سلامتی

سیکورٹی فورسز نے مارچ میں متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا، جبکہ سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے دہشتگرد حملوں میں ایک کمی ریکارڈ کی۔

افغانستان میں ہلاک ہونے والے، القاعدہ کے رہنماء کا، سنہ 2008 میں اسلام آباد میں میریئیٹ ہوٹل میں بم دھماکوں اور سنہ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں ہاتھ تھا۔

پاکستانی سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے افغانستان کے دورافتادہ علاقوں میں ”دولتِ اسلامیہ ٔ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کی کمین گاہوں پر بم گرانے کا خیرمقدم کیا۔

سیکورٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز نے عسکریت پسندوں کی "مشکل اہداف" کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔

یہ تین بہنیں خیبر پختونخواہ کی ان 12 خواتین میں سے ہیں جنہوں نے بم ڈسپوزل سکواڈ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

ان کی پورے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی، جو سنہ 2014 کے اوائل میں متعارف کروائی گئی تھی، کو وسیع طور پر دہشت گردی کم کرنے والی تسلیم کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت پولیس سیاسی رسوخ سے مزید آزاد اور خودمختار ہو گی۔

پورے ملک میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے بعد سیکیورٹی حکام نے 'قوم کے لہو کے ہر قطرے' کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور کے دیہی علاقوں میں انتظامی تشکیلِ نو، پولیس کے اضافی گشت اور جدید اسلحہ کی وجہ سے سیکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔

پاکستان کثیر ملکی بحری مشقوں کی میزبانی کر رہا ہے جس میں 10 سے 14 فروری تک 36 غیر ممالک کی بحری افواج شرکت کر رہی ہیں۔