سلامتی

2014 کے قتلِ عام میں بچ جانے والوں اور مقتولین کے لواحقین نے گزشتہ ہفتے افغانستان میں ایک فضائی حملے میں ٹی ٹی پی رہنما ملّا فضل اللہ کی ہلاکت کا خیر مقدم کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرنے والے رہنماء کا جانشین، عمر رحمان، پہلے ہی سے تقسیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو متحد کرنے سے قاصر ہو گا۔

مقامی حکام اور قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ لڑنے والے ایک خفیہ گروہ کی وجہ سے طالبان ڈر کر بھاگ رہے ہیں اور ان کی راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے پاکستانی طالبان کے امیر فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جسے دفاعی تجزیہ کار عسکریت پسندوں کے لیے 'بہت بڑا نقصان' قرار دے رہے ہیں۔

خیبرپختونخواہ کی پولیس، عید کے دوران عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے 3.7 ملین ڈالر کا عطیہ پاکستان میں اور پورے خطے میں منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل اور عسکریت پسندی کے خلاف لڑنے میں مدد دے گا۔

بہتر سیکیورٹی کے نتیجہ میں نو انضمام شدہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات میں حکام ناکے ہٹا رہے ہیں اور سڑکیں کھول رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت، خصوصاً افطار اور نماز کے اوقات، کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارودی مواد سے لدی ہوئی اور پانچ ممکنہ خودکش بمباروں کو لے جانے والی ایک گاڑی نے ایف سی ہیڈکوارٹر میں گھسنے کی کوشش کی، لیکن سپاہیوں نے انہیں روک کر ہلاک کر دیا۔

سلمان بدینی پولیس افسران اور ہزارہ برادری کے 100 سے زائد ارکان کے قتل کے لیے مطلوب تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ داعش سے بھی منسلک تھا۔