سلامتی

ایران کی طرف سے فنڈ کردہ اور تربیت شدہ طالبان عسکریت پسندوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس تقریب پر حملہ کریں جس میں پاکستان کے وزیراعظم ایک اہم پائپ لائن منصوبے کا افتتاح کرنے والے ہیں۔ طالبان نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور ہتھیار ڈال دیے۔

یکم دسمبر کو طالبان جنگجوؤں کی طرف سے حملے میں نو جانیں لینے کے تقریباً دو ماہ بعد پشاور میں حال ہی میں نام تبدیل ہونے والی ایگریکلچر سروسز اکیڈمی پر علمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ معصوم سٹانکزئی نے کہا کہ ثبوت یہ ثابت کرتے ہیں کہ ماسکو اور تہران طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

ایران کی حمایت رکھنے والے ایجنٹ ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو بہکا رہے ہیں کہ وہ ایسی جنگوں میں لڑیں جو صرف پاکستان کی حاکمیت کو نقصان پہنچانے اور تہران کے فرقہ ورانہ مقاصد کو مضبوط بنانے کا مقصد انجام دے رہی ہیں۔

پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا، علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔

فرقہ ورانہ حملوں کی تعداد میں 2016 سے 2017 کے درمیان 44 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جس کا سہرا سیکورٹی فورسز، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور علماء کی مشترکہ کوششوں کے سر جاتا ہے۔

کوئٹہ کے تمام چھ داخلی اور خارجی مقامات کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں دیگر اہم مقامات پر تقریباً 1,400 کلوزڈ سرکٹ ٹیلیویژن (CCTV) کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

اییٹ کمانڈوز دہشت گرد حملوں، یرغمالی صورتحال اور دیگر ہنگامی صورتحال کے فوری جواب کے ذمہ دار ہوں گے۔

گرفتار شدہ دہشت گردوں سے ملنے والی معلومات نے فرار ہونے والے دہشت گردوں کی چھپائی ہوئی اسلحے کی کھیپوں تک پہنچنے میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کی ہے۔

ٹی این ایس ایم کے سربراہ صوفی محمّد نے حال ہی میں جیل سے رہائی کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ ٹی ٹی پی رہنما ملّا فضل اللہ خوارج سے بھی بدتر ہیں اور انہوں نے اسلام کو غیر مسلموں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا۔