سلامتی

صدر شی وطن میں جنگی جنون کو ہوا دے رہے ہیں جبکہ چینی فوج ملک سے باہر جارحیت میں اضافہ کر رہی ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ستمبر 2020 کے آخر میں ایک تربیتی مشق کے دوران خصوصی کارروائیاں کرنے والے چینی سپاہی ایک الگ تھلک جزیرے پر صف آرائی کے بعد ایک فرضی دشمن کو پکڑنے کے لیے پیش قدمی کرتے ہوئے۔ [چینی وزارتِ دفاع]

بیجنگ -- چینی صدر شی جن پنگ عوامی خطابات کے دوران زیادہ سے زیادہ جنگی خطابات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب چینی فوج زیادہ جارح ہوتی جا رہی ہے اور دیگر خودمختار ممالک کے علاقوں میں گھس رہی ہے -- یہ ایک ایسا رجحان ہے جس پر ہمسایہ ممالک، مبصرین اور بین الاقوامی برادری کے متعلقہ ارکان فکرمند ہو رہے ہیں۔

"نئے چین" کو تمام جارحیت کرنے والوں سے محفوظ رکھنے کے بیجنگ کی فوج کے عہد کی ڈینگیں مارتے ہوئے، حالیہ ہفتوں میں شی نے ممکنہ "حملہ آوروں" کو سخت تنبیہیں جاری کی ہیں۔

23 اکتوبر کو ہونے والی ایک حالیہ قابلِ ذکر تقریر میں، شی نے کہا کہ حملوں کو روکنے کے لیے جنگ لڑنا لازمی ہے اور یہ کہ تشدد کا جواب تشدد سے دینا لازمی ہے۔

یہ تقریر کوریا کی جنگ میں چین کے داخلے کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی -- جو کہ پہلا اور ابھی تک واحد موقع تھا جب چینی اور امریکی افواج میں براہِ راست لڑائی ہوئی تھی۔

image

20 اکتوبر کو لی گئی اس تصویر میں سیاحوں کو کن مین، تائیوان کے اگلے جزائر میں سے ایک، کے ساحل پر اترنے سے روکنے والی کیلوں کے پاس پھرتے دکھایا گیا ہے۔ ژیامن، چین اُفق پر نمایاں ہے۔ [سام یہ/اے ایف پی]

image

23 اکتوبر کو صدر شی کی تقریر کے دوران سینکڑوں چینی فوجی ہم آواز ہو کر انہیں سراہ رہے ہیں۔ [www.news.cn]

جنگ، جو بنیادی طور پر ایک خونریزی کے بعد بے نتیجہ رہی تھی، اسے چین میں فتح کے طور پر اور ایک زیادہ جدید دشمن کے خلاف مزاحمت اور جذبے کی ایک مثال کے طور پر سراہا جاتا ہے۔

ایک طویل تقریر میں، جو حب الوطنی سے بھرپور اور چینی افواج کی جانب سے جوانمردی کی حکایات سے سجی ہوئی تھی، شی نے کہا کہ 53-1950 کی جنگ میں "فتح" ایک یاددہانی تھی کہ یہ قوم کسی بھی ایسے ملک سے لڑنے کو تیار ہے جو "چین کی دہلیز پر ۔۔۔ مسائل پیدا کرتا ہے"۔

تعریف کرتے ہوئے شی کا کہنا تھا، "چینی عوام مسائل پیدا نہیں کرتے، نہ ہی ہم ان سے خوفزدہ ہیں۔"

"ہم کبھی بھی اپنی قومی خودمختاری کو پہنچنے والے نقصان پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔۔۔ اور ہم کبھی بھی کسی فوج کو اپنی مادرِ وطن کے مقدس علاقے کو برباد کرنے یا تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔"

اپنے ہمسایہ ممالک اور اس سے آگے تک جنگ میں مشغول ہونے کی بیجنگ کی بڑھتی ہوئی خواہش کے باوجود، شی کا کہنا تھا "غلبے کی خواہش رکھنے یا دھمکانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے"۔

جنگ کا جذبہ بیدار کرنا

چینی حکومت نے اپنی افواج کے جنگ میں داخلے کی 70ویں سالگرہ کا بھرپور فائدہ اٹھایا -- جس کا مقصد جتنا ملکی وسائل کا استعمال تھا اتنا ہی یہ اس کی مخالف عالمی طاقتوں اور ہمسائیوں کے لیے ایک تنبیہ تھا۔

چینی ریاستی ذرائع ابلاغ نے سالگرہ کے ہفتے کے دوران پراپیگنڈے کی ایک لہر دوڑا دی، جس میں جنگ میں بچ جانے والے سابق چینی فوجیوں کے انٹرویو پرائم ٹائم کی خبروں کے دوران چلائے گئے۔

چینی سینما کے سب سے بڑے تین ناموں کی ہدایت کاری میں، ایک ایکشن-تھرلر فلم، "قربانی" جس میں جنگ کے آخری دنوں میں غیر ملکی افواج کے ساتھ چینی فوج کے ایک چھوٹے سے گروہ کی لڑائی کا حوالہ دیا گیا تھا، 23 اکتوبر کو ملک بھر کے سینما گھروں میں دکھائی گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کی سالگرہ پر ترقی کا باجا بجانا شی کی ایک وقت میں کمزور چین کو دنیا میں غلبے کے اس کے مبینہ طور پر جائز مقام پر واپس لے جانے کی قومی پرست مہم کا حصہ ہے۔

تقریر سے قبل، یورپی یونین کے ادارہ برائے دفاعی مطالعات میں ایک چینی تجزیہ کار، ایلیس ایکمن نے کہا، "وسیع معنوں میں شی جنگ کا جذبہ بیدار کر رہے ہیں۔"

پورے آبنائے تائیوان میں، کن مین جزیرے کے ساحلوں پر ٹینکوں کو روکنے والے پھندے ایک واضح یاددہانی ہیں کہ تائیوان چینی حملے کے ایک مستقل خطرے میں جیتا ہے -- جنگ چھڑ جانے کے خطرات اب دہائیوں میں اپنے بلند ترین مقام پر ہیں۔

جمہوری تائیوان نے بیجنگ کے آمر رہنماؤں کی دھمکیوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے کہ وہ اس جگہ پر قبضہ کرنے کے لیے تیار اور راضی ہیں جسے وہ اپنے علاقے کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مگر پس منظر کا وہ سکون حال ہی میں نظرانداز کرنے میں مشکل سطحات پر پہنچ چکا ہے جس میں اب چینی جنگی جہاز اک بے مثال شرح سے تائیوان کے دفاعی علاقے سے گزر رہے ہیں اور پیپلز لبریشن آرمی جزیرے کی تباہی کرنے والا ایک فرضی پراپیگنڈہ جاری کر رہی ہے -- اور یہاں تک کہ گوام میں امریکی چھاؤنیوں پر حملے کا بھی۔

تائیوان کے ایک کالج میں سالِ اول کے طالب علم وینگ جوئی-شینگ نے کہا، "چین تائیوان سے ناراض ہے اور زیادہ غیر مہذب انداز اختیار کر رہا ہے۔"

21 اکتوبر کو امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے چینی حملے سے اپنا بچاؤ کرنے میں تائیوان کی مدد کرنے کے لیے 1 بلین ڈالر مالیت سے زائد کے میزائل فروخت کرنے کی رضامندی دے دی ہے اور 27 اکتوبر کو 100 ہارپون ساحلی دفاعی نظاموں کی 2.4 بلین ڈالر کی فروخت کی منظوری دی۔

ایک عالمگیر لڑاکا

برسوں سے بہت ممالک کی جانب سے چینی حکومت کو ایک تزویراتی خطرے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ مگر حال ہی میں دنیا بھر میں بیجنگ کی کارروائیوں کے مضمرات نے فکر کے درجے میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے.

8 جولائی کو ہانگ کانگ کے آخری برطانوی کمشنر، کرس پیٹن نے کہا، "بھارت سے جاپان۔۔۔ آسٹریلیا سے کینیڈا تک، چینی دنیا بھر کو دھمکاتے رہے ہیں۔"

بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ میں اس سال متنازعہ حفاظتی قانون کے اطلاق، جس نے شہر کی محبوب خودمختاری اور جمہوری روایات کا مؤثر طور پر خاتمہ کر دیا، کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، "ہانگ کانگ میں جو کچھ ہوا ہے وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے اس حقیقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی جانے والی کارروائیوں کے وسیع تر سلسلے کا محض ایک جزو ہے کہ ہم سب نے اپنی توجہ بہت زیادہکورونا وائرس سے نمٹنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔"

چینی جارحیت ہمسایہ بھارت تک وسیع ہو گئی ہے۔

وسط جون میں، چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان لداخ کے علاقے میں ایک دوبدو پرتشدد لڑائی ہوئی جس میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے۔ چینی حکومت نے اموات ہونے کا اعتراف کیا ہے مگر کسی تعداد کا انکشاف نہیں کیا۔

اس وقت بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا تھا کہ جھگڑا سرحد پر "چین کی طرف سے یکطرفہ طور پر سٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش" کی وجہ سے ہوا تھا۔

اس کے بعد سے، دونوں ممالک نے پہاڑی سرحد پر ہزاروں اضافی فوجی بھیج دیئے ہیں۔

ستمبر کے اوائل میں، سرحد کے 4 برسوں میں پہلی بار گولیاں چلائی گئیں۔ دونوں اطراف نے ایک دوسرے پر فائر کھولنے کا الزام لگایا۔

چین کے سنکیانگ کے علاقے میں، ایک ملین سے زائد مسلمان کیمپوں میں محصور کر دیئے گئے ہیں کیونکہ بیجنگ ان کی برادری کو جبراً ضم کرنے اور ان کے اسلامی ورثے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے.

27 اکتوبر کو، امریکی سینیٹرز نے ایک قرارداد پیش کی جس میں اعلان کیا گیا کہ چینی حکومت سنکیانگ میں یغوروں اور دیگر ترک بولنے والے مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی مرتکب ہو رہی ہے.

آمریت کے خلاف ایک فصیل

وسطی ایشیاء میں، خطہ ایک جیوپولیٹیکل تغیر میں سے گزر رہا ہے جس میں روسی اور چینی حکومتیں اثرورسوخ کے لیے ایک دوسرے کی رقیب ہیں۔

مگر امریکی فوج نے 20 اکتوبر کو شریکِ کار ممالک کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے اور چین اور روس کے عالمی اثرورسوخ کے خلاف ان کی فوجوں کے ساتھ تعاون کے نئے طریقے تلاش کرنے کے لیے ایک پہل کاری کا اعلان کیا تھا۔.

امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے کہا، "چین اور روس تیزی کے ساتھ اپنی مسلح افواج کو جدید بنا رہے ہیں اور اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کو بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرنے، ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے اور طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جنوبی چینی سمندر میں بیجنگ کی اشتعال انگیزی اورکریملن کی یوکرین کے ساتھ جنگ دوسروں کی خودمختاری کو ہڑپ کرنے اور ممالک اور اداروں کی لچک اور اتصال کو تباہ کرنے کی ان کی ننگی کوششوں کا اظہار ہیں۔"

تاہم، بیجنگ اور ماسکو کے پاس اثرورسوخ حاصل کرنے کا کلیدی ہتھیار: شراکت داریاں، نہیں ہے۔

ایسپر نے کہا، "چین اور روس کے پاس مشترکہ طور پر غالباً دس سے بھی کم اتحادی ہیں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا خلافِ قانون طرزِ عمل ممکنہ ساتھیوں کو بھی خوفزدہ کر دے گا۔

انہوں نے کہا، "امریکہ کا اتحادیوں اور ساتھیوں کا نیٹ ورک ۔۔۔ ایک بے مثال فائدہ فراہم کرتا ہے جس کی ہمارے مخالفین ہمسری نہیں کر سکتے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500