سلامتی

وزیرِ داخلہ احسان اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے کے خلاف جنگ لڑ رهے ہیں۔

حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ساتھ مل کر ہی ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور خطے میں اس کے مفسدانہ رسوخ کا انسداد کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، پچھلے سال کے مقابلے میں سنہ 2017 میں دہشت گردوں کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 21 فیصد کمی ہوئی۔

پاکستان علماء کاوٴنسل (پی یو سی) خطے میں بطورِ خاص چاہ بہار بندرگاہ کی تکمیل سے متعلق ایران کی ’جاسوسی اور دہشتگردی‘ کی کاروائیوں کے خلاف تنبیہ کر رہی ہے۔

سندھ کی وزارتِ داخلہ نے 23 فروری کو کراچی کے لیے دہشت گردی کا ایک انتباہ جاری کیا تھا، جس میں متعلقہ حکام سے حفاظتی اقدامات میں اضافہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایران کی طرف سے فنڈ کردہ اور تربیت شدہ طالبان عسکریت پسندوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس تقریب پر حملہ کریں جس میں پاکستان کے وزیراعظم ایک اہم پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کرنے والے ہیں۔ طالبان نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور ہتھیار ڈال دیے۔

یکم دسمبر کو طالبان جنگجوؤں کی طرف سے حملے میں نو جانیں لینے کے تقریباً دو ماہ بعد پشاور میں حال ہی میں نام تبدیل ہونے والی ایگریکلچر سروسز اکیڈمی پر علمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ معصوم سٹانکزئی نے کہا کہ ثبوت یہ ثابت کرتے ہیں کہ ماسکو اور تہران طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

ایران کی حمایت رکھنے والے ایجنٹ ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو بہکا رہے ہیں کہ وہ ایسی جنگوں میں لڑیں جو صرف پاکستان کی حاکمیت کو نقصان پہنچانے اور تہران کے فرقہ ورانہ مقاصد کو مضبوط بنانے کا مقصد انجام دے رہی ہیں۔

پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا، علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔