سلامتی

مقامی حکومت سرمایہ کاروں کو بجلی پر رعایت، زمین کے حصول اور دیگر مراعات کے ساتھ ترغیب دے رہی ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوری کے آغاز میں علاقے کا دورہ کیا اور سیکورٹی کی صورتِ حال اور ترقیاتی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

2017 میں کے پی میں گرفتار ہونے والے 473 عسکریت پسندوں میں سے 58 نے کم از کم دو برس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔

ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ "یہ محفوظ گاڑیاں پولیس فورس کی آپریشنل صلاحیت کو مزید بہتر بنائیں گی"۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ سلامتی کی بہتر صورتِ حال کے سا تھ، ملک میں معاشی ترقی رفتار پکڑ رہی ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ روس طالبان کو جدید ہتھیار فروخت کر رہا ہے جس میں لیزر اسکوپ والی سنائپر رائفلیں بھی شامل ہیں۔

اس وقت جاری بحث و مباحثہ، اس بات کے سامنے آنے کے بعد شروع ہوا کہ عسکریت پسند گروہ انصار الشرعیہ پاکستان تقریبا ایک درجن انتہائی اعلی تعلیم یافتہ ارکان سے بنا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے آپریشن کیے جانے کے ساتھ صوبے میں دہشتگرد حملوں کی تعداد دس برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے خصوصی مہارتوں کے حامل آٹھ پولیس اسکولوں سے 17،000 سے زائد پولیس افسران نے تربیت حاصل کی ہے۔

آپریشنل کمانڈ کورس کا مقصد درمیانی سطح کے افسران کو اس بات کی تربیت دینا ہے کہ دہشت گردی کے ہنگامی حالات میں ردعمل کا اظہار کیسے کیا جائے اور چھاپے کیسے مارے جائیں۔