مذہب

طالبان جنگجو اپنے رہنماؤں سے کٹ گئے، مسلمانوں پر ظلم وستم کے لیے چین کے خلاف جہاد کا مطالبہ

عمر

image

22 اکتوبر کو طالبان جنگجو ہرات شہر میں تحفظ پر مامور ہیں۔ [عمر/سلام ٹائمز]

ہرات – جبکہ طالبان رہنما نقدی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم کیے جانے کی امّید میں بیجنگ کے ساتھ گرمجوش روابط بنائے ہوئے ہیں، افغانستان کی گلیوں میں اس گروہ کے ارکان چین کی جانب سے ایک بڑے پیمانے پر معتبر قرآن ایپلیکیشن پر پابندی اور سنکیانگ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم پر چین کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ایپل نے چین میں ایپ سٹور سے قرآن مجید ایپ کو ہٹا کر دسیوں لاکھوں صارفین کے لیے اسے بند کر دیا۔

کمپنی کے مطابق، یہ ایپ "دنیا بھر میں 25 ملین سے زائد مسلمانوں کے لیے قابلِ اعتبار" ہے جو دیگر کاموں کے ساتھ تلاوتِ قرآن سننے یا پڑھنے، نمازوں کے اوقات، قبلہ (مکہ) کی سمت معلوم کرنے، اور مکہ اور مدینہ میں سالانہ حج کی رسومات کی لائیو کوریج دیکھنے کے لیے اس ایپ کو استعمال کرتے ہیں۔

بیجنگ نے مسلمانوں کو ان کی مذہبی آزادی اور حقوق سے محروم کرتے ہوئے اس ایپ پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک درز کے طور پر ایک ایسے قانون کو استعمال کیا جس کے تحت کتابوں اور آن لائن جریدوں کی اشاعت کی اجازت کے لیے ایک اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔

image

کاشغر، سنکیانگ، چین کے شمال میں آرٹکس شہر پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم و تربیت کی سہولیات کا مرکز، جو حکومتِ چین کے ’تعلیمِ نو‘ کیمپوں میں سے ایک ہے جہاں زیادہ تر مسلمان نسلی اقلیتوں کو قید رکھا جاتا ہے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

image

چین کے مغربی سنکیانگ خطے میں ہوتان کے ایک بازار میں ایک مسلمان خاتون اپنے بچے کو لیے کھڑی ہے۔ خواتین کو جبری طور پر مانع حمل کے آلات نصب کیے جاتے ہیں یا ان کا سقوطِ حمل کیا جاتا ہے، حمل گرائے جاتے ہیں، زیادہ بچے ہونے پر بھاری جرمانے کیے جاتے ہیں، اور ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو ماہواری روک دیتی ہیں۔ [گریک بیکر/اے ایف پی]

ہرات شہر میں طالبان کے ایک رکن حمزہ مہاجر نے کہا کہ مسلمانوں کو حکومتِ چین کے جوروستم سے نجات دلانے کا بہترین طریقہ اس فاشسٹ حکومت کے خلاف ایک بغاوت مسلط کرنا ہے۔

انہوں نے طالبان قیادت کی خاموشی کے بالکل برعکس کہا کہ حکومتِ چین کی جانب سے قرآن ایپ پر پابندی "ایک جرم ہے اور دنیا بھر کے مسلمان نہ تو اسے برداشت کریں گے اور نہ ہی اس پر خاموش رہیں گے۔"

مہاجر نے کہا، "چین سرِ عام مسلمانوں کے خصائص اور مقدسات کی بے عزتی کر رہا ہے، اور [یہ حکومت] اپنی مسلم آبادی کو دق کر رہی ہے۔ حکومتِ چین کے خلاف جہاد کا وقت آ گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "دنیا بھر کے مسلمانوں کو حکومتِ چین کے خلاف جہاد کا آغاز کرنے کے لیے اپنے وسائل کو بروئے کار لانا چاہیئے۔ جب تک ہم چین کی کمیونسٹ حکومت کو دبانے کے لیے قوت کا استعمال نہ کریں، یہ ملک کبھی بھی اپنی مسلمان آبادی کے خلاف ظالمانہ جرائم کرنے سے باز نہیں آئے گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "[چین] میں حکومتِ چین کی بربریت اور تشدد کی انسداد کا بہترین ہتھیار جہاد مسلط کرنا ہے۔"

یہ جذبات، جو متعدد طالبان جنگجو بھی رکھتے ہیں، اس گروہ کی قیادت کے برعکس ہیں، جو بظاہر سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف چین کی بربریت کو نظرانداز کیے ہوئے ہیں، اسے حقوق کے علمبردار گروہ، مغربی حکومتیں، اور متعدد مسلمان نسل کشی کے مترادف سمجھتے ہیں۔

چینی جبر

مسلم اکثریتی خطے سنکیانگمیں چینی ظلم و ستم، چینی حکام نے ایک ملین سے زائد یوگر اور دیگر مسلمانوں – بشمول قازق اور کرغیز النسل—کو 400 سے زائد حراستی مراکز جن میں "سیاسی تعلیمی" کیمپ، قبل از مقدمہ حراستی مراکز اور جیل شامل ہیں، میں قید رکھا ہوا ہے۔

کئی ملین مزید سخت نگرانی اور قابو میں رہتے ہیں۔

بیجنگ دہشتگردی کی بیخ کنی اور ملازمت کے مواقع بہتر بنانے کے لیے "پیشہ ورانہ تربیتی مراکز" کے طور پر ان مراکز کا دفاع کرتا ہے۔

تاہم ان تنصیبات کے بارے میں بڑے پیمانے پر غیر رضاکارانہ حراستی مراکز، جنہیں متعدد نے "حراستی کیمپوں" جیسا بیان کیا ہے، کی خبریں ہیں۔

آزادانہ تحقیقات اور سابقہ قیدیوں سے انٹرویوز سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد، دماغ شوئی، منظم زیادتی ، مسلمان خواتین کا جبری اسقاطِ حمل، جبری طور پر اعضا نکالے جانے، جنسی تشدد اور دیگر وحشیانہ کاروائیوں کا پتہ چلتا ہے۔

ہرات شہر میں ایک طالبان رکن حمید اللہ غفاری نے کہا کہ چین مسلمانوں کا دشمن ہے اور اس حکومت نے تمام تر تاریخ میں اپنی مسلم آبادی کے خلاف شدید ترین مظالم ڈھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ چین مسلمان خواتین کا اسقاطِ حمل کر رہی ہے تاکہ وہ بچے نہ پیدا کر سکیں۔ یہ اس ملک میں اسلام کی بیخ کنی کرنے کے اپنے طویل المدت عزم کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کی خونریزی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

غفاری نے کہا کہ یہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ حکومتِ چین کے مسلمانوں پر جبر و ستم کے خلاف کھڑے ہوں اور مسلمانوں پر مزید تشدد نہ ہونے دیں۔

انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر حکومتِ چین کی جانب سے مسلمانوں پر ستم جاری رہا تو تمام مسلمان اس کے خلاف کھڑے ہوں گے اور کاروائی کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا، "مسلمانوں کے خلاف اس حکومت کی بربریت کی وجہ سے اللہ نے چین میں کرونا وائرس بھیجا، لیکن حکومت نے اس سے سبق نہیں سیکھا اور ابھی بھی مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے۔"

ہرات شہر میں ایک اور طالبان رکن عمر معتصم نے کہا کہ چینی مسلمانوں کو اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہونا چاہیئے اور اپنے حقوق اور مذہبی استحقاق کے لیے اپنی تمام تر صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا، "ہم چینی مسلمانوں کے اپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے میں ان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ چینی مسلمان ہمارے بہن بھائی ہیں، اور اگر حالات اجازت دین تو ہم اپنی جانوں اور مال کے ساتھ ان کی حمایت کریں گے۔"

معتصم نے کہا، "ہم چینی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں پر ظلم اور ان کی بے عزتی کرنا بند کریں؛ بصورتِ دیگر انہیں دنیا بھر سے مسلمانوں کے خروج کا سامنا کرنا ہو گا۔"

چین سے دوستی ’ناجائز‘

مسلمانوں کی مذہبی آزادی سے مسلسل انکار اور قرآن مجید ایپ کو مٹائے جانے کے ردِّ عمل میں علمائے دین نے مسلمان ممالک کی چین سے دوستی کو ناجائز قرار دیا ہے۔

ہرات کے ایک مولوی، مولوی احسان اللہ ہدایت نے کہا کہ حکومتِ چین مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کر رہی ہے، اور سنکیانگ خطے میں اویغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کئی برسوں سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا، "عوامی جمہوریہٴ چین مسلمانوں کو۔۔۔ جبراً حراستی مراکز میں رکھتی ہے اور ان پر بے دردی سے تشدد کرتی ہے۔ اس ظلم و ستم کو ختم ہونا چاہیئے اور چینی مسلمانوں کو دیگر انسانوں کی طرح عام زندگی بسر کرنی چاہیئے۔"

انہوں نے تمام مسلمان ممالک سے چین سے روابط منقطع کرنے اور حکومتِ چین کی ایذارسانی اور ناانصافی کے خاتمہ کے لیے ایک اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ہدایت نے کہا، "ایک ایسی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی دوستی اور بے تکلفی گناہ ہے، جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوں۔"

صوبہ بادغیس کے صدرمقام قلعہٴ نوا کے ایک عالمِ دین مولانا خلیل احمد نیازی نے کہا کہ حکومتِ چین مسلمانوں پر بدترین اور نہایت غیر انسانی سزائیں مسلط کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "حکومتِ چین، جو کہ اویغور مسلمانوں کے قتل، جنسی استحصال، تشدد اور بے گھر کیے جانے میں ملوث ہے، کے ساتھ مسلمان ممالک کی دوستی ایک گناہِ کبیرہ ہے۔"

نیازی نے کہا، "ایک طرف حکومتِ چین مسلمان ممالک کے ساتھ دوستی قائم کرنے کی متلاشی ہے، جبکہ دوسری جانب اویغور مسلمانوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ ہم تمام مسلمان ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ چین پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی مسلمان آبادی پر مزید ظلم نہ کرے۔"

چین سے متعلق خاموشی

متعدد افغان چین کے ساتھ گرمجوش تعلقات رکھنے پر طالبان اور حکومتِ ایران پر تنقید کرتے ہیں۔

ہرات کے ایک رہائشی جمشید علی زادہ نے کہا کہ اکثر مسلمان ممالک کی خاموشی اور حکومتِ چین کی جانب سے اویغور مسلمانوں پر ظلم کی مذمت نہ کرنا ناقابلِ معافی ہے۔

علی زادہ نے حکومتِ چین کی جانب سے مسلمانوں کی خونریزی پر طالبان اور حکومتِ ایران کی خاموشی پر سوال اٹھایا، اور کہا کہ افغانستان اور ایران، دونوں اسلامی حکومتیں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

چین متعدد مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے مفاد کے لیے روابط بڑھا رہا ہے، اور یہ ممالک اپنے معاشی مفادات کے لیے حکومتِ چین کی جانب سے یوگر مسلمانوں پر ظلم کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

علی زادہ نے کہا، "اماراتِ اسلامی کو چین کی قلیل انسانی امداد قبول نہیں کرنی چاہیئے اور [افغانستان کے ساتھ] اچھے تعلقات کے لیے چین کو یقین دہانی کرانی چاہیئے کہ وہ [چینی] مسلمانوں کے حقوق کی مزید خلاف ورزی نہیں کرے گا۔"

صوبہ نمروز کے صدرمقام زارنج کے ایک رہائشی فیض محمّد کاکڑ نے بھی مسلمان ممالک کی خاموشی پر غصے کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "میں تمام مسلمان ممالک پر زور دیتا ہوں کہ وہ اقوامِ متحدہ سمیت متعدد پلیٹ فارمز پر اٹھ کھڑے ہوں اور ظالم چینی حکومت کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف فوری کاروائی کریں۔"

کاکڑ نے کہا، "ہم اماراتِ اسلامی سے توقع کرتے ہیں کہ وہ معصوم چینی مسلم برادری کی حمایت میں آواز اٹھائے، لیکن بدقسمتی سے وہ خاموش ہے ۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500