حقوقِ انسانی

بیجنگ نے پاکستانی شہریوں کی یغور بیویوں کو زیرِ حراست لے کر مزید اشتعال دلا دیا

پاکستان فارورڈ

image

گلگت-بلتستان سے تعلق رکھنے والے افراد چینی حکام کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی یغور بیویوں کو سنکیانگ میں زیرِ حراست رکھنے کے خلاف مارچ 2020 میں اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہوئے۔ [پاکستان فارورڈ]

اسلام آباد -- بیجنگ کی جانب سے مسلمانوں کا استحصال سرحد عبور کر کے پاکستان تک وسیع ہو گیا ہے کیونکہ حکومت نے پاکستانی شہریوں کی سینکڑوں یغور بیویوں اور بچوں جو مسلسل زیرِ حراست رکھا ہوا ہے، جس سے ملک میں چین مخالف جذبات سخت تر ہو رہے ہیں۔

پاکستانی مردوں کے ایک بڑے گروہ، جس کا تعلق بنیادی طور پر گلگت-بلتستان (جی بی) کے علاقےسے ہے، ایک ایسا علاقہ جس کی سرحد چین کے مسلمان اکثریتی علاقے سنکیانگ یغور خودمختار علاقے کے ساتھ ملتی ہے، سنہ 2017 سے اپنی یغور مسلمان بیویوں کی رہائی کے لیے مہم چلا رہا ہے، جنہیں مبینہ طور پر چینی حکومت کے بدنامِ زمانہ "تلقینِ عقیدہ کیمپوں" میں رکھا جا رہا ہے۔

چین گزشتہ کئی برسوں سے سنکیانگ میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ منظم بدسلوکی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، جہاں اس نے ایک ملین سے زائد مسلمانوں، بشمول یغور اور نسلی قازقوں اور کرغیزوں کو ان کیمپوں میں بھیجا ہے جسے یہ "تعلیم-نو" کیمپ قرار دیتا ہے۔

چینی حکام یہ کہتے ہوئے ان کیمپوں کا دفاع کرتے ہیں کہ یہ حرفتی مراکز ہیں جو اسلامی تعصب پسندی کی جانب راغب ہونے سے روکنے کے لیے ہنز سکھاتے ہیں۔

image

پاکستان کے گلگت-بلتستان علاقے میں ایک گاؤں کی سنہ 2018 میں لی گئی تصویر۔ دہائیوں سے، گلگت-بلتستان سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں اور چین کے سنکیانگ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے یغوروں کے درمیان بیاہ شادیوں کے اور کاروباری تعلقات رہے ہیں۔ [پاکستان فارورڈ]

image

14 ستمبر 2019 میں کھینچی گئی اس فوٹو میں، سنکیانگ کے علاقے عکسو میں اس مقام کی پہلے اور بعد کی تصاویر دکھاتے ہوئے، "شادمانی پارک" کے داخلی راستے پر ایک نشان دکھایا گیا ہے، جہاں کبھی یغور قبرستان ہوا کرتا تھا۔ چین چین ان قبرستانوں کو تباہ کر رہا ہے جہاں یغور خاندانوں کی نسلیں ابدی نیند سو رہی ہیں، اور پیچھے انسانی بڈیاں اور ٹوٹے ہوئے گنبد باقی بچ رہے ہیں جسے فعالیت پسند سنکیانگ میں نسلی گروہ کی شناخت کو مٹانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ [ہیکٹر ریتامل / اے ایف پی]

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ بیجنگ کی یغوروں اور چین میں دیگر ترکی بولنے والنے مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کا ایک حصہ ہیں۔

چینی حکام نے سنکیانگ میں تقریباً 16،000 مساجد کو تباہ کر دیا ہے یا نقصان پہنچایا ہے، اور یہ کام زیادہ تر گزشتہ تین برسوں میں ہوا ہے۔آسٹریلوی تزویراتی پالیسی ادارے کی ستمبر میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، اس مہم کے جزو کے طور پر،

جرمن محقق ایدریان زینز کی جانب سے اعدادوشمار پر مبنی ایک تحقیق کے مطابق، بیجنگ نے یغور خواتین کی ایک بڑی تعداد کو جبری طور پر بانجھ بھی بنا دیا ہے اور پیدائش کے کوٹے سے تجاوز کرنے والے حمل ضائع کرنے کے لیے ان پر دباؤ بھی ڈالا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ بیجنگ کی یغوروں اور دیگر مسلمان اقلیتی گروہوں کے خلاف مہم "نسل کشی ہے، خالصتاً اور بالکل واضح" .

'جیل سے بدتر'

یغور بیویوں کو حراست میں رکھنے نے پاکستانیوں میں چین مخالف جذبات بڑھا دیئے ہیں.

پاکستانی علمائے دین نمازِ جمعہ کے خطبات میں یغور مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم پر باقاعدگی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور علمائے دین نے مسلمانوں کے خلاف بیجنگ کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کرنے پر حکومتِ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کے نشریاتی اداروں کو زیرِ حراست بیویوں کے معاملے کو نظرانداز کرنے کے لیے کہا گیا ہے جس کی بڑی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے دباؤ ہے، جس کا ماننا ہے کہ ایسی خبریں دینے سے پاک-چین تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے خواتین کی مشکلات پر باقاعدگی کے ساتھ خبریں دیتے ہیں۔

لاس اینجلس ٹائمز نے 25 ستمبر کو پاکستانی شہریوں کی بیویوں اور بچوں کے متعلق ایک تفصیلی کہانی شائع کی تھی جنہیں چین کے تلقینِ عقیدہ کیمپوں میں نظربند کیا گیا ہے۔

شوکت حیات، ایک پاکستانی تاجر جس کی یغور النسل بیوی اور تین بچوں کو سنہ 2017 میں چینی حکام نے نظر بند کیا تھا، نے اخبار کو بتایا، "اپنے دل، اپنے بچوں، کو جیل سے بدتر جگہ پر جینے کے لیے چھوڑ دینا بہت مشکل ہے۔"

حیات نے کہا کہ اس کی بیوی اور 19 سالہ بیٹا ابھی تک زیرِ حراست ہیں، جبکہ اس کی دو بیٹیوں کو، جن کی عمریں سنہ 2017 میں 7 اور 12 سال تھیں، انہیں اس کی رضامندی کے بغیر سنکیانگ کے ایک شہر کاشغر میں ایک یتیم خانے بھیج دیا گیا تھا۔

خاندانی رشتوں کی تباہی

جی بی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں اور چین کے سنکیانگ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے یغوروں کے درمیان بیاہ شادیوں کے اور کاروباری تعلقات دہائیوں سے موجود ہیں۔

البتہ، چین کی جانب سے اپنی یغور اقلیت پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے یہ سب کچھ بکھر گیا ہے۔

گلگت شہر کے ایک صحافی جنہوں نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی، ان کے مطابق جی بی کے خاندان گزشتہ چند برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ بیجنگ کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی یغور بیویوں کو حراست میں رکھنے کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کرتے آئے ہیں، اور مقامی سیاستدانوں نے بھی ان کی رہائی کے لیے آوازیں بلند کی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مگر پاکستانی حکام کی جانب سے دباؤ کی وجہ سے، انہوں نے مہم روک دی۔"

سنہ 2018 میں، جی بی کی قانون ساز اسمبلی (جی بی ایل اے) کے ذریعے ایک متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت سنکیانگ میں نظربند بیویوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

مارچ 2018 میں ڈان اخبار نے خبر دی تھی کہ جی بی ایل اے کی ایک رکن، بی بی سلیمہ، جنہوں نے قرارداد پیش کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے باشندے درۂ خنجراب کے ذریعے اکثر ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے ہیں۔

انہوں نے قرارداد میں لکھا، "جی بی اور صوبہ سنکیانگ کے لوگوں کے درمیان آپس میں بیاہ شادیوں کے بہت سے معاملات بھی ہیں جن میں دونوں ممالک کے قوانین پر عمل کیا جاتا ہے۔ مگر سنہ 2017 میں، چینی پولیس نے ان چینی شہریوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا جن کی غیر ملکیوں کے ساتھ شادی ہوئی تھی، اور جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کی پاکستانی مردوں کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔"

قرارداد میں کہا گیا کہ جی بی کے خاندانوں کے بہت سے بچے نتائج بھگت رہے ہیں کیونکہ ان کی چینی مائیں سنکیانگ میں نظربند ہیں۔

عبادت کرنے پر گرفتار

اہلِ خانہ کے ساتھ انٹرویوز اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک زیرِ حراست یغور خواتین کو چین کے حراستی مراکز میں لے جایا گیا ہے تاکہ ان کے مذہبی عقائد تبدیل کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی حکام نے پاکستانی شوہروں کے ویزوں کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا، جس سے وہ اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

جی بی کے ایک مکین، علی، جس کی بیوی اور دو بچے سنکیانگ میں نظربند ہیں، اور جنہوں نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر صرف اپنا خاندانی نام ہی بتایا، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ چینی حکام نے اس کے اہلِ خانہ کو صرف اس لیے پکڑا ہے کیونکہ وہ نماز پڑھتے تھے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔

انہوں نے کہا، "اب میں نے سنا ہے کہ چینی حکام نے انہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کا لٹریچر پڑھنے اور بے دین بننے کے لیے تلقینِ عقیدہ کیمپوں میں بھیج دیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی حکام نے اس کے گھر پر قبضہ کر لیا ہے جو اس نے قرضہ لے کر بنایا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

چین ھو یا ھندوستان یا اسراءیل سب کا ایک ھی مقصد ھے ۔مسلمانون کو تباہ کرو اس مظمون نے سارا کچا چھٹیا کھول دیا ھے۔

جواب