https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/07/23/feature-01
ٹیکنالوجی

چین ’سائیبر مجرمان کے لیے محفوظ پناہ گاہ‘ بن گیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژہاؤ لی جیان 8 اپریل کو بیجنگ میں روزانہ کی میڈیا بریفنگ میں بات کر رہے ہیں۔ یہ وزارت دنیا بھر میں غلط معلومات پھیلانے میں بیجنگ کی مسلسل کوششوں میں ایک نقطہٴ ارتکاز بن چکی ہے۔ [گریگ بیکر/ اے ایف پی]

واشنگٹن – دو چینی شہریوں کی جانب سے کوویڈ ۔19 ویکسین کی تحقیق چرانے اور دنیا بھر میں سینکڑوں کمپنیوں کو ہیک کرنے کی کوشش کے الزام کے بعد (21 جولائی) امریکی حکام نے کہا کہ چین سائیبر مجرمان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمیرز نے امریکی محکمہٴ انصاف کے ایک بیان میں کہا، "چین نے سائیبر مجرمان کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے والے ممالک کے شرمناک کلب میں روس، ایران، اور شمالی کوریا کے ساتھ اپنی جگہ بنا لی ہے۔"

محکمہٴ انصاف نے کہا کہ چینگ ڈو میں ایک الیکٹریکل انجنیئرنگ کالج میں دو ہم جماعت 34 سالہ لی ژاؤ یو اور 33 سالہ ڈونگ جیاژی گزشتہ 10 برس سے ایک کمپیوٹر ہیکنگ مہم چلا رہے ہیں۔

اس میں کہا گیا، "جن صنعتوں کو ہدف بنایا گیا ان میں دیگر کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیک کارخانے، طبی آلات، سول اور صنعتی انجنیئرنگ کاروبار، تعلیمی اور گیمنگ سافٹ ویئر کی صنعتیں شامل ہیں۔"

اس میں کہا گیا، "حال ہی میں، مدعا علیہان نےکوویڈ ۔19 ویکسینز، ٹیسٹنگ ٹیکنالوجیز اور علاج تیار کرنے والی کمپنیوں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس میں کمزوریاں تلاش کیں۔"

چین میں روپوش

مانا جاتا ہے کہ دونوں چین میں ہیں اور بیجنگ کے تحفظ میں ہیں۔

محکمہٴ انصاف کے عہدیداران نے کہا کہ لی اور ڈونگ نے بایئوٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنایا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی کوویڈ ۔19 تحقیق کو چرا نہ سکا۔

محکمہٴ انصاف نے کہا کہ انہوں نے "غیر سرکاری تنظیموں، اور انفرادی مخالفین، علمائے دین، اور جمہوری و انسانی حقوق کے فعالیت پسندوں" کو بھی ہدف بنایا۔

فردِ جرم کے مطابق، لی ڈونگ نے وزارتِ ریاستی سلامتی کو ایسے افراد کے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کے پاس ورڈ فراہم کیے جو بیجنگ کے مفاد میں تھے۔

اس جوڑے پر سافٹ ویئر کمپنیوں کے سورس کوڈ، دواساز کمپنیوں سے تیاری کے عمل میں ادویات اور اسلحہ کے ڈیزائن اور دفاعی کانٹریکٹرز سے ٹیسٹنگ ڈیٹا چرانے کا الزام تھا۔

لی ڈونگ نے مبینہ طور پر دفاعی کانٹریکٹرز سے عسکری سیٹلائٹ پروگرامز، عسکری وائرلیس نیٹ ورکس اور کمیونیکیشن سسٹمز اور مائکرو ویو اور لیزر سسٹمز سے متعلق معلومات چرائیں۔

امریکی حکام نے مئی میں تنبیہ کی تھی کہ چین کی پشت پناہی کے حامل ہیکرز کوویڈ ۔19 کے لیے ویکسینز اور علاج سے متعلق تحقیق اور علمی املاک چرانے کی کوشش کر رہے تھے۔

بیجنگ کی جانب سے کیے جانے والے یا حکم دیے جانے والے سائیبر جرائم کی ایک طویل تاریخ کے باوجود "چینی حکومت سائیبر سیکیورٹی کی ایک پرعزم حامی ہے، اور اس نے ہمیشہ ہر طرح سے سائیبر حملے اور سائیبر جرائم کی مخالفت اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔"

سائیبر حملوں کی غلط معلومات

چین سے اس تازہ ترین ہیک نے ایران، شمالی کوریا، روس اور چین میں سائنسدانوں اور کارکنان کو ہدف بنانے والیجھوٹی خبریں اڑانےکے ذریعے کرونا وائرس وبا سے متعلقہ قابلِ نفرت سرگرمیوں کا حکومتی پشت پناہی کے حامل ہیکرز پر الزام لگانے والے خوفناک خدشات اور خبروں کے ایک سلسلہ میں اضافہ کیا ہے۔

مئی میں برطانیہ اور امریکہ نے منظم مجرموں "جو کہ اکثر دیگر ریاستی کرداروں سے منسلک ہوتے ہیں" کی جانب سے صحت کے پیشہ وران کے خلاف سائیبر حملوں میں اضافے کی تنبیہ کی تھی۔

امریکی سائیبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر ایجنسی اور برطانیہ کے نیشنل سائیبر سیکیورٹی سنٹر نے کہا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر "پاسورڈ چرانے کے ہتھکنڈوں – جن میں ہیکر عمومی طور پر استعمال ہونے والے پاس ورڈز کے ذریعے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں—کا پتہ چلایا تھا جن کا نشانہ نگہداشت صحت کے ادارے اور طبی تحقیق کی تنظیمیں تھیں۔

درایں اثناء،بطورِ خاص چینی اور روسی حکومتوں نے بطورِ خاص کرونا وائرس وبا سے متعلق غلط بیانیہ پھیلانے کے لیے تعاون میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے گلوبل انگیجمنٹ سنٹر، جو غیر ملکی پراپیگنڈا کی پیروی کرتا ہے، کی معاون لیہ گیبریل نے کہا، "کوویڈ ۔19 بحران سے قبل بھی ہم نے پراپیگنڈا کی دنیا میں روس اور عوامی جمہوریہ چین کے مابین ایک خاص سطح کے تعاون کا اندازہ لگایا تھا۔"

گیبریل نے کہا، "بیجنگ ماسکو کی جانب سے طویل عرصہ سے نافذ کی گئی تکنیکوں کو حقیقی طور پر اور اضافے کے ساتھ اپنا رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)