https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/26/feature-01
صحت |

کروناوائرس پھوٹنے پر تہران کی راستگوئی پر سوالیہ نشان

پاکستان فاروڈ اور اے ایف پی

image

25 فروری کو تہران میں ایک کارکن عوامی سفر کی کار میں وائرس کش سپرے کر رہا ہے۔ [ماجد خاہی/ISNA]

تہران – جیسا کہ ایران میں کروناوائرس کی بے قابو پھوٹ سے ہمسایہ ممالک اور اس سے بھی آگے خطرات لاحق ہیں، ایران کی حکومت کی جانب سے عوام کو درست معلومات پہنچانے میں شفافیت کے فقدان پر بین الاقوامی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

تہران نے بدھ (26 فروری) کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 44 نئے واقعات میں سے چار خفیف اموات کی اطلاع دی، جس سے اموات کی کل تعداد 19 اور انفکشنز کی تعداد 139 ہو گئی۔

وزارتِ صحت کے ترجمان کیانئوش جہان پور نے ریاستی ٹیلی ویژن پر نئے اعداد و شمار اور تفصیلات کا اعلان کیا کہ کیسے COVID-19 ملک کے چاروں کونوں میں پھیل گیا ہے۔

image

24 فروری کو تہران میں حکومتی ترجمان علی رابئی کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایرانی نائب وزیرِ صحت اراج ہریرچی (بائیں) اپنے چہرے سے پسینہ صاف کر رہے ہیں۔ ہریرچی نے 25 فروری کو ملک میں وبا کے ایک وسیع پھیلاؤ کے دوران تصدیق کی کہ ان میں کروناوائرس کے تجزیہ کے مثبت نتائج آئے ہیں۔ [مہدی بولوریان/فارس نیوز/اے ایف پی]

image

COVID-19 کروناوائرس کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات بڑھنے پر 25 فروری کو تافتان میں بند پاکستان-ایران سرحد پر چہرے پر نقاب پہنے ایک سپاہی حفاظت پر معمور ہے۔ [بنارس خان/اے ایف پی]

ایران گزشتہ بدھ سے، بیرونِ ملک علماء کے لیے کشش کے حامل، علومِ اسلامیہ اور زائرین کے مرکز، قم میں پہلی دو اموات کا اعلان کرنے کے بعد سے COVID-19 کو روکنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

اس نے سکول، جامعات، ثقافتی مراکز اور کھیلوں کی تقریبات بند کر دیے ہیں اور بسوں، ریل گاڑیوں اور عوامی مقامات کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سینٹری ورکرز کی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔

لیکن کروناوائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود، حکام نے اب تک اس وبا کے پھوٹ پر قابو پانے کے لیے علیحدہ رکھے جانے کے انتخاب کو مسترد کر دیا ہے، اور جہان پور کے مطابق، صورتِ حال "بہتر" ہو رہی ہے۔

ایک خاص نقطہٴ فکر ایرانی حکام کی جانب سے عام کیا جانے والا انفکشن اور اموات کا تناسب تھا۔ COVID-19 نے دنیا بھر میں دیکھا جانے والا 1 فیصد اور 2 فیصد کے درمیان کا تناسب دکھایا ہے۔ اگر ایران میں اس وائرس سے 19 اموات ہو چکی ہیں تو 1,000 سے 2,000 کے درمیان انفکشنز ہونی چاہیئں، نہ کہ عوامی سطح پر بیان کی جانے والی 139۔

ایرانی نائب وزیرِ صحت ایراج ہریچی نے منگل کو تصدیق کہ کہ ان میں بھی نئے کرونا وائرس کے تجزیہ کے نتائج مثبت ہیں، انہوں نے مزید جرح کی کہ COVID-19 اس سے زیادہ عام ہے جتنی کہ تشہیر کی جاتی ہے۔

پیر (24 فروری) کو تہران میں حکومتی ترجمان علی رابئی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ہریرچی نے کبھی کبھار کھانسی کی اور معلوم ہوتا تھا کہ انہیں پسینہ آتا رہا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپیو نے منگل (25 فروری) کو ایرانی حکومت سے اس پھوٹ سے متعلق "سچائی بتانے" کا مطالبہ کیا، جو چھپانے کے الزامات پر تنبیہ ہے۔

پومپیو نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "امریکہ کو ان معلومات سے متعلق شدید خدشہ ہے جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایرانی حکومت نے اس ملک میں پھوٹ سے متعلق ضروری تفصیلات چھپائی ہوں گی۔"

انہوں نے کہا، "ایران سمیت تمام ملکوں کو کرونا وائرس سے متعلق سچ بولنا چاہیئے اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے تعاون کرنا چاہیئے۔"

ایرانی ٍحکومت حالیہ مہینوں میں شفافیت سے متعلق تباہ کن واقعات کے ایک تسلسل سے متاثر ہوئی ہے جس کی بھاری قیمت تہران کو اپنے ہی لوگوں اور بین الاقوامی برادری میں اپنی ساکھ کے حوالے سے ادا کرنی پڑی۔

جنوری میںیوکرائنی بین الاقوامی ایئر لائن پرواز PS752 کو لگنے والے ایک زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کی جانب اشارہ کرنے والے ویڈیو اور مفصل ثبوتوں کے باوجود، تہران نے کئی دنوں تک اس امر کی تردید جاری رکھی کہ اس کے اپنے ہی میزائل نے طیارے کو تباہ کیا۔

لیکن بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اور داخلی دباؤ کے ساتھ، اس حکومت نے بالآخر حقیقت کو تسلیم کیا – کہ ایرانی فوج نے ایک "تباہ کن غلطی" میں اس طیارے کو ہدف بنا دیا۔

اس اعتراف – اور پردہ ڈالنے کی ایک کوشش کی موجودگی – نے ایران میں کئی روز تک حکومت مخالف احتجاج کو بھڑکایا۔

ایک نئے غم و غصہ کے ساتھ دسیوں ہزاروں ایرانی – روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک حوالہ دیتے ہوئے— "مرگ بر آمر"، "مرگ بر دروغ گو" اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

اقوامِ متحدہ بھی تہران کی جانب سے اموات سے متعلق شفافیت کے مسلسل فقدان اور نومبر میں ایرانی احتجاج کنندگان پر کریک ڈاؤن کے بعد زیرِ حراست افراد کے ساتھ سلوک سے متعلق خدشات رکھتی ہے۔

تہران سے متعلق خدشات اس وقت سامنے آئے جبروس سے منسلک ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس نےعین اس وقت نئے کرونا وائرس سے متعلق نظریاتِ سازش پھیلانے کی مربوط کوششوں کا آغاز کیاجب اس وبا کے عالمی پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے۔

ایران کے ہمسائے شدید خطرہ کی زد میں

ایران کے ہمسایوں نے حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے پہلے واقعہ کی اطلاع کے بعد زیادہ تر ان مریضوں میں سفری پابندیوں اور علیحدگی کے سخت اقدامات نافذ کر دیے ہیں جن کے ایران سے تعلقات ہیں۔

تاہم اپنے ہمسایوں کو اس سے درپیش خطرات کے باوجود، تہران نے لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

وزیرِ صحت سعید نمکی نے منگل کے روز کہا کہ علیحدہ رکھا جانا ایک "قدیمی طریقہ" ہے۔

نیم سرکاری نیوز ایجنسی ISNA نے ان کے حوالہ سے رقم کیا، "ہم اب بھی شہروں کو علیحدہ کرنے سے متفق نہیں ہیں، کیوں کہ ہمارا ماننا ہے کہ لوگ اتنے مہذب ہیں کہ وہ متاثرہ شہروں سے دیگر مقامات کی جانب سفر نہ کریں۔"

متحدہ عرب امارات نے منگل کو آرمینیا، کویت، عراق، تاجکستان اور ترکی سمیت دیگر قریبی ممالک کی طرح ایران جانے اور آنے والی تمام مسافر اور مال بردار پروازیں روک دی ہیں۔

پاکستان اور ترکمانستان نے ایران کے ساتھ باضابطہ سرحد بند کر دی ہے، جبکہ افغانستان نے صرف ایک روز کے لیے سرحد بند کی تھی۔

افغانستان اور پاکستان کو ہمسایہ ایران میں نئے کروناوائرس کے ساتھ ایک ممکنہ طور پر تباہ کن بہران کا سامنا ہے۔

چار دہائیوں سے زائد کی جنگ کے بعد، افغانستان کا نظامِ نگہداشت صحت تباہ حال ہے اور چند دستیاب ہسپتال زیادہ تر بنیادی نگہداشت اور زخموں پر مرتکز ہیں۔ ان کے پاس انفکشن سے متعلقہ بیماریوں سے نمٹنے کے لیے درکار مہارتوں کا فقدان ہے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے ایک طبیب، ولی، جو وائرل انفکشن سے متعلقہ بیماریوں میں مہارت حاصل کر رہے ہیں، نے کہا، "اگر یہ وائرس ملک بھر میں پھیل جاتا ہے تو یہ ایک تباہی ہو گی۔ یہاں اتنے مراکزِ صحت نہیں ہیں۔"

سرحد پار، پاکستان میں اس امر سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بیماری کے ممکنہ طور پر پھوٹ پڑنے پر کیسے نمٹا جائے گا۔

اسلام آبادپولیو، تپِ دق اور ہیپاٹائیٹس جیسی انفکشن سے متعلقہ بیماریوں کو روکنے میں ناکام ہونے کی ایک تاریخ کا حامل ہے۔

رواں ہفتےایرانی سرحد کے قریب زائرین کے ایک گروہ کی واپسی اور دیگر باشندوں میں جلدی سے گھل مل جانے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر کم از کم 270 افراد کو علیحدہ کرنے کا اقدام کیا۔پاکستان نے فوری طور پر کم از کم 270 افراد کو علیحدہ کرنے کا اقدام کیا۔

افغانستان اور پاکستان سے زائرین اکثر شام میں ملشیا میں لڑنے کے لیے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران کی جانب سے بھرتی کیے جاتے ہیں۔

صوبہ بلوچستان، پاکستان کے وزیرِ داخلہ ضیاء اللہ لنگوی نے کہا کہ تقریباً 10,000 پاکستانی تاحال ایران میں ہیں، جن میں سے زیادہ تر طلبہ اور زائرین ہیں، جنہیں ایرانی حکام چھوٹے گروہوں میں واپس بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی