https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/24/feature-01
صحت |

کرونا وائرس سے متعلق چین، روس اور ایران کی جانب سے پھیلائے گئے جھوٹ مرکزِ نگاہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

18 مارچ، 2020 کو چین کے وسطی صوبے ہوبئے میں ووہان میں ایک قرنطینہ احاطے میں پہنچایا گیا پورک لینے کے لیے وہاں رہنے والے قطار بنائے کھڑے ہیں۔ بیانیہ کو بدلنے کے لیے چین کی سرکاری سطح پر کوششوں کے باوجود ناقابلِ تردید سائنسی اور واقعاتی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ COVID-19 کروناوائرس کا آغاز وُوہان سے ہوا۔ [STR/AFP]

جیسا کہ کرونا وائرس وبا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، چین، روس اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے مسلط کی گئی غلط معلومات کی فعال مہمّات پر مزید بین الاقوامی توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔

یہ تینوں حکومتیں COVID-19 کے آغاز سے متعلق فعالیت کے ساتھ متبادل بیانیہ کو فروغ دے رہی ہیں۔

یہ امر اچھی طرح سے دستاویز شدہ ہے اور حکومتِ چین کے گزشتہ بیانات بھی تصدیق کرتے ہیں کہ نوول کرونا وائرس کا آغاز وُوہان، چین سے ہوا۔

image

کروناوائرس وبا کی وجہ سے پروازیں رکنے کے بعد 24 مارچ، 2020 کو وسط ایشیائی ممالک کے ماسکو میں پھنسے شہری ماسکو کے وُنوکوف ہوائی اڈے پر گھر واپس لوٹنے کے لیے پروازوں کے منتظر ہیں۔ [الیگزانڈر نیمینوف/AFP]

image

مارچ کے اوائل میں ایک ایرانی کارکن صحت تہران میں ایک سکیننگ سٹیشن پر مسافروں کے درجہ ہائے حرارت لے رہا ہے۔ [ISNA]

انفیکشنز اور اموات کے پہلے واقعات وُوہان میں تھے، اور چینی حکام کے اس وبا پر قابو پانے سے قبل، یہ مہلک وائرس دنیا بھر میں پھیل کر روزمرہ زندگی کو درہم برہم کرتے ہوئے آج تک دسیوں ہزاروں کو بیمار اور 10,000 سے زائد کو ہلاک کر چکا ہے۔

قوی شواہد کے باوجود، چین، روس اور ایران کی حکومتیں اپنی اپنی تخریبی وجوہات کی بنا پر COVID-19 کے آغاز سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔

چین الزام کا رخ موڑ رہا ہے

نظریہ ہائے سازش کو فروغ دے کربیجنگ کرونا وائرس وبا میں اپنے کردار سے تنقید کا رخ موڑنے کی فعالیت کے ساتھ کوشش کر رہا ہے۔

ان تخریبی نظریہ ہائے سازش کا پھیلاؤ چینی شہروں کی جانب سے نہیں بلکہ حکومتِ چین کے اعلیٰ ترین عہدوں سے ہو رہا ہے۔

حکام کے اس امر کا ادراک کرنے کے بعد چین کی غلط معلومات کی مشین نے اپنا کام شروع کر دیا کہ چین سے شروع ہونے والا وائرس دنیا بھر میں بے پناہ خرابی پیدا کر رہا ہے۔

فروری کے اواخر میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لی ژان ژاؤ نے پہلی مرتبہ یہ کہتے ہوئے شک کا بیج بونا شروع کیا کہ "اگرچہ COVID-19 پہلی مرتبہ چین میں دریافت ہوا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی ابتدا چین ہی سے ہوئی۔"

ژاؤ نے 12 مارچ کو ٹویٹ کیا، "ہو سکتا ہے کہ امریکی فوج ہی اس وبا کو وُوہان لائی ہو۔ شفاف بنیں! اپنے اعدادوشمار کو عام کریں! امریکہ کو ہمیں وضاحت دینی ہے۔"

حال ہی میں، 22 مارچ کو ژاؤ نے دوبارہ ٹویٹر پر یہ رائے دیتے ہوئے اپنی کہانی تبدیل کر لی، کہ ہو سکتا ہے کہ اس وائرس کا آغاز گزشتہ ستمبر میں امریکہ میں ہوا ہو، انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو "پہلے مریض" سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنی چاہیئں۔

چینی حکام، جنہوں نے 18 مارچ کو اعلان کیا کہ چین میں انفیکشن کے کوئی نئے مقامی واقعات نہیں آئے، کی جانب سے آنے والی معلومات کی درستگی پر بین الاقوامی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ملک میں COVID-19 کے پھیلاؤ کی وسعت کے پیشِ نظر، متعدد مشاہدین کو اس بارے شک ہے کہ چین میں کوئی نئی انفیکشن نہیں آئیں۔

بیجنگ نے – ماسکو کے ہمراہ – 23 مارچ کو اس وبا سے متعلق اقوامِ متحدہ سلامتی کاؤنسل کے ایک اور مجوزہ اعلامیہ کو بلاک کر دیا۔

یہ مجوزہ مسودہ "دنیا میں COVID-19 وبا کی بے مثال شدت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات" کو نمایاں کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو ایک خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔

یہ وبا سے متعلق "مکمل شفافیت" کا متقاضی ہے – وہ الفاظ جنہیں چند لوگ چین میں حکومتی رازداری پر تنقید کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

روس زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے

درایں اثناء کرملِن نگہداشت صحت کے نظام پر لوگوں کے اعتماد کو ختم کر کے مغرب میں بحران کو بد تر کرنے کے لیے COVID-19 سے متعلق غلط معلومات کو فروغ دے رہا ہے۔

روس سے جاری ہونے والی غلط معلومات سے نمٹنے والی یورپی یونین کی سٹارکام ایسٹ ٹاسک فورس نے قبل ازاںمارچ میں کہا کہ اس نے 22 جنوری سے اب تک کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کے تقریباً 80 واقعات کی شناخت کی ہے۔

حکمتِ عملی یہ ہے کہ ابتری اور خوف پیدا کرنے کے لیے درجنوں مختلف اور بعض اوقات مخالف بیانیے پھیلا دیے جائیں۔

مثالوں میں یہ نظریہ شامل ہے کہ کرونا وائرس چین، امریکہ یا برطانیہ کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے، اور یہ کہ یہ اصل میں چین کے بجائے امریکہ سے شروع ہوا، یا یہ کہ یہ وائرس مطلق العنان ضابطہٴ آئین مسلط کرنے کے لیے ایک آلہٴ کار ہے۔

اس ٹاسک فورس کے ساتھ کام کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ کرملن موافق ذرائع خود سے یہ نظریات نہیں تحریر کر رہے، بلکہ دیگر مقامات، جیسا کہ چین اور ایران سے پیدا ہونے والے نظریاتِ سازش کو لے کر بڑھا رہے ہیں۔

یہ افواہیں بھی ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹین ایسی آئینی ترامیم لانے کے لیے کرونا وائرس بحران اور اس کو حلقہ کیے غلط معلومات کی مہمّات کو استعمال کر رہے ہیں، جن سے ان کی حکومت کی مدت بڑھ سکے۔

ایرانی عوام پر نظریہ کو ترجیح

تہران اس وبا سے نمٹنے میں ایرانی حکومت کے اناڑی پن کے الزام کو موڑنے کی ایک کوشش میں اپنے حصّے کے طور پر نظریاتِ سازش پھیلا رہا ہے، جن میں سے قابلِ ذکر یہ ہے کہ امریکہ نے یہ وائرس تشکیل دیا۔

حکومتِ امریکہ 29 فروری کو وائرس سے متاثرہ ایران کو مدد کی پیشکش کی۔

لیکن بجائے امداد قبول کر کے ایرانی عوام کی مدد کرنے کے، ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے 22 مارچ کو اس پیشکش کو مسترد کر دیا، اور ایک اور نظریہٴ سازش پھیلا دیا کہ مدد کی یہ پیشکش ایران میں وائرس کے بحران کو بد تر کرنے کی ایک کوشش پر پردہ ڈالنے کے لیے تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ پومپیو نے 23 مارچ کو کہا، "خامنہ ای نے اس پیشکش کو مسترد کیا کیونکہ وہ نظریاتِ سازش تدبیر کرنے پر ان تھک کام کرتے ہیں اور ایرانی عوام پر نظریہ کو ترجیح دیتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "اس حکومت نے واقعات اور اموات کی تعداد سے متعلق ایرانی عوام اور دنیا سے دروغ گوئی جاری رکھی ہوئی ہے، جو کہ بدقسمتی سے اس سے کہیں زیادہ ہیں جو حکومت تسلیم کرتی ہے۔"

COVID-19 مریضوں اور اموات کی تعداد سے متعلقعوام کو درست معلومات فراہم کرنے میں ایرانی حکومت کے شفافیت کے فقدان سے متعلق بین الاقوامی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

تہران نے 24 مارچ کو نوول کرونا وائرس سے 122 نئی اموات کا اعلان کیا، جس سے اموات کی سرکاری بیان شدہ تعداد 1,934 اور کل انفیکشنز 24,811 ہوگئیں۔

محسوس ہوتا ہے کہ ذمہ داری قبول کرنے اور مدد قبول کرنے کے بجائے، خامنہ ای ملک کی امّیدیں ایمان پر لگا رہے ہیں۔

انہوں نے ایرانیوں کو مشورہ دیا کہ "سب کو وبا سے لڑنے کے لیے حکام کی ہدایات کی پیروی کرنی چاہیئے" تاکہ "خدا تعالیٰ ایرانی عوام، تمام مسلمانوں اور تمام انسانیت کے لیے اس مصیبت کا خاتمہ کرے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
39
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی

یہ کھیل نہیں کھیلا جانا چاییئے۔
عوام اچھی طرح سے آگاہ ہیں۔

جواب

تمام لوگو، وی او اے جھوٹ بول رہا ہے۔

جواب