو کے طور پر، سی پیک کے منصوبوں کا فرض تھا کہ وہ مقامی باشندوں کو ملازمتیں، معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرتے، مگر افسوس کی بات ہے کہ کان کنی کی فرمیں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہیں"۔

ان کا کہنا تھا کہ بیروزگاری کی وجہ سے مقامی نوجوانوں میں شدید ناراضگی اور مایوسی پھیل گئی ہے اور ان میں سے بہت سے خودکشیاں کر چکے ہیں۔

مقامی پولیس کی جانب سے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق، سنہ 2019 میں تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں کم از کم 133 خودکشیاں ہوئی ہیں۔

کارکنان اور پولیس حکام کے مطابق، خاندان اکثر خودکشی کی اطلاع دینے میں ہچکچاتے ہیں اور ایک بڑی تعداد کی اطلاع نہیں دی جاتی۔

سنہ 2018 میں علاقے میں کم از کم 198 خودکشیاں ہوئی تھیں، جو کہ سنہ 2017 میں 97 خودکشیوں سے زیادہ ہیں۔

زمین پر غیر قانونی قبضہ

مظاہرین کے مطابق، تھر کے علاقے میں منصوبوں نے دیہاتیوں کی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ بھی کیا ہے۔

گورانو گاؤں ان 12 متاثرہ دیہاتوں میں سے ایک ہے جو منصوبے کے کان کنی کے مقامات سے نکلنے والے فالتو کھارے پانی کو جمع کرنے کے لیے ذخیروں کی تعمیر سے متاثر ہوئے ہیں۔

تعمیر کا کام مئی 2016 میں شروع ہوا تھا اور اب ختم ہو چکا ہے۔ جون 2016 میں، مقامی باشندوں نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ زمین کو زمین مالکان کی رضامندی کے بغیر سنہ 1894 کے حصولِ زمین ایکٹ کی فوری ضرورت کی دفعہ کے تحت نامناسب طور پر حاصل کیا گیا تھا۔ مقدمہ ابھی بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

گورانو گاؤں کے مکینوں، بشمول خواتین اور بچوں، نے جون 2016 سے جولائی 2018 تک کراچی سمیت، صوبے کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے کا اہتمام کیا تھا۔

درجنوں نجی پہرے دار -- جن میں سے کوئی بھی مقامی نہیں ہے -- اب مکمل کردہ ذخیرے پر پہرہ دیتے ہیں۔

گورانو متاثرین کے ایک رہنماء بھیم راج جو کہ 22 دسمبر کو کراچی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے، نے کہا کہ زمین "زبردستی اور فریبی طریقے سے حاصل کی گئی تھی"۔

راج نے کہا کہ مقامی باشندے اس زمین سے محروم ہو گئے ہیں جو کہ ان کا قانونی اور ناقابلِ انتقال فطرتی حق تھا۔

راج کے مطابق، احتجاجی مظاہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر پانی کے ذخیرے یا منصوبہ بندی کردہ دیگر ذخیروں کو قدرتی طور پر یا انسانی ہاتھوں سے تباہی کے ذریعے کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا کون ذمہ دار ہو گا۔

راج نے کہا کہ ایسا واقعہ، "ذخیرے کے قریب رہنے والے دیہاتیوں کو نقصان پہنچائے گا۔ علاقہ اب ایک بنجر، کیمیائی طور پر زہرآلود علاقے میں تبدیل ہو چکا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)