سلامتی

امریکی فوج چین اور روس کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ازبک اور امریکی فوج کا عملہ فروری میں مشترکہ مشق میں شریک ہے۔ [ازبکستان میں امریکی سفارت خانہ]

امریکی فوج نے منگل (20 اکتوبر) کو ایک پہلکاری کا اعلان کیا جس کا مقصد شراکت دار ممالک کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنا اور روس اور چین کے عالمی اثر و رسوخ کے خلاف ان کی افواج میں ہم آہنگی کی نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

امریکہ کے ڈیفنس سیکریٹری مارک ایسیر نے واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ "چین اور روس انتہائی تیزی سے اپنی مسلح افواج کو جدید بنا رہے ہیں اور اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کو بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے، ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیاں کرنے اور طاقت کے توازن کو منتقل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں"۔

"چین کی طرف سے جنوبی بحیرہ چین میں اشتعال انگیزیاور کریملین کی طرف سے یوکرین کے ساتھ جنگ "دوسروں کی خودمختاری کو ختم کرنے اور ممالک اور اداروں کی استقامت اور ہم آہنگی کو کمزور کرنے کے لیے اس کی ڈھیٹ کوششوں کا مظاہرہ ہے"۔

ایسپر نے کہا کہ "امریکہ کا اتحادیوں اور شراکت داروں کا نیٹ ورک ۔۔۔ ایک ایسا غیر متناسب فائدہ ہے جس کا مقابلہ ہمارے دشمن نہیں کر سکتے"۔

image

اردن کے انسدادِ دہشت گردی کے فوجی، 2018 کو عمان میں امریکی فوج کے عملے کے ساتھ مشق کر رہے ہیں جو کہ امریکہ کی زیرِقیادت 19 شراکت دار ممالک کے ساتھ تربیت کا حصہ تھیں اور جن کا مقصد شراکت داری کو مضبوط کرنا اور علاقائی استحکام کو بڑھانا ہے۔ [سینٹکام]

یہ پہل کاری گائیڈینس فار ڈویلپمنٹ فار ایلائینسز اینڈ پاٹنرشپس (جی ڈی اے پی) کہلاتی ہے۔

چین اور روس کے دوستوں کی کمی ہے

ایسپر نے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو کے پاس اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے بنیادی آلے کی کمی ہے: شراکت داریاں۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ ان کا غیر قانونی رویہ ممکنہ شراکت داروں کو ڈرا دے گا، کہا کہ "چین اور روس کے پاس ممکنہ طور پر مجموعی طور پر دس سے کم اتحادی ہیں"۔

ایسپر نے کہا کہ دریں اثناء، امریکہ کے پاس "اتحادیوں اور شراکت داروں کا وسیع نیٹ ورک" ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے تعلقات "ہماری مشترکہ اقدار اور مفادات میں گہری جڑیں" رکھتے ہیں۔

تاہم، ایسپر نے "طویل عرصے سے حاصل تعلقات کے نیٹ ورک کی "ناقدری" نہیں کرنی چاہیے.

انہوں نے مالٹا، منگولیا اور پلاؤ کے اپنے تعلقات قائم کرنے والے دوروں اور اس کے ساتھ ہی پولینڈ میں فوج کو تعینات کرنے کے امریکی منصوبوں کو حوالہ دیا۔

انہوں نے میانمار، کمبوڈیا اور لائوس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوسری طرف "جتنا کوئی ملک چھوٹا ہو یا اس کی ضرورت جتنی زیادہ ہو، بیجنگ کی طرف سے اتنا ہی زیادہ دباؤ ہوتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایک جیسے خیالات رکھنے والی جمہوریتیں جیسے کہ انڈیا اور انڈونیشیا ۔۔۔ سب کو احساس ہے کہ چین کیا کر رہا ہے"۔

ایسپر نے کہا کہ امریکہ کی حکمتِ عملی میں امریکی اسلحہ کی فروخت کو وسعت دینا، اتحادیوں کو مضبوط بنانا اور روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ کی دفاعی صنعت کے مضبوط بنانا شامل ہے۔

ایسپر نے کہا کہ انہوں نے "انتہائی اہم" ہتھیاروں کے نظام کی برآمد کی اجازت دینے کے عمل کو تیز کرنے اور امریکی منڈیوں کو محفوظ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر، واشنگٹن نے حال ہی میں میدانِ جنگ کے ڈرون برآمد کرنے پر پابندیوں کو نرم کیا ہے جو کہ وہ تائیوان اور متحدہ عرب امارات کو فروخت کر سکتا ہے۔

بیجنگ ایک عالمی "بدمعاش" کے طور پر

بیجنگ علاقائی تنازعات میں زیادہ سے زیادہ جارحیت پسند ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات مشاہدین نے کہی۔

ہانگ کانگ کے آخری برطانوی گورنر کرس پیٹن نے 8 جولائی کو ایک آن لائن مباحثے میں کہا کہ "انڈیا سے لے کر جاپان تک ۔۔۔ اور آسٹریلیا سے لے کر کینیڈا تک، چین دنیا بھر میں اپنا راستہ بنانے کے لیے بدمعاشی کو استعمال کرتا رہا ہے"۔

وسطی ایشیا میں، روس اور چین کی حکومتیں اثر و رسوخ حاصل کرنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

چین کے فوجی حکام قازقستان، تاجکستان اور کرغزستان کے وزرائے دفاع سے باقاعدگی سے بات چیت کرتے ہیں اور بیجنگ ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ترکمانستان کو فضائی دفاعی نظام، ڈرون اور ہلکی بکتربند گاڑیاں چین سے ملتی ہیں۔ قازقستان اور ازبکستان کو چین سے جنگی ڈرون اور اس کے ساتھ ہی اس کی مسلح افواج کے لیے تکنیکی معاونت ملتی ہے۔

بیجنگ تاجکستان پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جس کی سرحد چین اور افغانستان دونوں سے ہی ملتی ہے اور وہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں افغانستان کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھتا ہے۔

چند سال پہلے، چین نے تاجکستان میں واخان راہداری، افغانستان کے قریب تاجکستان میں فوجی بیس تعمیر کی تھی جو کہ ممکنہ طور پر افغانستان جو کہ چین کے علاقائی مقاصد کے لیے نہایت اہم ہے، میں تسلط حاصل کرنے کا آغاز تھا۔

بحیرہ جنوبی چین میں، بیجنگ دوسرے ملکوں کے علاقائی دعووں کی قمیت پر، مصنوعی جزیرے بنا رہا ہے اور وسائل کو حاصل کرنے کی ایک ڈھیٹ کوشش میں بھاری عسکری موجودگی قائم کر رہا ہے۔

بیجنگ نے بحیرہ ہند کے ساتھ ساتھ بہت سی بندرگاہوں کا ایک سلسلہ تعمیر کیا ہے جس سے جنوبی بحیرہ چین سے سوئیز کینال تک ایندھن بھرنے اور سامان کی دوبارہ فراہمی کا ایک ہار بن گیا ہے۔ بظاہر تجارتی نوعیت رکھنے والی یہ بندرگاہیں اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحریہ کو اپنی پہنچ کو وسیع کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔

بیجنگ اپنی مالی اجارہ داری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اسٹریٹجک بندرگاہوں جس میں گوادر، پاکستان اور جسک، ایران شامل ہیں کو عسکری طور پر استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

کریملین کے مہلک اثر و رسوخ

دریں اثنا، عالمی اسٹیج پر ماسکو کی سرگرمیاں صدر ولادمیر پوٹن کی زیرِ قیادت کریملین کی مہلک فطرت کو واضح کر دیتی ہیں۔

سرکاری حمایت یافتہ کردار غیر ملکی معاشروں کا استحصال کرنے، حکومتوں کو کمزور بنانے، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور انسانی حقوق کو پامال کرنا پر مائل نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر، لیبیا میں ماسکو ویگنر گروپ کی زرخرید فوج کو، اقوامِ متحدہ (یو این) کی تسلیم کردہ حکومت کے خلاف، مضبوط خلیفہ ہفتار کی مدد کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

شام میں، کریمیلن کی طرف سے صدر بشار الاسد کی حمایت نے خون خرابے کو جنم دیا ہے۔

گزشتہ سال، روس کے ایک انٹیلیجنس یونٹ نے جو کہ یونٹ 29155 کہلاتا ہے طالبان کو افغانستان میں اتحادی فوجیوں پر حملے کرنے کے لیے انعام دینے کی خفیہ پیشکش کی تھی۔

وسطی ایشیا میں کرغزستان روس کی طرف سے اپنے علاقے میں فضائی اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی تعیناتی کی نیت پر سوال کر رہا ہے، ترکمان حکام نے روس کی طرف سے اشک آباد سرحد پر سیکورٹی میں ناکامی کو روس کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کو لگام دی اور تاجکستان کریمیلن کے اس بیانے سے نفرت کرتا ہے کہ اسے روس کی فوجی مدد کی "ضرورت" ہے۔

قازقستان میں، اس بارے میں تشیویش بڑھ رہی ہے کہ ماسکو کی طرف سے یورایشین اکنامک یونین کے تحت تعاون بڑھانے کی حالیہ کوششوں کا مقصد سابقہ سوویت ریاستوں پر روس کے کنٹرول کو مضبوط بنانا ہے۔

کریمیلن ٹرول فیکٹریوں اور ہیکنگ یونٹس کے ذریعے آن لائن غلط معلومات اور جھگڑے پھیلانے کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے۔ حال ہی میں کووڈ- 19 کرونا وائرس کی عالمی وباء نے ماسکو کو انتشار پھیلانے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا۔

ایسپر نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت اخراجات عائد کر دیے ہیں جس سے بوجھ بانٹنے کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے خطرات آج ختم نہیں ہو گئے ہیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے کیونکہ ہمارے حریف عالمی بحران کا استحصال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ اس کے اتحادی"چین کے برے رویے اور روس کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500