حقوقِ انسانی

امریکی ایوان نے سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف جرائم پر چین کو سزا دینے کے لیے ووٹ دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی 2 دسمبر کو واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل پر اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے لیے پہنچ رہی ہیں۔ [جم واٹسن/ اے ایف پی]

واشنگٹن، ڈی سی -- امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ (8 دسمبر) کو مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک پر، چین کے علاقے سنکیانگ سے درآمدات پر پابندی لگانے والے قانون کی منظوری دی۔

ایوان کے اراکین نے "اویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ" کو پاس کرنے کے لیے 428-1 سے ووٹ دیا، جس کے تحت کاروباری اداروں کو "واضح اور قابل اعتماد شواہد کے ساتھ" یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہو گی کہ خطے سے درآمد کردہ کوئی بھی سامان جبری مشقت کے ذریعے نہیں بنایا گیا تھا۔

اسپیکر نینسی پیلوسی نے ووٹنگ سے قبل قانون سازوں کو بتایا کہ "اس وقت بیجنگ، ایغور لوگوں اور دیگر مسلم اقلیتوں کے خلاف جبر کی ایک ظالمانہ اور تیز تر مہم چلا رہا ہے" ۔

"سنکیانگ اور پورے چین میں، لاکھوں لوگ انسانی حقوق کی اشتعال انگیز خلاف ورزیوں کو برداشت کر رہے ہیں: جن میں بڑے پیمانے پر نگرانی اور انضباتی پولیسنگ سے؛ قید تنہائی اور جبری نس بندی سمیت بڑے پیمانے پر تشدد؛ ایسے صحافیوں اور کارکنوں کو ڈرایا جانا جنہوں نے سچ کو سامنے لانے کی جرات کی، تک شامل ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "اور چین کی حکومت کی طرف سے کیا جانے والا جبری مشقت کا استحصال، سمندر پار کر کے، ہمارے ساحلوں اور پوری دنیا تک پہنچتا ہے۔"

امریکی سینیٹ پہلے بھی اسی طرح کے اقدام کی منظوری دے چکا ہے اور اب دونوں کو مصالحت کی ضرورت ہوگی۔

اس کے بعد صدر بائڈن کو اس مسودہ پر دستخط کرنے ہوں گے جس سے یہ قانون بن جائے گا۔

یہ ووٹنگ، وائٹ ہاؤس کی طرف سے بیجنگ 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہوئی جس کی وجہ، اس نے چین کی طرف سے ایغور اقلیت کی "نسل کشی" اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا تھا۔ اس اقدم کی بیجنگ کی طرف سے سخت سرزنش کی گئی۔

موسم گرما کے آغاز میں، امریکی حکومت نے اویغوروں کے ساتھ بیجنگ کے سلوک پر کچھ چینی درآمدات پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں سولر پینل کا مواد بھی شامل تھا۔

اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ

چین سے تعلق رکھںے والی ٹینس کی مشہور کھلاڑی پینگ شوائی کی حفاظت کے بارے میں شکوک و شبہات کے درمیان، جس نے کمیونسٹ پارٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا، ایک علیحدہ 428-0 ووٹ میں، ایوان نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں کہا گیا کہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی "اپنے انسانی حقوق کے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی" ہے۔

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ کے کیمپوں میں کم از کم دس لاکھ اویغور اور دیگر ترک بولنے والے، جن میں زیادہ تر مسلم اقلیتیں ہیں، قید ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں اور غیر ملکی حکومتوں کو، ان کے بقول بڑے پیمانے پر حراست، جبری مشقت، سیاسی تعصب، تشدد اور جبری نس بندی کے شواہد ملے ہیں۔ واشنگٹن نے اسے نسل کشی قرار دیا ہے۔

ابتدائی طور پر سنکیانگ کیمپوں کے وجود سے انکار کے بعد، چین نے بعد میں ان کا دفاع پیشہ ورانہ تربیتی مراکز کے طور پر کیا جن کا مقصد اسلامی انتہا پسندی کی کشش کو کم کرنا اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا تھا۔

کیمپوں کے بارے میں متعدد آزاد تحقیقات اس سے کہیں زیادہ تاریک حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں۔

اگست 2020 میں شائع ہونے والی بز فیڈ نیوز کی تحقیقات میں، سنکیانگ کے علاقے میں ایسے سینکڑوں احاطوں کا پتہ لگایا گیا جن پر جیلوں یا حراستی کیمپ ہونے کی پکی نشانیاں موجود تھیں، ان میں سے اکثر پچھلے تین سالوں میں بنائے گئے تھے۔

گزشتہ دسمبر میں شائع ہونے والی مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمیونسٹ ریاست نے سنکیانگ میں 100 سے زائد نئی حراستی مراکز کی تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے ۔

بعد کی تحقیقات میں، سابق زیر حراست افراد اور محافظوں نے انکشاف کیا کہ ان کیمپوں میں مسلم خواتین کو منظم طریقے سے عصمت دری، تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بدھ کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں، اویغور ہیومن رائٹس پروجیکٹ - - امریکہ میں قائم ایک ایڈوکیسی گروپ -- نے کہا کہ اس نے 2017 سے سنکیانگ میں 300 سے زائد ایغور اور دیگر مسلم دانشوروں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500