سلامتی

انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ بہت سے پاکستانی شعیہ زائرین ایران سے واپس نہیں آ رہے ہیں جس سے اس بارے میں تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ انہیں شام میں لڑنے کے لیے زینبیون برگیڈ میں بھرتی کر لیا گیا ہے۔

پنجاب کے صوبائی حکام نے حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں تک تلاش کو وسیع کرنے کے لیے 109 مطلوب دہشتگردوں کی فہرست کا تبادلہ کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پولیس کی حفاظت کرنا اور عسکریت پسندوں کو پشاور اور خیبر پختونخواہ کے دوسرے شہروں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

فروری 2017 میں آپریشن کے آغاز کے بعد سے پاکستانی آرمی نے خفیہ اطلاعات کی بنا پر ملک بھر میں 9,000 کارروائیاں کی ہیں۔

پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معروف عسکری گروہ کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔

چھوٹی لیکن مہلک سپیشل فورس نے جنگ میں خود کو منوایا ہے، اور ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تیزی سے بہتر ہوتی ہوئی سیکورٹی کی صورت حال نے اسے ممکن بنایا ہے۔

میدانِ جنگ میں کامیابیوں نے حکومت پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور عمومی طور پر ملک کی باقی دنیا کے سامنے زیادہ مثبت تصویر پیش کی ہے۔

ملک بھر میں مویشی منڈیوں، تجارتی مراکز اور عبادت گاہوں پر سخت سیکیورٹی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔