سلامتی

تقریباً 200 کمانڈو حسّاس مقامات کی حفاظت کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اور انسدادِ دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں نے صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بہت سے اضلاع میں جرائم اور دہشت گردی میں کمی ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تعاون پاکستان، افغانستان اور وسط ایشیا میں دہشتگردی کی انسداد کی کنجی ہے۔

پاکستان میں عید الاضحیٰ منانے کا آغاز 13 ستمبر سے ہو گا۔

ضربِ عضب نے ملک بھر میں قیامِ امن میں مدد کی۔

عسکری اور مخبری پر مبنی کارروائیوں نے دہشت گردوں کے لیے سرمائے کے ماخذوں کو کم کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔

کے پی پولیس کے 20 افسروں، جن میں سے چند فرض کی راہ میں شہید ہو گئے، نے اعزاز وصول کیے۔

پاکستانی دہشت گردوں نے شناخت کو ناکام بنانے کے لیے ایک سفاکانہ ہتھکنڈا استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب نے عسکریت پسندی میں کمی کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔