حقوقِ انسانی

درجنوں ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ چین کے سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ کیا جائے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

دی آرٹکس سٹی ووکیشنل سکلز ایجوکیشن ٹریننگ سروس سینٹر، سنکیانگ میں چینی حکومت کا قائم کردہ "نئی علم" کیمپ۔ [گریگ / اے ایف پی]

اقوامِ متحدہ – جمعرات (21 اکتوبر) کو اقوامِ متحدہ (یو این) میں پڑھے جانے والے ایک بیان میں تینتالیس ممالک نے چین سے سنکیانگ میں مسلمان یوگر برادری کے لیے "قانون کی عملداری کے لیے مکمل احترام کو یقینی" بنانے کا مطالبہ کیا۔

اقوامِ متحدہ کے ساتھ ساتھ متعدد یورپی اور ایشیائی رکن ممالک اوردیگر کی جانب سے دستکط شدہ اس قرارداد میں چین پر جبری اسقاطِ حمل اور جبری طور پر غائب کیے جانے سمیت ایغوروں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایک سلسلہ کا الزام لگایا گیا۔

فرانس کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں پڑھے جانے والے اس مشترکہ بیان میں ان ممالک نے کہا، "ہم چین سے آزاد مشاہدین، بشمول اقوامِ متحدہ ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اور اس کے دفاتر کے لیے سنکیانگ تک فوری، بامقصد اور بے روک رسائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

بیان میں کہا گیا، "ہم بطورِ خاص یوگر خودمختار خطے ژنجیانگ میں صورتِ حال سے متعلق تشویش میں ہیں۔"

اس میں ان "باوثوق" رپورٹس کا حوالہ دیا گیا، جو "بڑی تعداد میں سیاسی تعلیمِ نو کیمپس کے ایک بڑے نیٹ ورک کا اشارہ دیتی ہیں، جہاں دس لاکھ سے زائد لوگ جبری طور پر زیرِ حراست ہیں۔"

اولاً سنکیانگ میں ان حراستی مراکز کے وجود سے انکار کرنے کے بعد، بیجنگ نے "تعلیمِ نو" کیمپس کے طور پر ان کی توجیح پیش کی، جن کا مقصد دہشتگردی کو خارج کر کے ملازمت کے مواقع بہتر بنانا تھا۔

تاہم، آزادانہ تحقیقات اور سابقہ قیدیوں سے انٹرویو جسمانی اور ذہنی تشدد، دماغ شوئی، منظم زیادتی اور جنسی بدسلوکی، اور دیگر بربریتوں کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔

ہیومن رائیٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپریل میں ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا کہ سنکیانگ چین کا مسلم اکثریت کا واحد خطہ ہے، اور چینی حکام نے خطے کی دو تہائی مساجد اور دیگر اسلامی مقاماتِ مقدسہ کو تباہ کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے متعدد عذر استعمال کیے ہیں۔

جبری طور پر چینی بنائے جانے کا عمل

2018-2022 کے چینی ثقافت میں ڈھالنے کے منصوبے کے جزُ کے طور پر چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) حکام مساجد کے گنبد، مینار اور اسلامی فنِ تعمیر کی دیگر علامات کو ہٹا رہے ہیں، اور مساجد پر لاؤڈ سپیکر پر آذان دینے کی پابندی لگا رہے ہیں ۔

یہ پلان نہ صرف سنکیانگ، بلکہ چین بھر میں مؤثر طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔

بیجنگ طویل عرصہ سے سنکیانگ میں ایغور اور دیگر افراد، زیادہ تر مسلمان ترک لوگوں کی نسل کشی کے الزامات کی تردید کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں اس کے سفیر ژانگ جُن نے جمعرات کو برہم ہو کر اس کی تردید کی جسے انہوں نے "جھوٹ" اور "چین کو نقصان پہنچانے کا ایک منصوبہ" کہا۔

انہوں نے کہا، "سنکیانگ ترقی کر رہا ہے، اور لوگ ہر روز خودمختار ہوئے جا رہے ہیں اور وہ اس ترقی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔"

2019 اور 2020 میں ایسی ہی قراردادوں نے سنکیانگ میں بیجنگ کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مذمت کی، جہاں امریکہ نے بیجنگ پر نسل کشی کرنے کا الزام لگایا۔

سفارتکاروں کے مطابق، ردِعمل کے طور پر چین نے اس قرارداد کی حمایت نہ کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500