https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/23/feature-01
سیاست

عسکری مصنوعی سیارہ چھوڑے جانے نے اس وبا کے دوران ایران کی ترجیحات کا پردہ فاش کر دیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران (آئی آر جی سی) کے کمانڈر حیسن سلامی لانچ کی تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔ [آئی آر جی سی]

بدھ (22 اپریل) کو ایران کے پہلے عسکری مصنوعی سیارے کا مدار میں چھوڑا جانا تہران کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے، جیسا کہ کووڈ-19 کرونا وائرس ملک کے طول و عرض میں غضب ڈھا رہا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، سپاہِ پاسدارانِ اسلامیٴ ایران (آئی آر جی سی) کے کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا، "آج ہم آسمان سے زمین کو دیکھ رہے ہیںِ اور یہ ایک عالمی طاقت کی تشکیل کی ابتدا ہے۔"

آئی آر جی سی نے کہا کہ – "نور" کہلایا جانے والا—یہ مصنوعی سیارہ ایران کے وسطی سطحِ مرتفع کے ایک وسیع علاقے کے مرکزی صحرا سے قاصد کے دو مراحل والے لانچر سے چھوڑا گیا۔

معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے پہلی مرتبہ اس قسم کے لانچر کا استعمال کیا ہے۔

image

22 اپریل کو جاری کی گئی ایک تصویر میں ایرانی علاقہٴ عملداری سے لانچ ہونے والا ایک راکٹ دکھایا گیا ہے۔ [آئی آر جی سی]

یہ سرپرائز آپریشن ایران کی جانب سے ایک اور مصنوعی سیارہ چھوڑے جانے کے دو ماہ بعد سامنے آیا، جو کامیابی سے مدار میں نہ جا سکا اور جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ اس کے کوئی عسکری پہلو نہیں تھے۔

تہران کی منافقت

اس مصنوعی سیارے کا چھوڑا جانا ایران کی حقیقی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے، جیسا کہ یہ حکومت کرونا وائرس وبا سے لڑنے میں اپنے شہریوں کی مدد کرنے کے بجائے اپنی عسکری استعداد کا مظاہرہ کرنے کی کوشش پر روپیہ صرف کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر اقوامِ متحدہ سیکیورٹی کاؤنسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا اور وائرس سے لڑائی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 5 بلین ڈالر کے ہنگامی قرض کی درخواست میں اس حکومت کی منافقت کی نشاندہی کی۔

انہوں نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "مجھے امّید ہے کہ حکومتِ ایران اپنی عالمی دہشت کی مہم کو جاری رکھنے کے بجائے ایرانی عوام کے مطالبات پر ردِّ عمل دیتے ہوئے اپنے پاس واضح طور پر موجود وسائل کی ترجیحایرانی عوام کی صحت، سلامتی اور تحٖظ کو بنائے گی۔"

پومپیو نے کہا کہ اس مصنوعی سیارے کا چھوڑا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران کا خلائی پروگرام عسکری مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ کاروباری مقاصد کے لیے۔

"ایران نے جو کیا ہے اس کے لیے اس کا احتساب ہونا چاہیئے۔"

واشنگٹن نے ماضی میں تہران کے سیٹلائیٹ پروگرام سے متعلق یہ کہتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ جنوری 2019 میں ایک کیرئیر راکٹ چھوڑے جانے میں اس کی بیلیسٹک میزائل کی حدود کی خلاف ورزی کی گئی۔

ایران اس بات پر قائم ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور کہتا ہے کہ اس کی خلائی سرگرمیاں پرامن ہیں۔

سازشیں اور جھوٹ

تاہم ملک میں کروناوائرس کی تباہ خیزیوں کے دوران مصنوعی سیارہ چھوڑنے کا فیصلہ اور پہلے سے گھیرے ہوئے معاشی بحران میں مزید تیزی سے فروری میں بیماری کے پہلے واقعہ کے اعلان سے اب تکوائرس سے متعلق ایران کا خراب ردِّ عملنمایاں ہوتا ہے۔

دینا میں بدترین وباؤں میں سے ایک کی موجودگی کے باوجود، اس حکومت نے بیشتر دیگر ممالک کی طرح علیحدہ کرنے کے اقدامات کا نفاذ نہیں کیا، جس سے اس مرض کے بڑھتے ہوئے واقعات اور کثیر اموات ہوئیں۔

وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے جمعرات کو کروناوائرس انفکشن کے 1,030 نئے واقعات کا اعلان کیا، جس سے ملک میں کل تعداد 87,026 ہو گئی۔ اموات کی کل تعداد 5,481 ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، تہران کی جانب سے عوام کو درست معلومات کی ترسیل میں شفافیت کے فقدان پر عالمی خدشات بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ ملک میں کروناوائرس کی بے قابو وبا ہمسایہ ممالک اور اس سے بھی آگے پھیل رہی ہے۔

مزید برآں،چین اور روس کی طرح ایران بھی اس وائرس سے متعلق فعالیت کے ساتھ نظریہ ہائے سازش پھیلا رہا ہے، اور غلط یا گمراہ کن معلومات دے کر زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال رہا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)