سلامتی

فاٹا میں عسکری آپریشنز اور کے پی پولیس اور محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کی کاروائیوں نے تشدد اور شرحِ جرائم میں کمی کر دی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد عسکریت پسندوں کی سرحد پار نقل و حرکت کو روکنا اور علاقائی سیکورٹی کو بہتر بنانا ہے۔

مسلمان ممالک نے سعودی قیادت کی عسکری فورس میں 34,000 کی ریزرو فورس فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے شہری مراکز اور داخلی مقامات پر اضافی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

پاکستان نے ایرانی کی سرحد پار بڑھتی ہوئی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کو نظرانداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

18 جون کو پاکستان کی کرکٹ میں فتح کی خوشی میں ہوائی فائرنگ میں کم از کم 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔

عسکری آپریشنز نے مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے، جو کہ 2012 میں 18 کی حد سے کم ہو کر رواں برس صفر تک آ گئے ہیں۔

دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والی پولیس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اب اس فورس کے پاس عملہ کو لے جانے والی 14 بکتر بند گاڑیاں اور 61 بکترسے لیس گشتی ویگنیں ہیں۔

سیف سٹی پراجیکٹ، جو پورے شہر میں 1،950 کلوزڈ سرکٹ کیمرے استعمال کر رہا ہے، کا مقصد دارالحکومت کو جرائم سے پاک کرنا اور دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھنا ہے۔

حکام کے مطابق، انٹیلی جنس پر مبنی ایک آپریشن میں سیکیورٹی فورسز ضلع مستونگ میں ایک غار تک پہنچیں، جہاں انہوں نے داعش کے کم ازکم 12 کلیدی کمانڈر ہلاک کر دیے جو پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔