https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/20/feature-01
دہشتگردی

پاکستان نے شامی جنگ کی بھرتیوں سے منسلک دہشتگرد گروہوں پر پابندی عائد کر دی

ضیاءالرّحمٰن

image

11 اگست کو کراچی کے نفاذِ قانون کے اہلکار ایک کار کی تلاشی لے رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

اسلام آباد – پاکستانی حکام نے ایک کم معروف شعیہ عسکریت پسند گروہ کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس پر پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دینے اورنوجوانوں کو لڑنے کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے، ہر دو کا الزام ہے۔

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے بدھ (19 اگست) کو ایک شعیہ گروہ خاتم الانبیاء (کے یو اے) کو دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کالعدم قراردے دیا۔

وزارت کی جانب سے یہ خبر جاری کیے جانے کے بعد، ملک میں انسدادِ دہشتگردی کے کلیدی ادارے، قومی مقتدرہٴ انسدادِ دہشتگردی (نیکٹا) نے کے یو اے کا نام ملک کی کالعدم تنظیموں میں شامل کر دیا۔

نیکٹا حکام کے مطابق، دسمبر 2016 میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی ایک شعیہ عسکریت پسند تنظیم انصارالحسین (اے یو ایچ) کے ارکان نے نفاذِ قانون کی ایجنسیوں سے بچ نکلنے کی ایک کوشش میں کے یو اے کے تحت کاروائیوں کا آغاز کر دیا۔

image

مبینہ طور پر شعیہ گروہ سپاہِ محمّد پاکستان اور مہدی فورس کے ساتھ منسلک، پارہ چنار، کرم کے ایک رہائشی، عسکریت پسند ملزم سے متعلق معلومات پاکستان کے مطلوب ترین دہشتگرد ملزمان کی ایک فہرست، ریڈ بک میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [ضیاءالرّحمٰن]

اے یو ایچ محرم کے اسلامی مہینہ کے دوران ایک شعیہ جلوس کے تحفظ کے لیے نوجوان رضاکار فراہم کرنے والی ایک فلاحی تنظیم کے بھیس میں کرم میں کام کر رہی تھی۔

نیکٹا کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتایا، "لیکن 2016 کے اواخر میں جب نفاذِ قانون کے اداروں نے یہ معلوم کیا کہ یہ گروہ شام میں حکومتی افواج کی حمایت کرنے والے ایران کی پشت پناہی کے حامل جنگجوؤں کے ہمراہ لڑنے کے لیے شعیہ نوجوانوں کو شام بھیج رہا تھا، تو حکومت نے اے یو ایچ پر پابندی عائد کر دی۔"

کے یو اے بنیادی طور پر خیبر پختونخوا کے اضلاع کرم، کوہاٹ اور ہنگو میں کام کرتی ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ حکام کو شبہ ہے کہ یہ مقامی افراد کو بھرتی کرتے ہیں جنہیں شام میں شورش میں حصہ لینے کے لیے ایران کے ذریعے شام لے جایا جاتا ہے۔

مقامی مشاہدین نے کہا کہ کے یو اے پر پابندی، فرقہ ورانہ عسکریت پسندی کے نقطہٴ ارتکاز اور افغانستان کے ساتھ سرحد والے ایک قبائلی ضلع کرم میں تشدد میں حالیہ اضافہ کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے۔

مئی سے اب تک کرم میں تین بم حملے ہو چکے ہیں۔

روزنامہ ڈان نے خبر دی کہ حالیہ ترین سانحہ میں 16 جولائی کو کرم کے صدر دفتر پارہ چنار میں ایک پرہجوم بازار میں ایک بم پھٹنے سے کم از کم 17 افراد زخمی ہو گئے۔

امن کے مقامی فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ کے یو اے،سپاہِ محمد پاکستان (ایس ایم پی)اور مہدی فورس جیسے کم معروف گروہوں کے ساتھ ساتھ لشکرِ جھنگوی اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے کالعدم سنّی دہشتگرد گروہ حالیہ مہینوں میں کرم میں تشدد کو ہوا دینے میں ملوث رہے ہیں۔

کرم کے قبائلی ضلع میں امن کے ایک فعالیت پسند ذوالقرنین طوری نے کہا، "لیکن مقامی باشندے اور قبائلی عمائدین بین الفرقہ رواداری کو فروغ دینے کے لیے جرگے منعقد کر کے ان کے فاسد ارادوں کو تباہ کر رہے ہیں۔"

طوری نے کہا کہ برادری کے عمائدین اور سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے حکام سے اراضی کے ان تنازعات کو حل کرنے کا کہنے کے لیے مئی میں کرم میں مشترکہ طور پر اجتماعات کا انتظام کیا جو ایک فرقہ واریت کا مسئلہ بن رہے تھے۔

شعیہ گروہوں پر کریک ڈاؤن

پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایرانی رسوخ اور عراق اور شام میں لڑنے والے تہران کی پشت پناہی کے حامل دینی گروہوں میں بھرتی کا شکار بننے والے شعیہ نوجوانوں پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کی نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے ان شعیہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو سخت تر کر دیا ہے جن پر پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کو بھڑکانے اور شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے لیے لڑنے کی غرض سے رنگروٹوں کو لبھانے کا الزام ہے۔

شام میں پاکستانی جنگجوؤں کے لیے بنیادی بھرتی کنندگان، مالیات فراہم کنندگان اور منتظمین سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران (آئی آر جی سی) اور ان کی قدس فورس ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستانی حکام نے ان تنظیموں کے ساتھ ملوث ہونے کے الزام میں درجنوں شعیہ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

فروری میں کراچی پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے سیمنز چورنگی کے قریب انٹیلی جنس آپریشن میں دو ملزمان کو گرفتار کیا۔

ایک ملزم—سید کامران حیدر زیدی المعروف کامی—الاسد حکومت کی حمایت میں شام میں لڑنے کے لیے بھیجے گئے پاکستانیوں پر مشتمل ایک ملشیازینبیون برگیڈ کے ساتھ منسلک تھا۔

کراچی پولیس کے انسددِ دہشتگردی کے ایک اعلیٰ عہدیدار اسرار اعوان نے کہا کہ اس گروہ کا رکن، زیدی پاکستان لوٹنے سے قبل الاسد کی افواج کے ہمراہ لڑتا رہا ہے۔

اعوان کے مطابق، دوسرا ملزم – سید علی رضا، المعروف بوبی – ایس پی ایم کے ساتھ منسلک تھا۔

دونوں ملزمان نے پارہ چنار، کرم میں عسکریت پسندوں سے تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی میں متعدد فرقہ ورانہ قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)