سلامتی

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پولیس کی حفاظت کرنا اور عسکریت پسندوں کو پشاور اور خیبر پختونخواہ کے دوسرے شہروں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

فروری 2017 میں آپریشن کے آغاز کے بعد سے پاکستانی آرمی نے خفیہ اطلاعات کی بنا پر ملک بھر میں 9,000 کارروائیاں کی ہیں۔

پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معروف عسکری گروہ کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔

چھوٹی لیکن مہلک سپیشل فورس نے جنگ میں خود کو منوایا ہے، اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تیزی سے بہتر ہوتی ہوئی سیکورٹی کی صورت حال نے اسے ممکن بنایا ہے۔

میدانِ جنگ میں کامیابیوں نے حکومت پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور عمومی طور پر ملک کی باقی دنیا کے سامنے زیادہ مثبت تصویر پیش کی ہے۔

ملک بھر میں مویشی منڈیوں، تجارتی مراکز اور عبادت گاہوں پر سخت سیکیورٹی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی سرحد کے آر پار آمدورفت روکنے کے لئے وادی کو مستقل زیر انتظام رکھنا اہمیت کا حامل ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں خیبرپختونخواہ میں 1300 سے زائد عسکریت پسند ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔