سلامتی

باجوڑ ڈسٹرکٹ میں سیکورٹی فورسز، اداروں کو شہری کنٹرول میں دے رہی ہیں اور سیکورٹی کے ناکوں کی تعداد کو کم کر رہی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ہزاروں عام شہریوں کو ٹرکوں میں لاد کر عراق کے ساتھ شام کی سرحد کے قریب، بغوز میں جہادیوں کے سکڑتے جا رہے علاقے سے باہر لے جایا گیا ہے۔

تاہم، چند پاکستانی تجزیہ کار کالعدم گروہوں کے خلاف سخت تر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جبکہ کراچی میں پولیس کی کارروائیاں مختلف پرتشدد گروہوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں، سیکیورٹی حکام کو حملوں کی حالیہ تجدید پر تفکرات ہیں۔

وزیرِ اطلاعات فواد چودھری نے کہا، ’ہمیں کاروائی کرنی ہے کیوں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

دو مطلوب ترین عسکریت پسند، مولوی عبداللہ بروہی اور عبدل حفیظ پندرانی، بلوچستان کے علاقے سبی میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔

متنوع مذہبی اعتقادات کے پاکستانی فروری 2017 میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے مہلک خودکش حملے کی یاد منانے کے لیے وہاں آئے۔

پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی اپنی پالیسیاں اور دفاعی ناکامیاں 13 فروری کو ہونے والے خودکش بم دھماکے کے لیے ذمہ دار ہیں جس کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشقوں اور سیکورٹی کے آڈٹس سے پولیس کو دہشت گردی کے حملوں کے خلاف زیادہ موثر ردعمل ظاہر کرنے میں مدد ملے گی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے طالبان اور داعش میں شکوک بڑھ رہے ہیں وہ اپنی صفوں سے جاسوسوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افغان افواج دونوں گروہوں کے خلاف بھرپور مہمات شروع کر رہی ہیں۔

1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | next