حقوقِ انسانی

چینی پالیسیاں سنکیانگ میں 4 ملین سے زائد مسلمان بچوں کی پیدائش روک سکتی ہیں

از پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

25 اپریل کو چین کے صوبہ انہوئی میں فویانگ میں ایک ہسپتال کے بچہ وارڈ میں طبی عملے کی ایک رکن ایک نوزائیدہ بچے کو دودھ پلاتے ہوئے۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

بیجنگ -- ایک نئی تحقیق میں ظاہر ہوا ہے کہ چین کی ایسی پالیسیاں جو خصوصاً سنکیانگ میں یغور اور دیگر ترکی بولنے والے نسلی گروہوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے ہیں، اگلی دو دہائیوں میں تقریباً چار ملین مسلمان بچوں کی پیدائش کو روک سکتی ہیں۔

اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ اقلیتوں میں کم شرح پیدائش سے جنوبی سنکیانگ کے "اہم علاقے" یغور میں ہان چینیوں -- جو باقی ماندہ چین میں اکثریت ہیں -- کی آبادی موجودہ 8.4 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد ہو سکتی ہے۔

کئی برسوں سے بیجنگ نے اپنی گرفت وسیع سرحدی علاقے پر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے جو تاریخی طور پر معاشی عدم مساوات اور کبھی کبھار بدامنی پیدا ہونے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

سنکیانگ کی آبادیات میں ہیر پھیر کرنا

آبادکاری کی ایک مہم میں حالیہ دہائیوں میں کام کی تلاش کے لیے کوئلے- اور گیس کے ذخائر سے مالا مال علاقے میں کروڑوں ہان چینیوں کو سنکیانگ میں لا کر بسایا گیا ہےجس سے عملی طور پر مزاحمت پیدا ہوئی ہے۔

image

4 جون 2019 کو چین کے سنکیانگ خطے میں، کاشغر کی ایک گلی میں ایک یغور خاتون بچوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ [گریگ بیکر/اے ایف پی]

image

13 ستمبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں لوگوں کو ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک گلی میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں چین کے سنکیانگ خطے میں نسلی یغور بستے ہیں۔ [ہیکٹر ریتامل/اے ایف پی]

جرمن محقق ایڈریان زینز کے مطابق، چینی دفاعی محققین کی جانب سے عوامی طور پر دستیاب دستاویزات میں اقلیتی برادریوں کے گھنے پن کو بدامنی کی "بنیادی وجہ" کے طور پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے اور خطرے کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر آبادی پر قابو پانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب، ہان آبادکاروں کی طغیانی کی کفالت کرنے کے لیے خشک علاقے میں قدرتی وسائل کی کمی کے بارے میں دستاویز بندی کردہ سرکاری خدشات بتاتے ہیں کہ چینی حکام پیدائش پر قابو پانے کو علاقے کی آبادیاتی ساخت میں ہیر پھیر کرنے کے لیے ایک کلیدی طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

31 مئی کو بیجنگ نے ایک جوڑے کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد پر نافذ پالیسی میں ایک بڑی اصلاح کا اعلان کیا تھا، اور اس میں اضافہ کر کے بچوں کی تعداد تین کر دی ہے کیونکہ ملک میں بوڑھوں کی آبادی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

لیکن محققین کا کہنا ہے کہ چینی حکومت تمام بچوں کو سنکیانگ میں مساوی طور پر پسندیدہ کے طور پر نہیں دیکھتی، اور فعال طریقے سے نسلی اقلیتوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

حکمتِ عملیوں میں خطے میں ضبطِ تولید کی پالیسیوں میں اضافہ کرنا شامل ہے -- بشمول جبراً بانجھ بنانا اور زیادہ بچے پیدا کرنے پر قید کی سزا دینا۔

جنوبی سنکیانگ کے چار اضلاع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور متعدد چینی محققین کی جانب سے تجویز کردہ نمونوں کو استعمال کرتے ہوئے، زینز نے حساب لگایا کہ بیجنگ کا مقصد "روایتی یغور علاقوں" میں ہان کی تعداد کو آبادی کے ایک چوتھائی تک بڑھانا ہے۔

زینز نے کہا کہ انہیں "جنوبی سنکیانگ میں ہان کی متناسب آبادی میں اضافہ کرنے کے لیے نسلی اقلیتوں کی آبادی میں اضافے کو کم کرنے" کی نیت نظر آئی ہے۔

'اب مزید بچے پیدا کرنے کی مشینیں نہیں'

آسٹریلوی سٹریٹجک پالیسی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے ایک تجزیے کے مطابق، سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سنکیانگ میں شرح پیدائش 2017 اور 2019 کے درمیان تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔

رواں سال کے شروع میں چینی سفارت کاروں نے آبادی میں کمی کو حکومت کی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کے ایک مثبت نتیجے کے طور پر پیش کیا تھا۔

امریکہ میں چینی سفارت خانے نے ٹویٹ کیا تھا، "سنکیانگ میں [یغور] خواتین کے ذہنوں کو آزادی دلائی گئی اور صنفی مساوات اور تولیدی صحت کو فروغ دیا گیا، جس سے وہ اب مزید بچے پیدا کرنے والی مشینیں نہیں رہیں۔"

ٹویٹ میں ریاستی ترجمان اخبار چائنا ڈیلی کے 7 جنوری کے مضمون کا ایک ربط شامل کیا گیا تھا جس میں سنکیانگ ڈویلپمنٹ ریسرچ سنٹر کی سنکیانگ میں 2018 سے آبادی میں تبدیلی سے متعلق ایک غیر مطبوعہ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سنکیانگ کے باشندوں نے اپنی مذہبی انتہاپسندی کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی پر مزاحمت کی تھی، اور اس طرح کی انتہاپسندی کے خاتمے نے یغور خواتین کو یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ خودمختاری دی کہ وہ بچے پیدا کریں یا نہیں۔

زینز کا نام لے کر مذمت کرتے ہوئے، اس میں کہا گیا کہ "یہ تبدیلیاں یغور آبادی کو 'جبراً بانجھ بنانے' کی وجہ سے نہیں ہوئیں، جیسا کہ بعض مغربی محققین اور سیاستدانوں کی جانب سے بار بار دعوی کیا گیا ہے۔

زینز کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، اگر مداخلت نہ کی گئی تو 2040 تک جنوبی سنکیانگ میں نسلی اقلیتوں کی آبادی 13.14 ملین تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران دباؤ ڈالنے کے اقدامات یغور اور دیگر نسلی اقلیتوں میں ساڑھے چار لاکھ تک پیدائشوں کو روک سکتے ہیں۔

'شدید تحفظات'

چین کو سنکیانگ میں اپنی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے، جہاں بین الاقوامی برادری کا کہنا ہے کہ بیجنگ نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے.

منگل (22 جون) کے روز، کینیڈا کی سربراہی میں 40 سے زائد ممالک نے اقوامِ متحدہ (یو این) کی انسانی حقوق کونسل میں چین کی سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تبت میں کارروائیوں پر "شدید تحفظات" کا اظہار کیا تھا۔

اس بیان کی تائید دیگر ممالک کے علاوہ آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، سپین اور امریکہ کی جانب سے کی گئی۔

دستخط کرنے والوں کی تعداد ان 22 سفیروں میں اضافہ ہے جنہوں نے یغوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر چین کی مذمت کرتے ہوئے سنہ 2019 میں اقوامِ متحدہ کے حقوق کے سربراہ مائیکل بیچلیٹ کو خط لکھا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ لازمی طور پر بیچلیٹ اور دیگر آزاد مبصرین کو سنکیانگ تک "فوری، بامعنی اور بلا روک ٹوک رسائی" دے اور یغوروں اور دیگر مسلمان اقلیتوں کی "من مانی حراست" بند کرے۔

اس میں کہا گیا، "معتبر اطلاعات بتاتی ہیں کہ سنکیانگ میں ایک ملین سے زائد افراد کو جبراً حراست میں رکھا گیا ہےاور بے تناسب طور پر وسیع جاسوسی کی جاتی ہے جس میں یغوروں اور دیگر اقلیتوں کے اراکین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور بنیادی آزادیوں اور یغور ثقافت پر پابندیاں عائد ہیں"۔

زیرِ حراست افراد میں یغور، نسلی قازق اور کرغیز، اور دیگر مسلمان اقلیتیں شامل ہیں۔

بیان میں تشدد یا ظلم، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک یا سزا زبردستی نس بندی، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، اور بچوں کو اپنے والدین سے زبردستی جدا کرنے کی اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

مشترکہ اعلامیئے نے ہانگ کانگ میں بنیادی آزادیوں کی زبوں حالی اور تبت میں انسانی حقوق کی حالت پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔

بیجنگ یغوروں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی تردید کرتا ہے اور مُصر ہے کہ وہ محض دہشت گردی کو ختم کرنے اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانے کے لیے "پیشہ ورانہ تربیتی مراکز" چلا رہا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے 22 فروری کو کہا تھا، "سنکیانگ اور تبت جیسی نسلی اقلیتوں کی آبادی والے مقامات، چین کی انسانی حقوق کی ترقی کی ایک روشن مثال بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500