https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/02/21/feature-02
سلامتی |

شعیہ عسکریت پسند حلقوں پر کریک ڈاؤن میں زینبیون برگیڈ کے رکن پر الزام

ضیاءالرّحمٰن

image

زینبیون پرگیڈ پاکستانی اہلِ تشیعہ پر مشتمل ہے جو شام میں جاری خانہ جنگی میں تہران کے لیے لڑ رہی ہے۔ یہاں تصویر میں اس گروہ کے ٹیلی گرام اکاؤںٹ پر 19 فروری کو پوسٹ کیے گئے ایک پوسٹر میں پاکستانی جنگجو "تاجر حسین" دکھایا گیا ہے جو شام میں ایکشن کے دوران مارا گیا۔ [فائل]

کراچی – پاکستان کی نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نےشعیہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤنکو تیز کر کر دیا ہے، جن پر پاکستان میں فرقہ ورانہ فساد کو ہوا دینے اور نوجوانوں کو لڑنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے، ہر دو کا الزام ہے۔

کراچی پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (CTD) نے 11 فروری کو سیمنز چورنگی کے قریب انٹیلی جنس پر مبنی ایک آپریشن کے دوران دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ملزمان میں سے ایک -- سید کامران حیدرزیدی، المعروف کامی – صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں شام میں لڑنے کے لیے بھیجے گئے پاکستانیوں پر مشتمل ایک ملشیا، زینبیون برگیڈ کے ساتھ منسلک تھا۔

image

11 فروری کو کراچی کے نفاذِ قانون کے اہلکار اپنے سیکیورٹی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ کراچی پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (CTD) نے حال ہی میں پاکستانی شہریوں پر مشتمل، ایران کی پشت پناہی کے حامل ایک عسکریت پسند گروہ زینبیون برگیڈ کے ایک رکن کو گرفتار کر لیا۔ [ضیاءالرّحمٰن]

image

10 فروری کو گرفتار ہونے والے سلیم حیدر زیدی کے بارے میں معلومات مطلوب ترین دہشتگردوں کی ایک فہرست، ریڈ بک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

کراچی پولیس کے انسدادِ دہشتگردی کے ایک اعلیٰ عہدیدار اسرار اعوان نے کہا کہ اس گروہ کا ایک رکن، زیدی پاکستان لوٹنے سے قبل الاسد کی افواج کے ہمراہ لڑ چکا ہے۔

اعوان کے مطابق، ایک دیگر ملزم – سید علی رضا، المعروف بوبی – ایک کالعدم شعیہ عسکریت پسند گروہ، سپاہِ محمّد (SMP) کے ساتھ منسلک تھا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملزمان نے پارہ چنار، کرم قبائلی ضلع، خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں سے تربیت حاصل کرنے اور کراچی میں متعدد فرقہ ورانہ قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے متعدد ساتھی تاحال شام میں لڑ رہے ہیں۔

درایں اثناء، 10 فروری کو CTD نے یونیورسٹی روڈ کراچی پر مارے گئے انٹیلی جنس پر مبنی ایک چھاپے کے دوران سلیم حیدر زیدی (المعروف سلیم بھائی، رحمان اور رجب) کو گرفتار کر لیا۔

ایک دیگر SMP ملزم عسکریت پسند، زیدی ریڈ بک میں داخلِ فہرست تھا، جو مطلوب ترین عسکریت پسند ملزمان کے ناموں، تصاویر اور تفصیلات پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ مبینہ طور پر 2004 میں کراچی میں عالمِ دین مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل سمیت متعدد اعلیٰ پائے کے قتلوں میں ملوث تھا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کے قبضے سے دستی بم اور ایک کھاتہ بازیاب کیا۔

زینبیون برگیڈ

ماضی میںزینبیون برگیڈ نے پاکستان سے سینکڑوں جنگجو بھرتی کیے ہیں۔

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے شعیہ زائرین کے ایرانی رسوخ کا شکار بننے اور تہران کی پشت پناہی کے حامل عراق اور شام میں لڑنے والے جنگجو گروہوں میں بھرتی ہونے پر خدشات اٹھائے ہیں۔

میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس تنظیم کے ساتھ مبینہ الحاق کے سلسلہ میں درجنوں شعیہ نوجوان گرفتار ہو چکے ہیں۔

شام میں پاکستانی جنگجوؤں کے بنیادی بھرتی کنندہ، مالیات فراہم کنندہ اور ان سے نمٹنے والےسپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) اور اس کی قدس فورسہیں۔

افغان شعیہ جنگجوؤں کو شامی جنگ کے لیے بھرتی کرنے کی غرض سے تہران نے فاطمیون ڈویژن تشکیل دی ہے، جنہیں الاسد کی افواج میں شمولیت کے لیے وہ تنخواہوں کی پیشکش کرتے ہیں۔

امریکی محکمہٴ خزانہ نے جنوری 2019 میں "[ایرانی] حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں دہشتگردی اور بدامنی برآمد کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر قانونی نیٹ ورکس کو بند کرنے" کی کاوشوں کے جزُ کے طور پرزیبیون برگیڈ اور فاطمیون ڈویژن کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔

پاکستانی نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کے مطابق، خطے میں اپنا رسوخ بڑھانے کی ایک کوشش میں تہران ایسے شیعہ عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

تہران سے فنڈنگ اور حمایت کے ساتھ SMP 1990 کی دہائی کے اوائل میں منظرِ عام پر آئی، جب پاکستان میں فرقہ ورانہ تنازع اپنے عروج پر تھا۔ تب سے SMP علمائے دین اور پیشہ وران پر فرقہ ورانہ حملوں میں ملوث رہی ہے۔

دسمبر 2018 میں پاکستانی حکام نے سعودی عرب کی جانب سے قبل ازاں کی گئی ایک درخواست پر 2011 میں کراچی میں سعودی سفارتکاروں پر SMP سے منسللک حملوں سے متعلق دو مقدمات دوبارہ کھولے۔

پاکستانی حکام نے مئی 2011 میں کراچی میں سعودی کونسل خانے کے ایک ملازم حسن القحطانی کے قتل، اور اس سے چند ہی روز قبل قونسل خانے پر دستی بم حملے کو SMP سے منسلک کیا۔ عہدیداران نے کہا کہ اس گروہ کا مقصد ملک کی سنّی اور شعیہ برادریوں اور سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تناؤ کو تیز کرنا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
64
تبصرے 17
تبصرہ کی پالیسی

تبصرہ یکطرفہ اور تعصب پرمبنی ہے

جواب

لعنت بڑوں پر

جواب

یہ مصنف اور مکالہ پوری طرح سے غلاظت ہیں۔ ایسے مصنفوں کو صیہونی-سعودی بادشاہ پیسے دیتے ہیں جو ایران اور دنیا بھر میں مدافعتی قوتوں سے متنفر ہیں۔ ایران اپنی سرزمین اور عراق اور شام میں داعش، النصرہ سے مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کرتا ہے جنہیں CIA سعودیوں جیسی صیہونی کٹھ پتلیاں تربیت دیتی اور مالیات فراہم کرتی ہیں، ترکی اور تقریباً 80 ممالک داعش کی حمایت میں ملوث تھے، لیکن ولیِّ المسلمین امام خمینی کی زیرِ قیادت IRGC اور حزب اللہ لبنان نے ان مہلک ترین دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں روئے ارض سے مٹا دیا۔ یہ صیہونی سنّی اسرائیل کے حامی CIA کے حامی نام نہاد مسلمان ان لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو داعش کی صورت میں ان کی مصنوع اور ان کے برانڈ کے اسلام کے خلاف لڑتے ہیں۔
ایسے مصنف ناصبی سنّی ہیں، وہ اہلِ بیت سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ شام اور عراق میں اہلِ بیت کے روضوں کی حفاظت کی جائے، یہی وجہ ہے کہ یہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو دہشتگرد کہتے ہیں۔

جواب

پاک فوج کی جانب سے طالبان اور القائدہ کو تربیت دیا جانا اور انہیں افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے کےلیے بھیجنا (جسے بینظیر، مشرف اور اب وزیرِاعظم عمران خان نے تسلیم کیا)۔ جبکہ مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت دہشتگردی کا اقدام ہے۔ اپنے دہرے معیار تو دیکھیں۔۔۔

جواب

پہلی بات تو یہ واضح کر لیں کہ شام جانے والے لوگوں کی دماغ شوئی نہیں کی جاتی، وہ اپنی مرضی سے جاتے ہیں۔ ایران سعودیوں اور امریکی پشت پناہی کی حامل داعش سے لڑنے کی اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے صرف ان کی تسہیل کر رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ادارے اور پولیس سب جانتے ہیں تو ان لوگوں کو سالوں تک غائب رکھنے کے بجائے عدالتوں میں لے جا کر ان پر الزامات ثابت کریں۔ میرا خیال ہے اگر کوئی کبھی نہ آنے کے لیے ملک سے باہر جا رہا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ان لوگوں کو غائب کرنے کے بجائے اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں تاکہ یہ لوگ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔

جواب

مجھے مصنف کی ذہنیت پر حیرت ہے. آپ بے بنیاد الزامات کی بنا پر پورے مسلک کو کیسے موردِالزام ٹھہرا سکتے ہیں.

ممکن ہے کہ چند ملزمان اس جنگ میں ملوث ہوں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ شعیہ مسلک ملوث ہے.

مصنف اس نام نہاد الزامی جنگ کی بنیادی وجہ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہے، کہ دہشت گردوں کے حامی گروہ مخالف مسلک میں کیوں نہیں ہو سکتے.

جواب

پاکستان میں موجود اب ہر انسان اور ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس ملک میں سعودی نواز ملیشیا لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ طالبان وغیرہ کا قدر دہشت گردی اور بد امنی پھیلاتے رہے ہیں اور کشمیر کے موقف کے بعد دنیا کو یہ بھی پتہ لگ گیا لہ سعودی عرب اور امریکہ پاکستان کے کتنا ساتھ ہیں پھر بھی ان آقائوں کو خوش کرنے کیلئے اس قسم لے بےبنیاد کام کیے جا رہے ہیں

جواب

آپ نے سعودیہ پہ الزام تو لگا دیا، لیکن پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں آج تک ایک بھی ایسا ثبوت نہی ملا جس میں سعودیہ کی کسی بھی دہشتگرد تنظیم کی پشت پناہی ثابت ہو۔ جبکہ دوسری طرف آئے روز ایرانی ایما پہ یا ایرانی سپورٹ سے پاکستان کو بدامنی اور دہشت گردی کا شکار کرنے والے چہرے عیاں ہو رہے ہیں بھلے وہ عزیر بلوچ ہو یا کلبھوشن یا پھر ایرانی تربیت یافتہ "مومنین" جو سنی علما میں براہ راست ملوث ہیں۔

جواب

بھائی آ پ نے 10001%حق بیان کیا ہےاس میں کوئی شک نہیں کاایران پاکستان کا دوست نمادشمن ہے ایران نے ہمیشہ پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے اور پاکستانی شیعہ ایران کے لیئے کام کرتے ہیں اور علماء کو اور افواج پاکستان کو شہید کر کے پاکستان کا امن تباہ کرتے ہیں سلیمانی جو جہنم واصل ہوچکا ہے اس نے پاکستان کو دھمکی دی تھی جس پر عظیم سپہ سالار شیر پاکستان عظیم لیڈر چیف آ ف آ رمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اس بزدل کو اسکی اوقات کی یاد دلا دی تھی لیکن یہ منافق قوم ہمیشہ منافقت کرے گی اور چھپ کر وار کرے گی

جواب

شاندار تجزیہ

جواب

فرقہ وارانہ سوچ پر مشتمل ہے یہ مضمون

سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سے بڑا دہشتگرد گروپ اور کوی نہیں ہوسکتا۔ جنہوں نے پاکستان آگ لگای ۔ اور یہ سب ضیا دور کے بعد ک نتایج ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ شیعہ فرقہ سے تو یہ گروپ نظر آگے ہیں ۔ مگر سپاہ صحابہ ۔ لشکر جھنگوی ۔ داءش طالبان اور اس جیسی دوسری تنظیمیں نظر کیوں نہیں آتیں۔

جواب

کیوںکہ یہ پوسٹ مکمل طور پر شعیہ مخالف بنیادوں پر ہے۔

جواب

یہ شعیہ مخالف نہیں، یہ دہشتگرد شعیہ اور ایران کے بارے میں ہے۔ پرامن شعیوں کو ان دشمنانِ اسلام سے نہ ملائیں۔

جواب

پوری پاکستان میں ایرانی ملیشاہ کو ٹریننگ دینے والی جگہ پاڑاچنار کرم ایجنسی ہے جہاں کوہ سفید کے دامن میں ذیڑان کے علاقہ میں تربیت دی جاتی ہیں ریاست پاکستان اور اداروں کو اگر ان ذنبیون کی جڑ کو پکڑنا چاہتی ہوں تو کراچی کے بجائے پاڑاچنار کرم ایجنسی میں ددلفساد جیسا آپریشن کرنا ہوگا تب ہی پاکستان ایرانی کالونی سے بچ سکتا ہے

جواب

پاکستان میں دہشتگردی کے تقریبا تمام واقعات میں ایران بلواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہے
کوئیٹہ میں بھی علماء اور اہلسنت عوام کے قتل عام میں یہی گروہ ملوث ہے

جواب

یکطرفہ تجزیہ ھے

جواب

Bibi zainab s.a k rozy ki hifazat k lye jaty hyn aur ab daesh ka khatma hogya h to koi nhi jaega

جواب