سلامتی

مبصرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی سرحد کے آر پار آمدورفت روکنے کے لئے وادی کو مستقل زیر انتظام رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں خیبرپختونخواہ میں 1300 سے زائد عسکریت پسند ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ان کھیلوں کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ پاکستان کی قبائلی پٹی اب دہشت گردوں کی جنت نہیں ہے اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اچھا وقت آنے والا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی پاک افغان سرحد کے دونوں جانب دہشتگری کی حوصلہ شکنی کی کنجی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے طے کردہ وقت سے پہلے ہی برخ محمد کنڈاؤ چوٹی کو کلیئر کر لیا ہے، جو کہ باقی ماندہ آپریشن کے لیے ایک نیک شگون ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ حبّ الوطنی کا مظاہرہ دہشتگردوں کو پیغام دیتا ہے کہ عوام مضبوط تر ہو گئے ہیں اور پہلے سے زیادہ متحد ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چند مقامی عسکریت پسند گروہ عدم سلامتی پیدا کرنے اور اپنا جواز پیدا کرنے کے لیے داعش کا نام استعمال کرتے ہوئے فرقہ ورانہ حملے کر رہے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد نے ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خود کش حملے کرنے کی صلاحیت بڑی حد تک ختم کردی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اضافے سے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے حکومت کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

داعش اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف عسکریت پسند گروہ آپریشن کا نشانہ ہیں۔