حقوقِ انسانی

چین کی جانب سے سنکیانگ میں مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق خصوصی عدالت کی تحقیقات

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

4 جون کو لندن میں برطانیہ اساسی وکلاء اور حقوق کے تجزیہ کاروں پر مشتمل، چین میں ایغور کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے والے ایک پینل، ’ایغور ٹریبیونل میں سماعت کے پہلے روز قازق-ایغور گواہ عمر بیکلی (بائیں) بیان کر رہا ہے کہ کیسے، اس کے مطابق، اسے ایک ’تعلیمِ نو‘ کیمپ میں زنجیروں سے جکڑا گیا تھا۔ [تولگا ایکمین/اے ایف پی]

لندن -- برطانیہ اساسی وکلاء اور حقوقِ انسانی کے ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے سنکیانگ خطے میں ایغور اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے ساتھ سلوک میں چین کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے کی ایک آزادانہ تحقیق کے جزُ کے طور پر گواہوں سے شہادتوں کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔

"ایغور ٹربیونل" – 4-7 جون اور 10-13 ستمبر— کو دسمبر میں ایک رپورٹ کی مجوزہ اشاعت سے قبل دو سماعتیں منعقد کر رہا ہے۔ یہ سماعتیں عوامی ہوں گی اور انہیں اس ٹریبیونل کے یو ٹیوب اور ٹویٹر چینلز پر براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

ٹربیونل کے سربراہ گیوفّری نائیس نے جمعہ (4 جون) کو پہلی چار روزہ نشست کے آغاز میں کہا "پی آر سی [عوامی جمہوریہ چین] کے خلاف لگائے گئے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں"، انہوں نے مزید کہا کہ ان میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی متعدد خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

بیجنگ نے 400 سے زائد تنصیبات، جنہیں چین "پیشہ ورانہ تربیتی مراکز" یا "تعلیمِ نو کے مراکز" کہتا ہے، میں دس لاکھ سے زائد یوکر اور دیگر ترکک مسلمانوں کو قید کیا ہے۔

image

4 جون کو لندن میں برطانیہ اساسی وکلاء اور حقوقِ انسانی کے ماہرین پر مشتمل، چین میں ایغور کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے والے ایک پینل، ’ایغور ٹریبیونل میں سماعت کے پہلے روز گواہ پاٹیگل تالیپ (بائیں) ردِّ عمل دے رہا ہے۔ [تولگا ایکمین/اے ایف پی]

تاہم، ان تنصیبات کے بارے میں بڑے پیمانے پر غیر رضاکارانہ حراستی کیمپس ہونے کی اطلاعات ہیں، جنہیں چند ایک نے "کنسنٹریشن کیمپس" سے مربوط کیا ہے۔

ٹربیونل کی ویب سائیٹ پر ایک وضاحت کے مطابق، چین کے خلاف الزامات میں "قتل، تشدد، زیادتی اور دیگر جنسی تشدد سمیت شدید ذہنی یا جسمانی تکلیف، غلامی، بچوں کی اپنے والدین سے جبراً علیحدگی، جبری اسقاطِ حمل، جبری انقطاعِ اعضاء، جبری طور پر غائب کیا جانا، ثقافتی یا مذہبی ورثہ کی تباہی، عقوبت، جبری شادیاں اور ایغور گھرانوں پر ہان چینی آدمیوں کو مسلط کیے جانا شامل ہیں۔"

اس میں کہا گیا، "ثابت ہونے پر ان میں سے چند الزامات اس نتیجہ کا باعث ہو سکتے ہیں کہ پی آر سی ایغور عوام اور ایک مذہبی، نسلی، قومی اور لسانی گروہ کے طور پر ان کے وجود کو جزوی یا کلّی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے ایک مہم چلا رہا ہے۔"

یہ ٹریبیونل کسی حکومت سے منسلک نہیں، اور چین نے یہ کہتے ہوئے اس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے کہ یہ "جھوٹ گھڑنے کی مشین" ہے۔ بیجنگ نے اقوامِ متحدہ کے جنگی جرائم کے ایک سابق وکیلِ استغاثہ، نائیس اور دیگر ملوث افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

تاہم، اس ٹربیونل کے وکلاء نے کہا کہ امریکی اور آسٹریلیا کی حکومتوں نے پہلے سے تالیف شدہ دستاویزی شواہد کے ہزاروں صفحات پر مشتمل متعلقہ مواد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

یہ ٹربیونل سنکیانگ میں مبینہ بدسلوکی پر چین کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو جمع کرنے والے جلاوطن ایغور کی نمائندگی کرنے والے سب سے بڑے گروہ عالمی ایغور کانگریس کی درخواست پر ستمبر 2020 میں تشکیل دیا گیا۔

نائیس اور ان کے رفقائے کار نے عہد کیا کہ اس پینل کا کام "غیر جانبدارانہ" اور شواہد پر مبنی ہو گا۔

دلخراش شہادت

ابتدائی ایام میں اس پینل نے تشدد اور اجتماعی زیادتیوں کی دلخراش شہادتوں کی سماعت کی۔ گواہوں نے سنکیانگ کی کیمپوں میں غلاظت کی صورتِ حال بیان کیں، جن میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ جبری اسقاطِ حمل کے دوران ایک خاتون کا انتقال ہو گیا۔

وسط ایشیا میں سنکیانگ کی صورتِ حال کی خصوصی گونج سنی جا رہی ہے۔ وسط ایشیائی عوام کے سنکیانگ میں دسیوں لاکھوں لسانی ہم وطن اور اس کے ساتھ ساتھ رشتہ دار ہیں۔ قازقستان، قرغیزستان اور تاجکستان، تمام کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں۔

تین ماہ سے زائد عرصہ سے قازق روزانہ کی بنیادوں پر المتے میں چین کے سفارتخانے کے باہر مظاہروںمیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیجنگ سنکیانگ پر چین کے کریک ڈاؤن کے جزُ کے طور پر حراست میں لیے گئے دوستوں اور رشتہ داروں کو آزاد کرے۔

سنکیانگ کے صدرمقام ارمقی سے ایک ازبک النسل معلمہ قیلبینر صدیق نے کہا کہ انہیں کمیونسٹ جماعت کے افسروں کی جانب سے ایغور کے لیے دو بدبودار اور پرہجوم "تعلیمِ نو" کیمپوں – ایک خواتین اور ایک مردوں کا— میں چینی زبان سکھانے کا حکم دیا گیا۔

انہوں نے جمعہ کو ٹربیونل کو بتایا کہ ان نام نہاد طلبہ کو گھنٹوں طویل کلاسوں کے دوران ہتھکڑیاں پہننا پڑتیں۔

صدیق نے کہا، "پولیس اور کیمپ کے گارڈ مرد قیدیوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے، وہ انہیں بے عزت ہوتا دیکھ کر لطف اٹھاتے اور ان کی تکالیف ان کے لیے لذت تھیں۔"

انہوں نے کہا کہ جب خواتین قیدیوں کو تفتیش کے لیے لے جایا جاتا تو ان سے بدسلوکی کی جاتی۔ "انہیں نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا بلکہ ان کے ساتھ زیادتی بھی کی جاتی اور بعض کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ایغور خواتین کا جبری اسقاطِ حمل ایک معمول تھا اور ایک سانحہ میں، ایک خاتون قیدی اس عمل کی وجہ سے جاںبحق ہو گئی۔

صدیق نے کہا کہ انہیں نیدرلینڈ میں اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے ویزا موصول ہونے اور چین سے فرار ہونے سے قبل جبری اسقاطِ حمل کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا، "جن چیزوں کا میں نے مشاہدہ اور تجربہ کیا، میں انہیں ایک دن کے لیے بھی نہیں بھول سکتی، میں خود ایک عورت ہوں؛ میری ایک بیٹی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھی اس کرب سے گزرے۔"

ٹربیونل نے ایغور ورثہ کے حامل ایک قازق شہری کی بھی سماعت کی، جسے پولیس نے سنکیانگ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے گیا۔

اپنی گواہی کے دوران ایک مقام پر اس نے زنجیریں پہنی، تاکہ پینل کو دکھا سکے کہ اسے کیسے سات ماہ تک ایک کیمپ میں رکھا گیا تھا۔

اس نے کہا، "پہلے چار دن رات مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔"

بیکالی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "مجھے چھت سے لٹکا دیا گیا تھا،" اس نے مزید کہا کہ اسے پورے جسم اور پیروں کے تلووں پر پیٹا گیا۔

اس نے کہا کہ اس کے والد قتل کر دیے گئے اور تشدد کے بعد اس کا بھائی معذور ہو گا۔ اس نے ٹربیونل کو بتایا، "میرے والد فوت ہو گئے اور میری بہنوں اور بھائیوں پر دہشتگردوں کی چھاپ لگا دی گئی۔"

عالمی ایغور کانگریس کے صدر دلکن عیسیٰ، جنہوں نے جرمنی میں پناہ حاصل کی، نے پینل سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا، "بیرونِ ملک میری سرگرمیوں کی وجہ سے میرے پورے خاندان کو نگرانی اور حراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔"

"مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ میرے خاندان کے کتنے ارکان کنسنٹریشن کیمپس میں یا زیرِ حراست ہیں اور کتنے زندہ ہیں۔"

بیجنگ کی بڑھتے ہوئے شواہد کی تردید

اس ٹربیونل کی جانب سے سماعت ہونے والے الزامات ان کیمپوں سے نکلنے والے متعدد دیگر کے ساتھ مشابہ ہیں۔

ایغور ہیومن رائیٹس پراجیکٹ (یو ایچ آر پی) نے 13 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ ژنجیانگ میں مسلمانوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن میںچین نے 1,000 سے زائد اماموں اور مذہبی کرداروں کو گرفتار کیا ہے۔

یو ایچ آر پی کی رپورٹ ان الزامات کے حق میں شواہد کی فہرست میں اضافہ ہے کہ بیجنگ مسلم ثقافت اور مذہب کے خاتمہ اور نسلی اقلیتوں کو اکثریت ہان چینی ثقافت میں ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آسٹریلیا کے سٹریٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ (اے ایس پی آئی) نے گزشتہ ستمبر کو سیٹلائیٹ تصاویر اور شماریاتی ماڈلنگ استعمال کرتے ہوئے خبر دی کہ چینی حکام نے ژنجیانگ میں تقریباً 16,000 سے زائد مساجد کو تباہ کر دیا یا انہیں نقصان پہنچایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زیادہ تر تباہی گزشتہ تین برس کے دوران ہوئی اور تقریباً 8,500 مساجد تباہ ہوئیں۔

2019 میں اے ایف پی کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ خطے میں درجنوں مدرسے تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے انسانی باقیات اور ٹوٹے ہوئے مقبروں کی اینٹیں تمام تر زمین پر پھیل گئیں۔

نیویارک ٹایمز نے 10 مئی کو خبر دی کہ یوگر، قازق اور سنکیانگ سے دیگر مسلمان مرد و خواتین سے انٹرویو اور سرکاری شماریات اور مقامی میڈیا کے تجزیہ سے حکومتِ چین کی جانب سے کمیونیٹی کے حقوقِ افزائشِ نسل کو کنٹرول کرنے کی ایک "سخت کوشش" کا انکشاف ہوا ہے۔

حکومتِ امریکہ نے اعلان کیا کہ سنکیانگ میں ایک نسل کشی جاری ہے اور 12 مئی کو امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سے حکام نے مشترکہ طور پر چین سے ایغور اقلیت پر جبر کو بند کرنے اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سفیر (ایچ سی ایچ آر) کو اس خطے تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا۔

چین نے ان الزامات کی تردید کی اور اس ٹربیونل کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کے لیے چین کے وفد نے گزشتہ ماہ کہا، "سنکیانگ میں حالیہ صورتِ حال تاریخ کی بہترین سطح پر ہے۔"

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے گزشتہ جمعرات کو اس ٹربیونل پر "چین مخالف سیاست" کا الزام لگاتے ہوئے کہا، "اس جعلی ٹربیونل کا قانون سے کوئی تعلق نہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500