سلامتی

ہر ماہ عراق اور شام میں جانے والے غیر ملکی جگجوؤں کی تعداد کم ہو کر تقریبا 100 ہو گی ہے جو کہ تین سال پہلے اپنے عروج پر 1,500 تھی۔

سمیع الحق اپنے سیاسی دھڑے -- جمعیت علمائے اسلام (س) -- کے سربراہ اور متنازعہ مدرسہ حقانیہ کے قائد تھے۔ وہ راولپنڈی میں چاقوؤں کے واروں سے جاں بحق پائے گئے۔

افغانستان -پاکستان کی سرحد کے دونوں طرف ہونے والی عسکری کوششوں نے دو دہشت گروہوں کے درمیان مسلسل جاری جھڑپوں کے ساتھ مل کر، علاقے میں داعش کے جذبوں کو بہت زیادہ کمزور کر دیا ہے۔

فوجی کارروائیوں اور عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے سے پاش پاش، تحریکِ طالبان پاکستان نے جنگجوؤں کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی وضع کی ہے جو بے خبری میں اس کے قائدین کی مایوسی اور فکرمندیوں کو اجاگر کرتی ہے۔

ایرانی حکام نے پاکستان کو اس کی مبینہ بدنیتی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس نے سرحدی صوبے کو، جو دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک پناہ گاہ ہے، صاف کرنے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ہے۔

یہ تاریخی اقدام اس خطے میں امن و ترقی کے ایک نئے دور کا آئینہ دار ہے جو کبھی عسکریت پسندی کے ہاتھوں تاخت و تاراج تھا۔

سرحد کے قریب کم از کم 11 ایرانی سیکورٹی اہلکاروں کے اغوا کے بعد، ایران نے قدم اٹھانے کا عہد کیا ہے مگر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایران کی 'نااہلی' کو اجاگر کرتا ہے۔

حکومت نے کئی برسوں کی طالبان عسکریت پسندی کے بعد علاقہ میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔

افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو الجھانے کے لیے پُرعزم، روس اور ایران، طالبان کی پشت پناہی سمیت تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

ایران کی آئی آر جی سی نے اپنی زینبیون برگیڈ کے لیے گزشتہ چھہ ماہ میں 1,600 زیادہ پاکستانی شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ہے تاکہ وہ ایرانی مفادات کے لیے شام میں جنگ لڑیں۔

1