سلامتی

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران پاکستان میں اٹھائیس ہزار سے زیادہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے جس سے عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی اور سیکورٹی میں بہتری آئی ہے۔

'دولت اسلامیہ عراق و شام' کی میدانِ جنگ میں جاری ہزیمتوں کے بعد گروپ کی میڈیا مشین کی توجہ نمایاں طور پر منتقل ہو چکی ہے۔

فاٹا کے بے گھر ہو جانے والے رہائشی گھروں کو واپس جانے پر انتہائی خوش ہیں اور سیکورٹی کے بہتر ہو جانے کے بعد اپنی زندگیوں کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔

پاکستان کی ششماہی دفاعی رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ سیکیورٹی آپریشنوں نے عسکری گروہوں کی نئے ارکان کو بھرتی کرنے اور بڑے حملے کرنے کی صلاحیت کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس نے جدید تکنیکی آلات سے لیس ایک نیا خصوصی لڑاکا یونٹ آفس کھولا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن ضربِ عضب اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز نے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک اور افغانستان جانے والے سامان پر حملوں کی ان کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔

پشاور اور مردان میں کامیابی کے بعد، ہنگامی حالات کے شعبے کو دیگر اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

حکام نے ستمبر میں داعش کے چار مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ داعش کے ایک مبینہ رکن جس پر کم از کم بتیس افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، کو قاضی قلعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مضبوط سرحدی سیکیورٹی غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور عسکریت پسندی کا خاتمہ اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائے گی۔