حقوقِ انسانی

چین نے مسلمانوں پر جو بھی مظالم ڈھائے ہیں ان کے لیے شی کو ذاتی طور پر ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

11 نومبر کو بیجنگ میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے میوزیم میں مہمان چینی صدر شی جن پنگ کو دکھاتی ہوئی ایک سکرین کے سامنے سے گزرتے ہوئے۔ [نوئل سیلس/اے ایف پی]

لندن -- اس ماہ کے شروع میں یغور ٹریبونل نے اطلاع دی کہ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) معقول شک سے بالاتر سنکیانگ میں یغوروں اور دیگر ترک زبان بولنے والے مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے -- اور "بنیادی ذمہ داری" چینی صدر شی جن پنگ پر عائد ہوتی ہے۔

نو وکلاء اور انسانی حقوق کے تجزیہ کاروں نے 9 دسمبر کو لندن میں اس سال شواہد کے دو اجلاسوں میں انسانیت کے خلاف جرائم، تشدد، عصمت دری اور غیر انسانی سلوک کے الزامات سننے کے بعد اپنی رائے شائع کی۔

ٹربیونل عالمی یغور کانگرس کی درخواست پر قائم کیا گیا تھا، جو جلاوطن یغوروں کی نمائندگی کرنے والا سب سے بڑا گروہ ہے، جو مبینہ زیادتیوں پر چین کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی برادری کو قائل کرتا ہے۔

63 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں، پینل نے کہا کہ سی سی پی ملک کے شمال مغرب میں مسلمان یغور اقلیت کے "ایک نمایاں حصے کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے" اور اس طرح یہ "نسل کشی کی مرتکب ہوئی ہے"۔

image

حال ہی میں بیجنگ کی جانب سے مسلمانوں کو حراست میں لینے کے لیے بنائی گئی 100 سے زیادہ نئی عمارات میں سے چند ایک کا منظر۔ [بزفیڈ]

image

11 ستمبر 2019 کو سنکیانگ کے علاقائی دارالحکومت اُرمچی میں ایک شخص ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا ہے۔ بیجنگ مسجد کے میناروں اور قبرستانوں کو تباہ کر رہا ہے جہاں یغور خاندانوں کی نسلیں سپردِ خاک ہیں، اور پیچھے انسانی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے مقبرے چھوڑ کر جا رہا ہے، جسے فعالیت پسند سنکیانگ میں نسلی گروہ کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

سی سی پی نے "سنکیانگ میں آبادی کو 'بہتر بنانے' کے لیے اقدامات کا ایک جامع نظام" وضع کیا ہے تاکہ یغوروں کی شرح پیدائش کو کم کیا جا سکے، جن میں جبری نس بندی، ضبطِ تولید اور اسقاط حمل شامل ہیں.

اس میں کہا گیا ہے، "مستقبل کی نسلوں میں یغوروں کی آبادی اس سے کم ہو جائے گی جتنی ان پالیسیوں کے بغیر ہوتی۔ اس کے نتیجے میں یغوروں کی جزوی تباہی ہو گی۔"

ٹربیونل نے نتیجہ اخذ کیا، "نسل کشی کنونشن کے لفظ 'تباہی' کے استعمال کے مطابق یہ نسل کشی کے ثبوت کے لیے درکار ایک ممنوعہ عمل کو پورا کرتا ہے"۔

'بنیادی ذمہ داری' شی پر عائد ہوتی ہے

اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے سابق وسکیلِ استغاثہ برطانوی بیرسٹر جیفری نائس نے یغور ٹریبونل کی سربراہی کی۔

انہوں نے اور دیگر اراکین نے ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزی ثبوت اور آزاد محققین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تعلیمی رپورٹیں، میڈیا رپورٹیں، اور عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) سے ہی تعلق رکھنے والی سرکاری دستاویزات کا معائنہ کیا۔

پینل نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لاکھوں یغوروں کو -- اور ممکنہ طور پر ایک ملین سے زائد -- کو من مانے طور پر حراست میں لیا گیا تھا، اور ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کیا گیا تھا۔

اس نے معقول شک و شبہ سے بالاتر پایا کہ تشدد "سرکاری عہدیداروں یا پی آر سی اور/یا سی سی پی کی سرکاری حیثیتوں میں کام کرنے والے دیگر افراد کے اکسانے پر، یا ان کی رضامندی سے یا ان کی ایماء پر" ہوا تھا۔

اس نے قید، جبری منتقلی، جبری گمشدگیوں، عصمت دری اور جنسی تشدد ، ظلم و ستم اور غیر انسانی افعال کے دعوؤں کو برقرار رکھا۔

اس نے کہا، "ٹربیونل مطمئن ہے کہ یغوروں کو نشانہ بنانے والی متعدد لیکن باہم متصل پالیسیوں کے نفاذ کے لیے پی آر سی کی جانب سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔"

ٹربیونل نے کہا کہ شی اور دیگر اعلیٰ حکام پر سنکیانگ میں یغوروں اور دیگر ترک مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی "بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔"

شواہد بدسلوکی کے طویل سلسلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں

ٹربیونل نے حراستی مراکز کی تعمیر، زیرِ حراست افراد کے ساتھ سلوک، سنکیانگ بھر میں مساجد کی تباہی، اور آبادی پر قابو پانے کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور ریاستی جاسوسی کے استعمال میں سی سی پی کی برق رفتاری کو نوٹ کیا۔

ٹریبونل کی رپورٹ کو پڑھتے ہوئے نائس نے کہا، "حراستی مراکز کی جماعتوں میں قیدیوں کو پہرے داروں کی موجودگی میں سی سی پی اور پی آر سی کی تعریف میں گانے سیکھنے اور گانے پر مجبور کیا جاتا تھا، ورنہ انہیں جماعت سے گھسیٹ کر نکالنے کا خطرہ ہوتا تھا، یا اس حد تک تشدد کیے جانے کا خطرہ ہوتا تھا کہ ان کی چیخیں کلاس میں موجود لوگوں کو سنائی دیتی تھیں۔"

انہوں نے کہا کہ زیرِ حراست خواتین، اور ممکنہ طور پر مردوں کو ایسی دوا لینے پر مجبور کیا گیا جس سے ان کے تولیدی افعال متاثر ہوئے اور جس کے دماغ میں دیگر تبدیلیوں والے اثرات مرتب ہوئے۔

ٹربیونل کو پتہ چلا، "حراستی مراکز میں اور ان سے باہر حاملہ خواتین کو حمل کے آخری مراحل میں بھی اسقاط حمل کروانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اسقاط حمل کی کوشش کے دوران، بعض اوقات بچے زندہ پیدا ہوتے تھے لیکن پھر مار دیئے جاتے تھے۔"

اس میں کہا گیا ہے کہ سخت نگرانی اور جاسوسی کے ذریعے، سنکیانگ کے کچھ حصے "کھلی جیل" کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پڑوسیوں کو ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے پر آمادہ یا مجبور کیا گیا ہے، اور معاشرے کے سرکردہ افراد -- بشمول مذہبی، ثقافتی، سیاسی اور کاروباری رہنماؤں -- کو قید کیا گیا ہے یا "لاپتہ" کر دیا گیا ہے اور بعض معاملات میں انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

چند ماہ سے کم عمر بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر کے یتیم خانوں یا سی سی پی کے زیر انتظام اقامتی سکولوں میں رکھا گیا ہے، بعض اوقات والدین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بچے زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔

یغور خواتین کو ہان نسلی اکثریت سے تعلق رکھنے والے مردوں سے زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، انکار پر حراست یا دیگر سزاؤں کا خطرہ ہوتا ہے۔

ٹربیونل کو معلوم ہوا کہ دیگر معاملات میں، "خاندانی دوستوں" -- عام طور پر ہان مردوں -- کو ایک وقت میں "گھر والوں کے خیالات اور رویے کی نگرانی کرنے اور اطلاع دینے کے لیے" ہفتوں تک یغور خاندانوں کے ساتھ رہنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

اس نے کہا کہ "بچوں سے سوالات پوچھے گئے ہیں اور ہان مرد بعض اوقات خاندان کے ساتھ ایک ہی بستر پر سوتے تھے، بعض صورتوں میں جب یغور مرد حراست میں ہوتے تھے تو جنسی ہراسگی مرضی کے بغیر جنسی تعلقات ناگزیر نتیجہ ہوتا تھا"۔

بڑھتی ہوئی پابندیاں

بیجنگ نے یغور ٹربیونل، جو کسی بھی حکومت سے وابستہ نہیں ہے، کی مذمت کی ہے اور اس کو ایک مکروہ "چین مخالف" داغ قرار دیا ہے اور اس کے چیئرمین پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکہ، کئی دیگر مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یغوروں کے ساتھ چین کے سلوک کو "نسل کشی" قرار دیا ہے.

ممالک بشمول امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ بیجنگ میں آئندہ سرمائی اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے گزشتہ ہفتے چین کے یغوروں کے ساتھ سلوک کی مذمت کرنے کے لیے کارروائیوں کے ایک سلسلے کا آغاز کیا.

16 دسمبر کو امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر امریکہ کو پہلا ملک بنانے کی حمایت کی جس نے جبری مشقت کے خدشات پر سنکیانگ سے تقریباً تمام درآمدات پر پابندی لگا دی ہے۔

اس عمل، جس پر امریکی صدر جو بائیڈن کا دستخط کر کے قانون بنانا متوقع ہے، کے ایک محرک، سینیٹر مارکو روبیو نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ یہ نسل کشی کے ساتھ ایک پریشان کن، ہولناک شرح سے ہو رہا ہے جس کا اب ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔"

سینیٹ نے چین میں امریکی سفیر نکولس برنز سے تصدیق کی، جنہوں نے چین کو "جارح" قرار دیا اور یغوروں کی "نسل کشی" کی مذمت کی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے سنکیانگ میں جاسوسی پر پابندیوں کا ایک دور نافذ کیا، جہاں حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ چین یغوروں کی نگرانی کے لیے نئی ٹیکنالوجیاں استعمال کر رہا ہے۔

ہدف بننے والی کمپنیوں میں ایس زیڈ ڈی جے آئی ٹیکنالوجی شامل ہے، جو کہ صارف ڈرون بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا، "یہ آٹھ ادارے پی آر سی میں نسلی اور مذہبی اقلیتی گروہوں کے ارکان کی جاسوسی کرنے اور ان کا سراغ لگانے میں فعال طور پر معاونت کرتے ہیں، جن میں غالب اکثریت سنکیانگ کے مسلمان یغوروں کی ہے۔"

امریکہ نے پہلے ہی کمپنی کی تجارتی برآمدات کو محدود کر رکھا تھا، لیکن نئی پابندیاں اس میں کسی بھی امریکی سرمایہ کاری کو جرم بنا دیں گی۔

جن دیگر کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں ژیامن میا پیکو انفارمیشن شامل ہے، جس نے فون پر فائلوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کی ہے، اور کلاؤڈ واک ٹیکنالوجی، جو یغوروں اور تبتوں کے چہروں کو پہچاننے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک الگ واقعے میں، امریکی محکمۂ تجارت نے اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسز (اے ایم ایم ایس) اور اس کے 11 تحقیقی اداروں کو بائیو ٹیکنالوجی کے کاموں بشمول "مقصد دماغی کنٹرول ہتھیار" کے لیے حساس برآمدات کو محدود کر دیا۔

وزیرِ تجارت جینا رائمنڈو نے ایک بیان میں کہا، "بدقسمتی سے، عوامی جمہوریہ چین ان ٹیکنالوجیوں کو اپنے لوگوں پر کنٹرول حاصل کرنے اور نسلی اور مذہبی اقلیتی گروہوں کے ارکان پر جبر کے لیے استعمال کرنے کا انتخاب کر رہا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500