سلامتی

خاندان اور دوست احباب درجنوں نئے ریستورانوں اور تحفظ کے ایک تازہ احساس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگرد نیٹ ورکس کو غیرمستحکم کر رہی ہیں اور صوبہ میں امن لا رہی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) آپریشن ضربِ عضب میں انتہائی اہم کرادر ادا کر رہی ہے اور زمینی افواج کی فضائی حملوں اور فضائی نگرانی سے مدد کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے گھر بدر افراد کی صوبہ خوست سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیوں اور فوجی آپریشنوں نے سالوں میں دہشت گردی کے واقعات کم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔

سنہ 2016 میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مخبری کی بنیاد پر 25،000 کارروائیاں (آئی بی اوز) کیں، بشمول 11،000 جو صرف پنجاب میں ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی مشقیں افواج کی علاقائی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی۔

کامیاب فوجی آپریشن کے بعد، حکومت جنگجوؤں کی مالی امداد کے گٹھ جوڑ کو توڑنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ہے۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ رینجرز 2016 میں ٹارگٹ کلنگ میں 91 فیصد کمی اور دہشتگردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی کی وجہ ہیں۔