https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/09/07/feature-01
میڈیا

چین معمول کی صورتِ حال کی شیخیاں بگھار رہا ہے، جبکہ دنیا وبا سے لڑکھڑا رہی ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

27 اگست کو وُوہان، چین میں خواتین وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے بغیر تصاویر بنوا رہی ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

یکم ستمبر کو وُوہان، چین میں ایلیمنٹری سکول کے طلبہ نئے سمیسٹر کے پہلے روز حاضر ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

یکم ستمبر کو وُوہان، چین میں نئے سمیسٹر کے پہلے روز سکول آنے پر اساتذہ ایلیمنٹری سکول کے طلبہ کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

یکم ستمبر کو وُوہان، چین میں پرچم کشائی کی ایک تقریب کے دوران ایلیمنٹری سکول کے طلبہ ایک قومی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

15 اگست کو وُوہان، چین میں پول کے شیدائی خود کو سرد کرتے ہوئے ایک مظاہرہ فن دیکھ رہے ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

15 اگست کو وُوہان، چین میں ایک موسیقی چلانے والا ہزاروں تماشائیوں کے سامنے مظاہرہ کررہا ہے۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

15 اگست کو وُوہان، چین میں ہلہ گلہ کے ہزاروں شیدائی وائرس سے بلا خوف و خطر مجمع لگائے ہوئے ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

چین کے قومی عجائب گھر میں اس وقت دکھائی جانے والی ایک تصویر مین کرونا وائرس وبا میں ملک کی کاکردگی کو "دلیرانہ" بیان کیا گیا ہے۔ [جیانگ ڈانگ/چائنہ ڈیلی]

image

چین کے قومی عجائب گھر میں پانگ ماؤکن کی ایک پینٹنگ ’ہمیشگی اور بہادری‘ دکھائی گئی ہے۔ [جیانگ ڈانگ/چائنہ ڈیلی]

چین کے ریاستی میڈیا اس امر کا تہیہ کیے ہوئے نظر آتا ہے کہ وہ دنیا کو دکھائے کہ ملک کرونا وائرس وبا سے نکل کر آگے بڑھ گیا ہے، لیکن ایسے ملک جو کوویڈ ۔19 – جس کا پھیلاؤ اور آغاز چین سے ہوا – کی وجہ سے سخت لاک ڈاؤنز سے مسلسل متاثر ہیں، اس میڈیا مہم کو غم و غصہ سے دیکھ رہے ہیں۔

مثال کے طور پر منگل (یکم ستمبر) کو چین میں مملکت کے زیرِ انتظام میڈیا آؤٹ لیٹس نے وسطی چین کے شہر وُوہان، جہاں گزشتہ برس پہلی مرتبہ یہ وائرس سامنے آیا، میں ذاتی طورپر اپنی جماعتوں کو لوٹنے والے ہزاروں طلبہ کی تصاویر نشر کیں۔

مئی میں ہائی سکولز کے دوبارہ کھلنے کے بعد، شہر بھر میں تقریباً 1.4 ملین طلبہ نے تقریباً 2,800 کنڈرگارٹنز، پرائمری اور مڈل سکولوں میں دوبارہ کلاسز کو جاری کیا۔

متعدد تصاویر چینی پرچم لہراتے ہوئے طلبہ پر مرکوز تھیں۔

image

یکم ستمبر کو وُوہان، چین، جہاں کوویڈ ۔19 رونما ہوا، میں طلبہ وائرس سے متعلق کسی ظاہری خدشہ کے بغیر اپنے نئے سمیسٹرکے پہلے روز حاضر ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

یہ تصاویر تمام چینی ریاستوں اور منسلک میڈیا میں پھیلائی گئیں جس کا ظاہری مقصد بیرونِ ملک رائے پر اثرانداز ہونا تھا۔

چین میں زندگی موج مستی ہے

اسی طرح سے اگست کے وسط میں چین کے ریاستی میڈیا نےتیراکی کے لباس میں ملبوس لیکن بنا ماسک کے ہزاروں شرکاء کی وُوہان میں ایک واٹر پارک میں ایک الیکٹرانک موسیقی میلہ میں جوق در جوق جانے کی ویڈیوز اور تصاویر پھیلائیں۔

پانی کے سامنے سٹیج سے ایک فنکار مجمع کو ہاتھ ہلا رہا تھا اور ایک دوسرے کے قریب کھڑے مجمع کے افراد واپس ہاتھ لہرا رہے ہیں واٹر جیٹ بورڈ پر ایک اور فنکار، جس کی کمر سے چنگاریاں نکل رہی ہیں، اپنے تماشائیوں کے اوپر منڈلا کر انہیں محظوظ کر رہا تھا۔

کچھ دن قبلچینی حکام مسلسل کوویڈ ۔19 وبا کے خلاف لڑائی میں اپنے "دلیرانہ کاموں" کے بیانیہ کو پھیلا رہے تھے۔

چین کے قومی عجائب گھر نے ایک نئی نمائش "قوت کا اتحاد" کا آغاز کیا، جو ایسی تصاویر، نقاشی، اور خطاطی دکھاتی ہے جو اس چیز کو ظاہر کرتے ہیں جسے حکومت اس بحران کو ردِّ عمل دینے میں اپنی کامیابی کہتی ہے۔

دھچکہ

بے پروائی سے، سکول جا کر پڑھائی کرنے، ہلہ گلہ کرنے اور ایک دلیر کے طور پر چین کی خود نمائی دنیا بھر میں ان کو ہضم نہیں ہو گی جو وُوہان میں شروع ہونے والی اس بے نظیر وبا سے بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔

جمعرات (3 ستمبر) تک کوویڈ ۔19 نے 26 ملین سے زائد افراد کو متاثر کیا اور 860,000 کی ہلاکت کا باعث بنا اور دنیا کے ہر ملک پر بے حساب سیاسی، معاشی، معاشرتی اور صحت سے متعلق نقصانات کی تعداد کی تباہی لایا، جس کا تاحدِ نگاہ کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔

اس وبا میں بیجنگ کے حقیقی کرداراور اس ایک عالمی ہیرو کے طور پر اس کی نہ ختم ہونے والی خود نمائی کے ہوتے ہوئے بیجنگ کی میڈیا کاوشیں مخصوص معاملہ سے متعلق ہوں گی۔

2020 کے اوائل میں چینی حکام نے یہ جانتے ہوئے بھیتقریباً ایک ہفتے تک خاموشی اختیار کیکہ ایک مہلک وبا آنے کو ہے، جس کی وجہ سے اس وائرس نے وُوہان میں قدم جمائے اور پوری دنیا میں پھیل گیا، جبکہ انہوں نےاسوبا کے پھوٹنے کے شواہد کو عمداً دبا دیا یا ختم کر دیا۔

اس بحران کے آغاز سے اب تکبیجنگ نظریاتِ سازش کو فروغ دے کر کروناوائرس وبا میں اپنے کردار پر تنقید کا رخ موڑنے کے لیے فعالیت کے ساتھ کوششیں کر رہا ہے، اوروائرس کے بارے میں ہیجان انگیز غلط معلومات سے خبروں اور سوشل میڈیا کو بھرتے ہوئےپکڑا گیا ہے۔

درایں اثناء چینی کمپنیاں منافع کمانے کے لیے فائدہ حاصل کر رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، مارچ اور مئی کے درمیان چین نے 150 بلین فیس ماسک برآمد کیے – جو کہ گزشتہ برس کے مقابلہ میں ایک دس گنا اضافہ ہے۔

اس کاوش کے جزُ کے طور پرچینی حکام ژنجیانگ خطے میں مسلمان اقلیت کو ذاتی تحفظ کے ایسے آلات (پی پی ای) تیار کرنے کے لیے فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کر رہے ہیں، جن میں سے زیادہ ترغیر معیاری اور غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)