حقوقِ انسانی

چین آمرانہ حکومتوں کی داخلی اختلافی آوازوں کو چپ کروانے میں مدد کرتے پکڑا گیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

وینزویلا کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران 6 دسمبر کو ایک سپاہی کاراکاس میں ایک پولنگ اسٹیشن پر پہرہ دیتے ہوئے۔ چینی حکومت نے، سی ای آئی ای سی کے ذریعے، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی آزادانہ آن لائن مواد کو دبانے اور اس کی حکومت کی حمایت میں مواد کو پھیلانے میں مدد کی۔ [کرسٹیان ہرنینڈز/ اے ایف پی]

چائنا نیشنل الیکٹرانکس امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن (سی ای آئی ای سی) ایک تنازعہ میں گھری ہوئی ہے جس میں بیجنگ دنیا بھر میں دیگر حکومتوں کی انٹرنیٹ سے آزادانہ تقریر اور سیاسی اختلاف کو مٹانے میں مدد کرنے میں ملوث ہے، جس سے ان ممالک میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں خاص طور پر چینی اثرورسوخ کے لیے حساس ممالک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تازہ ترین مثال میں، سی ای آئی ای سی وینزویلا کی ریاستی ملکیتی ٹیلیکام کمپنی -- جس نے آزاد میڈیا نیز حزبِ اختلاف کے رہنما جوآن گوادیو، جنہیں کم از کم 50 ممالک ملک کے عبوری صدر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں، کی لائیو سٹریمز کو بلاک کر دیا ہے -- کو ماہرانہ خدمات فراہم کرتے پکڑی گئی تھی۔

صدر نکولس مادورو نے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں تاریخ ساز فتح کے ساتھ اتوار (6 دسمبر) کو وینزویلا کے سیاسی اداروں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کا حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے فراڈ کہہ کر وسیع طور پر مذمت کی گئی۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا، "عالمی برادری مادورو کو اجازت نہیں دے سکتی، جو غیر قانونی طور پر برسرِاقتدار ہے کیونکہ اس نے دوسرا انتخاب چوری کرنے کا فائدہ اٹھانے کے لیے سنہ 2018 کا انتخاب چوری کیا تھا۔"

image

6 ستمبر 2019 کو بیجنگ میں ٹیانانمن اسکوائر کے ایک کونے پر نگرانی کرنے والے کیمروں کا ایک طویل سلسلہ۔ چین ریاستی ملکیتی کمپنیوں، جیسے سی ای آئی ای سی، کے ذریعے دنیا بھر میں نگرانی کرنے کے نظام برآمد کرتا ہے، اکثر اوقات جن کا مقصد آمرانہ حکومتوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

image

بیجنگ میں سی ای آئی ای سی کی عمارت کا ایک منظر۔ [سی ای آئی ای سی]

گزشتہ ہفتے، پومپیو نے کہا کہ سی ای آئی ای سی "سنہ 2017 سے سیاسی اختلاف کو دبانے اور جمہوری عمل کو تباہ کرنے کی مادورو حکومت کی مذموم کوششوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔"

انٹرنیٹ کی آزادی پر کریک ڈاؤن

30 نومبر کو امریکہ نے کہا تھا کہ یہ سی ای آئی ای سی پر پابندیاں لگا رہا ہے اور کسی بھی ایسی فرم کے اثاثہ جات کو روک رہا ہے جس میں ریاستی ملکیتی کمپنی کا حصہ 50 فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔

ایک بیان میں امریکی وزیرِ خزانہ سٹیون مینوشین کا کہنا تھا، "امریکہ کسی بھی ایسے فرد کو ہدف بنانے سے نہیں ہچکچائے گا جو وینزویلا کے عوام اور دنیا بھر میں دیگر لوگوں کی جمہوری خواہش کو دبانے میں مدد کرے گا۔"

امریکی وزارتِ خزانہ نے بیان کیا کہ سی ای آئی ای سی "بیجنگ کی 'گریٹ فائروال' کے ایک تجارتی ورژن" کی پیشکش کر رہی ہے، جو انٹرنیٹ سے عام صارفین کے لیے قابلِ رسائی سیاسی طور پر حساس مواد کو مٹاتی ہے۔

سی ای آئی ای سی، اپنی ویب سائٹ پر، خود کو "ایک ریاستی ملکیتی کاروباری ادارہ، جو چین کی مرکزی حکومت کی ہدایتکاری میں کام کرتا ہے" کہتی ہے جس کی دنیا بھر میں 160 ممالک اور خطوں میں 24 مرکزی شاخیں مصروفِ عمل ہیں۔

سی ای آئی ای سی کا کہنا ہے کہ یہ ایسے "حل فروخت کرتی ہے جو ہر شہری کے بنیادی ترین حقوق کا تحفظ کرتے ہیں"۔

سی ای آئی ای سی ماضی میں سنہ 2006 سے 2008 تک اس قانون کے مطابق امریکی پابندیوں کے تحت تھی جو ایران اور شام سے ہتھیاروں کی منتقلی میں معاونت کی سرگرمیوں کی ممانعت کرتا ہے۔

6 دسمبر کو مادورو کی "فتح" کے اعلان کے بعد، برازیلی وزیرِ خارجہ ارنستو اراؤوجو نے ٹویٹ کیا کہ ووٹ ایک "انتخابی ڈھونگ" اور مادورو "آمریت" کی جانب سے اپنے اقتدار کو جائز بنانے کی کوشش تھا۔

کینیڈا اور امریکی ریاستوں کی تنظیم نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

پومپیو نے انتخابات کو "فراڈ اور جعلی" قرار دے کر مذمت کی۔

چین تیل پیدا کرنے والے وینزویلا کا بڑا حمایتی اور تجارتی شراکت دار ہے۔

منافقت اور جھوٹ

جب نئی پابندیوں اور ان الزامات کہ سی ای آئی ای سی "غیر قانونی مادورو حکومت کی حمایت کرتی ہے" کے متعلق سوال کیا گیا، تو چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چوانینگ نے ملوث ہونے کی تردید کی۔

یکم دسمبر کو ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا، "چین کا ماننا ہے کہ دوسروں کے داخلی معاملات میں خودمختار مساوات اور عدم مداخلت پر قائم رہنا یو این [اقوامِ متحدہ] کے منشور کا اہم ترین اصول ہے۔"

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "چین سائبر سیکیورٹی کا پکا محافظ ہے اور اس کا ماننا ہے کہ اطلاعات اور مواصلات کی ٹیکنالوجی کو سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دینے اور لوگوں کی بہبود کو بہتر بنانے کی خاطر استعمال کیا جانا چاہیئے۔"

اس کے برعکس، "چین کو دو چینی شہریوں پر کووڈ-19 ویکسین کی تحقیق چرانے کی کوشش کرنے کی فردِ جرم اور دنیا بھر میں سینکڑوں کمپنیوں کو ہیک کرنے کے بعد، سائبر-مجرمان کے لیے "محفوظ جنت" گردانا گیا ہے۔

امریکی نائب اٹارنی جنرل جان ڈیمرس نے جولائی میں امریکی محکمۂ انصاف کے ایک بیان میں کہا تھا، "چین نے اب روس، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ، ملکوں کے اس شرمناک کلب میں اپنی جگہ بنا لی ہے جو سائبر مجرمان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں"۔

دریں اثناء چینی حکومت اپنی اطلاعات کی جنگ کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہے، وہ آزمودہ حربے اختیار کرتے ہوئے جو کریملن کی جانب سے استعمال کیے جاتے تھے اور سازشی نظریات کو پھیلانے اور بہت سے متنازعہ موضوعات پر الزامات کا رخ موڑنے کے لیے اپنی موشگافیاں ساتھ شامل کر رہی ہے۔

چینی حکومت کو کئی برسوں سے بہت سے ممالک کی جانب سے تزویراتی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، مگر حال ہی میں دنیا بھر میں بیجنگ کی کارروائیوں کے مضمرات نمایاں طور پر خطرے کی حد تک وسیعہو چکے ہیں.

ہمالیہ کی دوردراز وادیوں سے لے کر چھوٹے چھوٹے گرم جزیروں تک، زیادہ سے زیادہ جارحانہ ہوتی ہوئی چینی حکومت ایسے تنازعات میں الجھ رہی ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔

چینی صدر شی جن پنگ زیادہ سے زیادہ جنگی بڑھکیںاپنے عوامی خطابات کے دوران لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب چینی فوج مزید جارحانہ ہو رہی ہے اور دیگر خودمختار ممالک کے علاقوں میں یلغار کر رہی ہے۔

3 دسمبر کو ایک بیان میں پومپیو کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ میں اختلافِ رائے پر بیجنگ کا کریک ڈاؤن -- بشمول جمہوریت کے حامی کئی کارکنوں کو حال ہی میں جیل میں ڈالنا -- "ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو سب سے زیادہ خوف آزاد تقریر اور اس کے اپنے لوگوں کی آزاد سوچ سے ہے۔"

تلقینِ عقیدہ کیمپوں کے ساتھ روابط

مبصرین انتباہ کرتے ہیں کہ وینزویلا سی ای آئی ای سی کے واحد ہدف سے کوسوں دور ہے۔

ستمبر 2019 میں یوریشیانیٹ نے خبر دی تھی، "چین اپنا دخل اندازی، جامع جاسوسی کا ماڈل وسط ایشیاء میں برآمد کر رہا ہے۔"

سی ای آئی ای سی چہرے کی شناخت کی جدید ٹیکنالوجی کرغیزستان کو فراہم کر رہی ہے، وہی ٹیکنالوجی جو چینی حکام اپنے سنکیانگ کے علاقے کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

3 دسمبر کو یو ایس ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس جان ریٹکلف نے وال سٹریٹ جرنل کے ایک مضمون میں لکھا، "چینی قائدین فرد کے حقوق کو کمیونسٹ پارٹی کی خواہش کے تابع کرنا چاہتے ہیں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ چین "جنگِ عظیم دوم کے بعد جمہوریت اور دنیا بھر کی آزادی کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے"۔

اس کوشش کا بہت واضح ثبوت سنکیانگ کے علاقے میں ہے، جہاں ایک ملین سے زائد مسلمان تلقینِ عقیدہ کمیپوں میں قید ہیں جبکہ بیجنگ اس برادری کو جبراً ضم کرنے اور اس کے اسلامی ورثے کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے.

ستمبر میں، ایک تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیلات بتائی گئی تھیں کہ کیسے چینی حکام نے ان کوششوں کے جزو کے طور پر حالیہ برسوں میں سنکیانگ میں اندازاً 16،000 مساجد کو تباہ کر دیا ہے.

27 اکتوبر کو، امریکی سینیٹروں نے ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ چینی حکومت سنکیانگ میں یغوروں اور دیگر ترک بولنے والے مسلمانوں کی نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے.

غیر ملکی انتخابات میں چینی مداخلت کی خبریں چینی اثرورسوخ کے لیے حساس بہت سے ممالک کے لیے خوش آئند خبریں نہیں ہوں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500