سلامتی

سنہ 2016 میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مخبری کی بنیاد پر 25،000 کارروائیاں (آئی بی اوز) کیں، بشمول 11،000 جو صرف پنجاب میں ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی مشقیں افواج کی علاقائی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی۔

کامیاب فوجی آپریشن کے بعد، حکومت جنگجوؤں کی مالی امداد کے گٹھ جوڑ کو توڑنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

سینٹر برائے ریسرچ و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے مطابق، پاکستان میں 2016 کے دوران تشدد سے متعلقہ ہلاکتوں میں 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو 2014 کے مقابلے میں 66 فیصد کمی ہے۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ رینجرز 2016 میں ٹارگٹ کلنگ میں 91 فیصد کمی اور دہشتگردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی کی وجہ ہیں۔

کوہاٹ کے عمائدین اور مکینوں نے کہا کہ بھاری ہتھیاروں اور بارودی مواد شہریوں کے خلاف دہشت گردی میں سہولت کاری کرتا۔

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران افواج نے 60 سے زائد دہشتگرد گروہوں کا صفایا کیا ہے، جس سے ان کے حامیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچی۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ محکمۃانسداد دہشتگردی کا نیا ہیڈ کوارٹر صوبائی دارالحکومت میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں افسران کی مدد کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی پانیوں میں تعینات امریکی بحریہ نے 2012 سے اب تک 30 سے زائد مواقع پر ملاحوں، بشمول ایرانی مچھیروں، کی مدد کی ہے۔

رافعہ قسیم بیگ نے بین الاقوامی تعلقات اور معاشیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے، پھر بھی وہ پاکستان کی خدمت کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کی خواہشمند ہیں۔

Previous | 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | next