سلامتی

18 جون کو پاکستان کی کرکٹ میں فتح کی خوشی میں ہوائی فائرنگ میں کم از کم 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔

عسکری آپریشنز نے مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے، جو کہ 2012 میں 18 کی حد سے کم ہو کر رواں برس صفر تک آ گئے ہیں۔

دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والی پولیس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اب اس فورس کے پاس عملہ کو لے جانے والی 14 بکتر بند گاڑیاں اور 61 بکترسے لیس گشتی ویگنیں ہیں۔

سیف سٹی پراجیکٹ، جو پورے شہر میں 1،950 کلوزڈ سرکٹ کیمرے استعمال کر رہا ہے، کا مقصد دارالحکومت کو جرائم سے پاک کرنا اور دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھنا ہے۔

حکام کے مطابق، انٹیلی جنس پر مبنی ایک آپریشن میں سیکیورٹی فورسز ضلع مستونگ میں ایک غار تک پہنچیں، جہاں انہوں نے داعش کے کم ازکم 12 کلیدی کمانڈر ہلاک کر دیے جو پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آپریشن ردّالفساد نے فروری میں دہشتگردانہ تشدد میں ہونے والے اضافہ کو مؤثر طور پر روکا۔

طویل عرصے سے زیرِ التوا، پورے شہر میں 5،000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے منصوبوں کے ساتھ آخر کار منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔

سنہ 2005 سے 2016 تک، عسکریت پسندوں اور مسلح افراد نے پورے ملک میں 149 قبائلی عمائدین کو ہلاک کیا ہے۔

سیکورٹی کریک ڈاون سے عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان- افغانستان سرحد کے دونوں طرف پناہ گاہوں کی موجودگی کوئی کا امکان نہیں رہا ہے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابقہ ترجمان نے پاکستانی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور دیگر عسکریت پسندوں کو اپنے پیچھے چلنے کی نصیحت کی۔