سفارتکاری

طالبان اور چین نے سہولت کے اتحاد میں ایک دوسرے کے غلط کاموں کو قبول کر لیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

جولائی کے اواخر میں طالبان کے دورہٴ چین کے دوران طالبان کے شریک بانی ملّا عبدالغفور برادر، چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ساتھ۔ [اے ایف پی]

کابل – بظاہر طالبان اور چین آسائش کے ایک اتحاد میں داخل ہو چکے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے قبل ازاں ناقابلِ قبول غلط کاموں کو تسلیم کرنے کی قیمت پر تضویری منفعت کے متلاشی ہیں۔

طالبان ممکنہ اتحادیوں کے متلاشی ہیں کیوںکہ بین الاقوامی برادری کے افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کے لیے کسی سیاسی حل پر پہنچنے میں اس گروہ کے خلوص سے متعلق یقین میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

تاریخی طور پر طالبان نے اسلحہ اور مالی معاونت کے لیے ایران، پاکستان اور روس کا رخ کیا ہے۔

اب چین کے سنکیانگ خطے کی سرحد پر طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ، یہ گروہ اپنے وسیع عریض ہمسائے کو مائل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، جبکہ بیجنگ طالبان رہنماؤں کو ایک قسم کی بیمہ پالیسی کے طور پر تسلی دے رہا ہے۔

image

ارمکی، سنکیانگ میں گرینڈ بازار کے باہر کھڑے چینی پارلیمنٹری پولیس اہلکاروں کے پاس سے دو مسلمان خواتین گزر رہی ہیں۔ سابقہ قیدیوں اور ایک گارڈ نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ سنکیانگ خطے میں چینی تعلیمِ نو کیمپوں میں مسلمان خواتین کو منظم طور پر زیادتی اور جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ [پیٹر پارکس / اے ایف پی]

image

7 اکتوبر، 2017 کو لی گئی اس فائل فوٹوگراف میں افغانستان کی واخان راہداری میں چینی سرحد کے قریب مویشی چر رہے ہیں۔ افغانستان کی چین کے ساتھ بلندی پر بنا سرحدی گزرگاہ کے صرف 76 کلومیٹر مختصر سرحد ہے، تاہم یہ سرحد ایک بڑا خدشہ ہے کیونکہ یہ سنکیانگ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ [گوہر عبّاس / اے ایف پی]

گزشتہ ہفتے اس بنیاد پرست تحریک کے شریک بانی ملّا عبدالغنی برادر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی طالبان وفد نے بیجنگ میں حکام سے ملاقات کی۔

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے رہنماؤں سے ملاقات سے طالبان یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف چینی استبداد کو نظر انداز کرنے کو تیار ہیں، جس سے متعلق حقوق کے گروہوں اور مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ یہ نسل کشی کے مترادف ہے۔

درایں اثناء، ملحد سی سی پی طالبان کے شدت پسندانہ نظریہ اور افغان حکومت کا تختہ الٹنے کی پر تشدد کاوشوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔

خبروں کے مطابق، چینی حکام نے اس شورشی گروہ کی افغانستان میں "اہم عسکری اور سیاسی قوت" کے طور پر پذیرائی کی اور اسے تمام دہشتگرد گروہوں سے "مکمل قطع تعلقی" کرنے کا کہا۔

بیجنگ کو خطرہ ہے کہ افغانستان سنکیانگ خطے سے یوگر علیحدگی پسندوں کے لیے ایک سرزمینِ جنگ کے طور پر استعمال ہو گا۔ چین کے لیے خصوصی خدشہ کا باعث طالبان کے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) اور اس کے جانشین ترکستان اسلامی جماعت (ٹی آئی پی) کے ساتھ روابط ہیں۔

بیجنگ نے ای ٹی آئی ایم اور ٹی آئی پی کے وجود کو سنکیانگ میں اپنے کریک ڈاؤن کی توجیح کے طورپر استعمال کیا، اگرچہ 2017 سے اب تک اس خطے میں دہشتگردی کا کوئی نمایاں واقعہ پیش نہیں آیا۔

طالبان کے ترجمان محمّد نعیم نے کہا، "امارتِ اسلامی نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔"

"انہوں [چین نے] افغانستان کے امور میں مداخلت نہ کرنے بلکہ مسائل کو حل کرنے اور امن لانے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔"

برادر نے مبینہ طور پر بیجنگ کو ایک "قابلِ اعتماد دوست" قرار دیا۔

’مقصد کے حصول کا ذریعہ‘

چین کے لیے کابل میں ایک مستحکم اور معاون انتظامیہ افغانستان میں اس کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام (بی آر آئی) کی توسیع کی راہ ہموار کرے گی۔

ریئڈ سٹینڈش نے 21 جولائی کو ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے لیے لکھا، "بیجنگ کے لیے طالبان مقصد کے حصول کے ذریعے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ درایں اثناء، طالبان چین کو بین الاقوامی قانونی حیثیت اور جنگ سے تباہ حال افغانستان کے لیے سرمایہ کاری کی ایک قابلِ اعتبار ندی کے طور پر دیکھتے ہیں۔"

بیجنگ میں تسنگہوا یونیورسٹی کے نیشنل سٹریٹیجی انسٹیٹیوٹ میں ڈائریکٹر برائے تحقیق قئین فینگ نے وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا، "طالبان چین کو خیرسگالی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔"

"انہیں امّید ہے کہ بطورِ خاص امریکی افواج کے انخلاء کے بعد چین مزید اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔"

آسٹریلیا اساسی افغان سکالر نشانک موٹوانی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر چین ان کی جانب ہوتا ہے تو چینی انہیں [طالبان کو] [اقوامِ متحدہ] سلامتی کاؤنسل میں سفارتی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔"

"اس بات کو ذہن میں رکھنا اہم ہے۔۔۔ کہ جب دیگر ممالک اپنے دروازے کھول دیں اور طالبان کی جانب متوجہ ہو جائیں تو اس سے افغان حکومت کی آئینی حیثیت کم ہو جائے گی اور اس سے طالبان تقریباً آئندہ حکومت کے طور پر پیش ہوں گے۔"

طالبان کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے سے، بیجنگ کو امّید ہے کہ وہ سنکیانگ میں یوگر کے مسئلہ پر بھی عوامی طور پر غیر جانبدار رہیں گے، جبکہ بیجنگ نے حالیہ برسوں میں "قومی سلامتی" کے بہانے سے خطے کی اکثریتی مسلمان آبادی کو مطیع کرنے اور ان کی نگرانی کرنے کے مقصد سے وحشت ناک پالیسیوں کا ایک سلسلہ جاری کر دیا ہے۔

خطے میں 1,000 سے زائد اماموں اور مذہبی شخصیات کی بے قائدہ حراست ، تقریباً 16,000 مساجد کی تباہی اور مسلمان خواتین کی منظم آبرو ریزی سمیت چینی حکام کی جانب سے سنکیانگ میں سرزد کیے گئے مختلف جرائم دنیا بھر میں بطورِ خاص مسلمانوں کے لیے پریشان کن ہیں۔

خود کو اسلام کے محافظ ظاہر کرنے والے طالبان—درست قیمت کے بدلے مسلمانوں کو ذبح کیے جانے اور ان کو غلام بنائے جانے کو نظرانداز کرنے کے لیے تیار محسوس ہوتے ہیں ۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ شورشی "دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات رکھنا" چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر کوئی ملک ہماری کانوں کو مسخر کرنا چاہتا ہے تو ہم ان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں، ہم سرمایہ کاری کے لیے اچھا موقع فراہم کریں گے۔"

انہوں نے وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر [چین میں] مسلمانوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں تو ہم بالکل حکومتِ چین سے بات کریں گے۔"

’دشتگردوں کا ڈزنی لینڈ‘

طالبان چین کو، براہِ راست یا – شورشیوں کے علاقائی سرپرستوں میں سے ایک اور بیجنگ کے قریبی اتحادی—پاکستان کےذریعہ، سرمایہ کاری اور معاشی معاونت کا نہایت اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔

بیجنگ نے 2019 میں طالبان کے ایک اور وفد کی میزبانی بھی کی تھی، اور رواں برس کے اوائل میں چین نے بین الافغان امن مزاکرات کی میزبانی کرنے کی پیش کش کی تھی۔

لیکن، یونیورسٹی لبرے ڈی برسلز میں ایک ماہرِ علومِ سیاست تھیری کیلنیر کے مطابق، پاکستان کے ذریعے شورشیوں کے ساتھ بیک ڈور روابط اس سے بھی طویل ہیں، اور "اسی وجہ سے افغانستان میں چین کے منصوبوں پر کوئی بڑا دہشتگرد حملہ نہیں ہوا"

ان منصوبوں میں کابل کے قریب مہیب ائینک تانبہ کی کان شامل ہے، جس کے لیے چینی کمپنیوں نے 2007 میں ایک دلکش رعایت حاصل کی، لیکن یہاں پر طویل عرصہ سے تنازع کی وجہ سے کام رکا ہوا ہے۔

لیکن، سنگاپور میں نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں بین لاقوامی دہشتگردی کے ایک تجزیہ کار روہن گُنارتنا نے کہا کہ، طالبان ممکنہ طور پر اچھے ہمسائے نہیں بن سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اس امر کا امکان زیادہ ہے کہ وہ یوگر عسکریت پسندوں کی حمایت جاری رکھیں گے—بطورِ خاص اب جبکہ ان جنگجوؤں میں سے متعدد شام سے افغانستان لوٹنا چاہ رہے ہیں۔

گُنارتنا نے وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا، "طالبان ان کے اصل میزبان تھے۔ ان کے بہت قریبی تعلقات تھے۔"

انہوں نے کہا، "امریکی افواج کے انخلاء کے ساتھ، طالبان وہی بن جائیں گے جو وہ پہلے تھے، کیوں کہ طالبان کا نظریہ نمایاں طور پر تبدیل نہیں ہوا۔"

افغانستان "دہشتگردوں کے ڈزنی لینڈ کے طور پر ابھر" سکتا ہے، جہاں یہ تمام غیر ملکی دہشتگرد گروہ اپنی ہولناک موجودگی قائم کریں گے۔"

صدر اشرف غنی نے بین الاقوامی برادری پر "کسی سیاسی حل کو قبول کرنے کے لیے طالبان اور ان کے حمایتیوں کی رضامندی کے بیانیہ پر غور کرنے" کے لیے زور دیا۔

انہوں نے 28 جولائی کو کابل میں ایک تقریر میں تنبیہ کی، "پیمانے، وسعت اور وقت کے شمار کے اعتبار سے ہم ایک ایسے حملے سے دوچار ہیں جس کی گزشتہ 30 برسوں میں مثال نہیں ملتی۔"

"یہ 20 ویں صدی کے طالبان نہیں۔۔۔ بلکہ کثیر ملکی دہشتگرد نیٹ ورکس اور کثیر ملکی جرائم پیشہ تنظیموں کے مابین اتحاد کا ظہور ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500