سائنس و ٹیکنالوجی

سنکیانگ میں مسلمانوں پر چین کے جبر میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے 'شدید اضافہ'

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

سنکیانگ میں ایک مسلمان خاتون اپنا موبائل فون استعمال کرتے وقت ادھر ادھر دیکھتے ہوئے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ خطے کے مسلمانوں کو حکام کی جانب سے قانونی طرزِ عمل کے لیے نشان زد کیا جا رہا ہے، جن میں دیارِ غیر میں بسنے والے رشتہ داروں کو فون کال کرنا، کسی مستقل پتے کا نہ ہونا یا اپنے فون بار بار بند کرنا شامل ہیں۔ [فریڈرک جے براؤن / اے ایف پی]

بیجنگ -- بدھ (9 دسمبر) کے روز، بیجنگ کی اپنے جبرواستبداد میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی تفصیلات بیان کرنے والی ایک رپورٹ میں کارکنان کا کہنا تھا کہ چین کے سنکیانگ کے علاقے میں مسلمانوں کو ایسے کمپیوٹر پروگرام کی مدد سے حراست میں لینے کے لیے جبراً منتخب کیا جا رہا ہے جو "مشکوک" طرزِ عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

امریکہ کی مقامی این جی او ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے کہا کہ اسے پولیس کا لیک شدہ ڈیٹا موصول ہوا ہے جس میں عکسو کے پولیس تھانے میں بند 2،000 سے زائد افراد کا اندراج ہے۔

انٹیگریٹڈ جوائنٹ آپریشنز پلیٹ فارم (آئی جے او پی) کے بظاہر ان لوگوں کو فہرست میں نشان زد کیا تھا، جن کی حکام نے پھر تخمینہ کاری کی اور سنکیانگ میں "سیاسی تعلیم" کے کیمپوں میں بھیج دیا۔

ایچ آر ڈبلیو میں چین کی ایک سینیئر محقق، مایا وینگ نے کہا، "عکسو کی فہرست اس بارے میں مزید بصیرت فراہم کرتی ہے کہ چین کی جانب سے سنکیانگ کے ترکی النسل مسلمانوں پر ظالمانہ جبر میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے شدید اضافہ ہو رہا ہے۔

image

نگرانی کرنے والے کیمروں کا ایک بڑا سلسلہ 6 ستمبر 2019 کو بیجنگ میں ٹیانانمن اسکوائر کی نکڑ پر دکھایا گیا ہے۔ سنکیانگ میں نگرانی پر ہونے والے اخراجات میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جس میں دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر پورے صوبے میں چہرے کو پہچاننا، آنکھ کی پتلی کے سکینرز، ڈی این اے جمع کرنا اور مصنوعی ذہانت کا اطلاق کرنا شامل ہیں۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

بیجنگ وسائل سے مالا مال اس علاقے میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے شدید بین الاقوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے، جہاں حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ ایک ملین سے زائد یغوروں اور دیگر بیشتر مسلمان اقلیتوں کو نظربندی والے کیمپوں میں رکھا جاتا رہا ہے.

چین ان کیمپوں کا دفاع حرفتی تربیتی مراکز کے طور پر کرتا ہے جن کا مقصد دہشت گردی کی بیخ کنی کرنا اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے۔

سنکیانگ میں نگرانی پر ہونے والے اخراجات میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہو گیا ہے، جس میں صوبے بھر میں دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر چہرے کی شناخت، آنکھوں کی پتلیوں کے سکینرز، ڈی این اے جمع کرنا اور مصنوعی ذہانت کا اطلاق شامل ہیں۔

'مشکوک' طرزِ عمل

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ اس نے ایک ایسے گمنام ذریعے سے فہرست حاصل کی تھی -- جس میں وسط 2016 سے آواخر 2018 تک گرفتاریوں کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں -- جو ماضی میں عکسو میں ایک عمارت کے اندر سے لیا گیا آڈیو ویڈیو مواد فراہم کر چکا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ فہرست ایسے افراد کی شناخت کے ذریعے بنائی گئی تھی جنہوں نے کسی ایسے شخص سے بات کی تھی یا اس سے تعلق تھا جسے "مشکوک" تصور کیا گیا تھا۔

مقامی حکام مختلف رویوں کا سراغ لگاتے ہوئے، جیسے کہ دیارِ غیر میں ایک رشتہ دار کو فون کرنا، ریاستی اجازت کے بغیر قرآن پڑھنا یا "مشتبہ" سمارٹ فون ایپلیکیشن بشمول سکائپ استعمال کرنا، یہ تعین کرتے تھے کہ کس کو گرفتار کرنا ہے۔

حراست میں لینے کی وجوہات کے طور پر درج دیگر طرزِ عمل میں شامل ہے "عام طور پر بے بھروسہ ہونا"، "نوجوان ہونا؛ جو 1980 کی دہائی کے بعد پیدا ہوا"، "غیر مستحکم سوچوں" کا حامل ہونا، یا "نازیبا [جنسی] تعلقات رکھنا"۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ ایک معاملے میں، ایک شخص کو اپنی زمین کا کرایہ ادا نہ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

"حساس" ممالک، بشمول افغانستان، کرغیزستان، ترکی اور سعودی عرب، بشمول حج کے لیے، کا بین الاقوامی سفر کرنا بھی ممکنہ نظر بندی کی وجہ تھی۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ اس کی معلومات بتاتی ہیں کہ "وسیع اکثریت" کو حکام کے پاس قانونی طرزِ عمل کے لیے نشان زد کیا گیا تھا، بشمول دیارِ غیر میں بسنے والے رشتہ داروں کو فون کالیں کرنا، کسی مستقل پتے کا نہ ہونا یا اپنے فون بار بار بند کرنا۔

فہرست میں شامل تقریباً صرف 10 فیصد افراد کو دہشت گردی یا انتہاپسندی کی وجوہات کی بناء پر گرفتار کیا گیا تھا۔

فہرست، جس کے کچھ حصے اے ایف پی کو دکھائے گئے تھے، میں بہت سے افراد کو حراست میں لینے کی بیان کردہ وجوہات اتنی سادہ تھیں کہ انہیں آئی جے او پی کی جانب سے "نشان زد" کیا گیا تھا۔

حقوق کے گروہ نے لیک کے ذریعے کے لیے سلامتی کی تشویشوں کا حوالہ دیتے ہوئے، فہرست کے مکمل مندرجات شائع نہیں کیے۔

عکسو کے عوامی سیکیورٹی بیورو اور سنکیانگ کے علاقائی حکام نے تبصرے کے لیے رپورٹر کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

نگرانی میں وسعت

ایچ آر ڈبلیو نے ایک "مس ٹی" کی مثال دی -- جسے "حساس ممالک کے ساتھ رابطے" کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا -- اس کا نام اپنی بہن کے غیر ملکی نمبر کی جانب سے متعدد کالیں وصول کرنے کی وجہ سے درج کیا گیا تھا۔

این جی او کے محققین نے خاتون سے بات کی اور معلوم ہوا کہ پولیس نے سنکیانگ میں اس کی بہن سے تفتیش کی تھی مگر یہ کہ اس کے بعد سے صوبے میں اس کے خاندان کے ساتھ اس کا براہِ راست کوئی رابطہ نہیں تھا۔

ایچ آر ڈبلیو نے بتایا اس نے کہا کہ اس نے ایک درمیانی فرد سے سنا تھا کہ مس ٹی -- غالباً سیاسی تعلیمی کیمپ سے اپنی رہائی کے بعد -- اب ہفتے میں پانچ دن ایک فیکٹری میں کام کر رہی ہے اور اسے صرف ہفتہ اور اتوار کو گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

اس کی بہن کا کہنا تھا کہ مس ٹی کو اس کی مرضی کے خلاف ایک فیکٹری میں کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

نیو یارک ٹائمز، جس نے سینکڑوں ویڈیوز، فوٹوز اور سرکاری دستاویزات سے ملنے والے ثبوتوں کا حوالہ دیا، کے مطابق، کورونا وائرس کی عالمی وباء کے نتیجے میں، چینی حکام سنکیانگ کے علاقے میں مسلمان اقلیتوں کو ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) بنانے والے فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں.

حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں یغوروں اور دیگر مسلمانوں کو کپاس کی چنائی کرنے اور کپاس کو تیار کرنے والی فیکٹریوں میں کام کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔

یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے 2 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ سنکیانگ کے علاقے سے آنے والی کپاس کی درآمد پر پابندی لگا دے گا جو اس کے مطابق "غلام مزدوروں" سے چنوائی جاتی ہے.

ایک الگ معاملے میں، امریکی کی مقامی نگرانی پر تحقیق کرنے والی فرم آئی پی وی ایم نے منگل (8 دسمبر) کو ایک رپورٹ میں کہا کہ چین کی ٹیلی کام کی سب سے بڑی کمپنی ہواوے چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کی جانچ میں ملوث رہی ہے جو یغور اقلیتوں کے چہرے شناخت کرنے پر پولیس کو تنبیہی پیغامات بھیج سکتا ہے۔

آئی پی وی ایم کی جانب سے حوالہ دی گئی ہواوے کی ایک اندرونی رپورٹ -- جسے کمپنی کی ویب سائٹ سے حذف کر دیا گیا ہے مگر گوگل کی تلاشوں میں ابھی بھی نظر آتی ہے -- میں سافٹ ویئر کو "یغور تنبیہات" اور "عمر، جنس، نسل، چہرے کی تشبیہات کے زاویئے کی بنیاد پر پہچان" کی جانچیں پاس کرتے دکھایا گیا تھا۔

ہواوے نے فوری طور پر اے ایف پی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

سنکیانگ میں نسل کشی

آزاد مبصرین اور محققین کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے بیجنگ نے اسلامی ثقافت کی بیخ کنی کرنے، مساجد کو شہید کرنے، مسلمانوں کے عقائد کو کمیونسٹ پراپیگنڈے کے ساتھ تبدیل کرنے اور خواتین کو جبراً بانجھ بنانے کی ایک مربوط مہم چلائی ہے۔

6 نومبر کو امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مشرقی ترکستان اسلامی تحریک (ای ٹی آئی ایم) کو اپنی "دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست میں سے نکال دیا ہے۔

چینی حکومت سنکیانگ کے خطے میں مسلمان اقلیتوں پر سخت کریک ڈاؤن کا جواز پیش کرنے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ ای ٹی آئی ایم کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا، "ایک دہائی سے زائد عرصے سے، کوئی قابلِ اعتبار ثبوت نہیں رہا ہے کہ ای ٹی آئی ایم کا کوئی وجود ہے۔"

اکتوبر میں امریکی حکام نے سنکیانگ میں بیجنگ کی کارروائیوں کو "نسل کشی" کے زمرے میں رکھا تھا۔

27 اکتوبر کو تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹروں نے ایک قرارداد میں کہا، "سنکیانگ یغور خودمختار علاقے میں یغوروں، نسلی قازقوں، کرغیز اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کے ارکان کے خلاف چینی حکومت کی مہم نسل کشی ہے۔"

ایک ڈیموکریٹ، سینیٹر جیف مارکلے نے کہا، "چین کا یغوروں اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں پر حملہ -- بڑھتی ہوئی جاسوسی، جیلوں میں ڈالنا، تشدد اور جبری 'دوبارہ تعلیم کے کیمپ' -- نسل کشی ہے، سیدھی اور صاف بات ہے۔"

ستمبر میں، ایک تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیلات بیان کی گئیں کہ کیسے چینی حکام نے سنکیانگ میں لگ بھگ 16،000 مساجد کو شہید کیا ہے یہ کام کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے چلائے جانے والے ملک میں اسلامی ثقافت کے خاتمے کی اپنی کوششوں کے جزو کے طور پر حالیہ برسوں میں انجام دیا گیا ہے۔

جرمن محقق ایدریان زینز کی جانب سے اعدادوشمار پر مبنی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ بیجنگ نے یغور خواتین کی ایک بڑی تعداد کو جبراً بانجھ بنا دیا ہے اور ان پر اسقاطِ حمل کے لیے زور ڈالا جنہوں نے پیدائش کے کوٹے سے تجاوز کیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500