سلامتی

اندازاً 3،053 پولیس افسران جنہیں بم کو ناکارہ بنانے کی بنیادی تربیت فراہم کی گئی تھی، ان میں سے 86 خواتین ہیں۔

ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے ایران اور طالبان کے مابین باضابطہ مزاکرات کا اعتراف افغانستان میں ایران کی مسلسل ضرر رساں مداخلت کو نمایاں کرتا ہے۔

حکام پاکستان میں ایران کے مربوط اور طویل عرصے سے جاری پراپیگنڈہ اور غلط خبروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے افغانستان بھر میں طالبان کی مالی و عسکری امداد کا مقصد افغان جنگ کو طول اور وسعت دینا ہے۔

پولیس اسسٹینس لائنز (پی اے ایل) پشاور یونیورسٹی میں، پولیس اور طلباء و اساتذہ کے درمیان مواصلات کے براہ راست طریقے ہیں جس کا مقصد انہیں پولیس سے متعلقہ معاملات میں مدد فراہم کرنا ہے۔

توقع ہے کہ 2019 تک کل 830 کلومیٹر باڑ مکمل ہو جائے گی جس سے سابقہ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں اور چترال ڈسٹرکٹ، خیبرپختونخواہ کی سرحد سیل بند ہو جائے گی۔

بہت سے سابقہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ایران دانستہ طور پر افغانستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے تاکہ علاقے بھر میں پراکسی جنگوں میں لڑنے والے اپنے عسکریت پسندوں کی بھرتیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

اورکزئی میں خودکش دھماکے میں درجنوں ہلاک ہوئے جبکہ کراچی میں چین کے قونصل حانہ میں فائرنگ سے دو افسران اور دو تماشائی ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی مہارتوں کی حامل پولیس فورس کو صوبے کے بڑے شہروں میں تعینات کیا جائے گا یہ یقینی بنانے کے لیے کہ مظاہرے پُرامن رہیں۔

ہر ماہ عراق اور شام میں جانے والے غیر ملکی جگجوؤں کی تعداد کم ہو کر تقریبا 100 ہو گی ہے جو کہ تین سال پہلے اپنے عروج پر 1,500 تھی۔

1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | next