سلامتی

سابقہ عسکریت پسندوں کا تازہ ترین گروہ، جن میں سے بہت سے نوعمر ہیں، نے گزشتہ ماہ جنوبی وزیرستان میں ڈی ریڈیکلائزیشن کی تربیت مکمل کی اور وہ کاروبار شروع کرنے یا فوج میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیرِ داخلہ احسن اقبال کو زخمی کرنے کے بعد تحریکِ لبّیک یا رسول اللہ کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

مشرقِ وسطی، افغانستان، وسطی ایشیاء اور اس سے آگے سے دوبارہ متعلق ہونے کی کوشش میں، کرملین تہران کے فرقہ ورانہ ایجنڈا کی حمایت کر رہا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فاؤنڈیشن کی عمارت پر دو دفعہ چھاپہ مارا اور کم از کم چار ارکان کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور تہران کی جانب سے شام میں لڑائی کے لیے پاکستانی شیعوں کی بھرتی میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

ایرانی منصوبہ سازوں نے تین ماہ میں دوسری مرتبہ طالبان کے زریعے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت قدرتی گیس پائپ لائن منصوبے پر حملہ کرانے کی کوشش کی ہے۔ ایران اس منصوبے کی کھل کی مخالفت کرتا ہے۔

پاک فوج نے 11 اپریل کو دیر بالا اور دیر زیریں کی سولین حکومت کو سیکیورٹی فرائض منتقل کر دیے۔

طورخم سرحدی کراسنگ پر فلیگ میٹنگ سرحد پر کچھ عرصہ پہلے مختصر جھڑپ کے بعد ہوئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی ملاقاتیں ابلاغ کو بہتر بنائیں گی اور تناؤ کو ختم کریں گی۔

قبائلی بزرگوں اور مقامی حکام نے فوری طور پر صورتِ حال کو خراب ہونے سے روکا اور کہا کہ سرحد پر لڑائی سے صرف دہشت گردوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔

آگاہی کی ایک جاری مہم وزیرستان میں مقامی افراد کو سکھا رہی ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے پیچھے چھوڑی جانے والی آئی ای ڈیز، بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز آلات کو کیسے شناخت کیا جا سکتا ہے۔

حکام نے تین افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن پر پاراچنار میں دہشت گرد حملوں کا شبہ ہے۔