سلامتی

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آپریشن ردّالفساد نے فروری میں دہشتگردانہ تشدد میں ہونے والے اضافہ کو مؤثر طور پر روکا۔

طویل عرصے سے زیرِ التوا، پورے شہر میں 5،000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے منصوبوں کے ساتھ آخر کار منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔

سنہ 2005 سے 2016 تک، عسکریت پسندوں اور مسلح افراد نے پورے ملک میں 149 قبائلی عمائدین کو ہلاک کیا ہے۔

سیکورٹی کریک ڈاون سے عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان- افغانستان سرحد کے دونوں طرف پناہ گاہوں کی موجودگی کوئی کا امکان نہیں رہا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابقہ ترجمان نے پاکستانی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور دیگر عسکریت پسندوں کو اپنے پیچھے چلنے کی نصیحت کی۔

سیکورٹی فورسز نے مارچ میں متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا، جبکہ سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے دہشتگرد حملوں میں ایک کمی ریکارڈ کی۔

افغانستان میں ہلاک ہونے والے، القاعدہ کے رہنماء کا، سنہ 2008 میں اسلام آباد میں میریئیٹ ہوٹل میں بم دھماکوں اور سنہ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں ہاتھ تھا۔

پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے افغانستان کے دورافتادہ علاقوں میں ”دولتِ اسلامیہ ٔ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کی کمین گاہوں پر بم گرانے کا خیرمقدم کیا۔

سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز نے عسکریت پسندوں کی "مشکل اہداف" کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔

یہ تین بہنیں خیبر پختونخواہ کی ان 12 خواتین میں سے ہیں جنہوں نے بم ڈسپوزل سکواڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔