سلامتی

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن ضربِ عضب اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز نے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک اور افغانستان جانے والے سامان پر حملوں کی ان کی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔

حکام نے ستمبر میں داعش کے چار مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔

پشاور اور مردان میں کامیابی کے بعد، ہنگامی حالات کے شعبے کو دیگر اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ داعش کے ایک مبینہ رکن جس پر کم از کم بتیس افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، کو قاضی قلعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مضبوط سرحدی سیکیورٹی غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور عسکریت پسندی کا خاتمہ اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائے گی۔

پاکستان میں محرّم کے ماہِ مقدّس کا آغاز 3 اکتوبر کو ہوا۔

وہ خطاوار جو ماضی میں سزا سے بچ جاتے تھے اب انہیں ایک قانون کا سامنا ہے جو انہیں پکڑنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ نئی سیل فون ایپ نہایت مفید ہے۔

تقریباً 200 کمانڈو حسّاس مقامات کی حفاظت کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اور انسدادِ دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں نے صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔