سلامتی

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست نے خلاف ورزیوں کے ایک سلسلے میں بار بار بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو توڑا ہے جس سے علاقائی سیکورٹی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائیوں میں اپنی تیاری کو مثال بنا دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسی تقریبات طالبان کی شکست کے بعد ممکن ہوئی ہیں۔

خاندان اور دوست احباب درجنوں نئے ریستورانوں اور تحفظ کے ایک تازہ احساس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشتگرد نیٹ ورکس کو غیرمستحکم کر رہی ہیں اور صوبہ میں امن لا رہی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ (پی اے ایف) آپریشن ضربِ عضب میں انتہائی اہم کرادر ادا کر رہی ہے اور زمینی افواج کی فضائی حملوں اور فضائی نگرانی سے مدد کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے گھر بدر افراد کی صوبہ خوست سے واپسی شروع ہو چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیوں اور فوجی آپریشنوں نے سالوں میں دہشت گردی کے واقعات کم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔

سنہ 2016 میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مخبری کی بنیاد پر 25،000 کارروائیاں (آئی بی اوز) کیں، بشمول 11،000 جو صرف پنجاب میں ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی مشقیں افواج کی علاقائی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی۔