احتجاج

ایرانی رہنماؤں کی جانب سے گرتی ہوئی معیشت پر داخلی اضطراب کو نظر انداز کیے جانے سے بدامنی میں اضافہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

جنوری کے اوائل میں ہزاروں ایرانی – روحانی پیشوا علی خامنہ ای کے حوالے سے "آمر کو موت"، "جھوٹوں کو موت" اور دیگر حکومت مخالف کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

بڑھتی ہوئی مخالف آبادی اور ایک تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کا سامنا کرتے ایرانی رہنما حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے خلاف سختی دکھانے کا انداز دکھا رہے ہیں۔

بدامنی کو کم کرنے کے لیے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2012 کے بعد پہلی مرتبہ گزشتہ جمعہ کو تہران میں ایک خطبہ دیا۔

خامنہ ای نے ایرانیوں کو متاثر کرنے والے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تقریر کوسپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامیٴ ایران قدس فورس (آئی آر جی سی- کیو ایف) کے کمانڈر میجر جنرل قسیم سلیمانیکے 3 جنوری کو ہونے والے قتل کی جانب موڑنے کی کوشش کی۔

سلیمانی کے قتل کے بعد – تقریباً ایک ہفتے کے لیے – ایرانی حکومت حالات کا رخ موڑنے اور عوام میں حکومتی حمایت اور مغرب مخالف جذبات جمع کرسکی۔

image

ایران کے روحانی پیشوا علی خامنہ ای اپنے 17 جنوری کے خطاب کے دوران داخلی بد امنی کے بنیادی مصادر سے نمٹنے میں ناکام رہے، اور اس کے بجائے مغرب مخالف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ [دفترِ روحانی پیشوا]

image

ایک منہ بولتی تصویر۔ گزشتہ ہفتے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ایرانی حکومت کی کوششوں سے متعلق خطاب کے دوران، خستہ حالت میں رہنے والی دو نوجوان لڑکیاں اس مقام کے پیچھے چلی گئیں جہاں ایرانی صدر حسن روحانی خطاب کر رہے تھے۔ [فائل]

تاہم جب ایران نے – اس حقیقت کے تین روز بعد – یہ تسلیم کیا کہ آئی آر جی سی نے حادثاتی طور پر 8 جنوری کو یوکرائنی طیارہ مار گرایا، تو جذبات تیزی سے دوبارہ پلٹ گئے۔

اس اقرار اور اس علم نے، کہ آئی آر جی سی اور ایرانی اعلیٰ قیادت نے پردہ ڈالنے کی ایک کوشش میں اس سانحہ سے متعلق دروغ گوئی سے کام لیا، عوام میں ایک نئے غم و غصہ اور ایران بھر میں بے مثال احتجاج کو بھڑکایا۔

دسیوں ہزاروں احتجاج کنندگان – خامنہ ای کے حوالہ سے –"آمر کو موت"، "جھوٹوں کو موت" اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

احتجاج کنندگان نظرانداز

لیکن دوبارہ حمایت حاصل کرنے کی خامنہ ای کی کوششوں نے چند ایرانیوں کو مزید خشمگیں کر دیا۔

ایران میں ایک فعالیت پسند نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے عوام کو پرسکون کرنے کی کوشش تک نہیں کی اور احتجاج کو یکسر نظرانداز ہی کر دیا۔"

ملک سے باہر سے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ میں لیے جانے والے دیگر ایرانیوں کی طرح انہوں نے نتائج کے خوف سے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کا کہا۔

انہوں نے کہا، "انہوں نے سرِ عام اعلان کیا کہ قسیم سلیمانی یوکرائنی طیارے کے مسافروں سے زیادہ اہم تھے۔"

تہران کے فضائی دفاع کے عملہ کی ایک "تباہ کن غلطی" میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک ایرانی میزائل نے اس طیارے کو گرایا۔

بشمول 82 ایرانیوں، 63 کینیڈین، 11 یوکرائنی، 10 سویڈیش، چار افغانوں، تین جرمنوں اور تین برطانوییوں کے تمام 176 مسافر اور عملہ کے ارکان جاںبحق ہو گئے۔

ایک اور ایرانی نے ٹیلی گرام میسنجر ایپ کے ذریعے یہ کہتے ہوئے اس تقریر پر ردِّ عمل دیا کہ خامہ ای نے "کھلے بندوں کہا کہ۔۔۔ خواہ زمین پر یا فضا میں، ہلاک شدگان میرے لیے اہم نہیں۔"

خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کنندگان ایران کی نمائندگی نہیں کرتے۔

تہران میں ایک 24 سالہ فن کار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "جب وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہم میں سے نہیں، تو اس سے عوام کے مابین تقسیم مزید گہری ہو جاتی ہے اور عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "اور میرے جیسے لوگ جو حکومت سے قریب نہیں، مزید جارحانہ طور پر تبدیلی کو تلاش کرتے ہیں۔"

مستقل معاشی المیے

خامنہ ای کی تقریر نے ایرانی عوام کی سراسیمگی اور عدم اطمینان کے مصادر کو نظر انداز کر دیا۔

جبکہ حالیہ مظاہرے ایران کی جانب سے طیارہ مار گرائے جانے اور اس سانحہ سے نمٹنے میں ایرانی رہنما کی مبینہ نااہلیت کی وجہ سے بھڑکے۔ ایران کے مستقل معاشی المیوں کی وجہ سے غم و غصہ کی ایک گہری لہر ہے۔

ایران کے مرکزِ شماریات کے مطابق، صارفین کو خوراک اور بنیادی ضرورتوں کے بلند نرخوں میں جکڑتے ہوئے افراطِ زر 40 فیصد کے قریب ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، 15 تا 24 برس کی عمر کے درمیان کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 28 فیصد سے زائد ہے۔

یہ صورتِ حال بدترہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تہران پر مسلسل بے ضابطگیوں اور عدم اطمینان کی وجہ سے 14 جنوری کو 2015 کے ایک جوہری معاہدے کے تحت تنازعات کے ایک میکنزم کا آغاز کیا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی اس معاہدے کی – جائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کے نام سے معروف – خلاف ورزی نے 2018 میں حکومتِ امریکہ کو اس معاہدے سے باہر نکلنے اور تہران پر پابندیاں لگانے پر مجبور کیا۔

مئی 2019 سے امریکہ کی پابندیوں اور ان کی انسداد میں یورپ کی نااہلیت کی وجہ سے ایران اس معاہدے کے تحت اپنے چند عہدوں سے بتدریج پیچھے ہٹ گیا۔

معاشی بدامنی

اگرچہ ایرانی حکومت اپنے معاشی مسائل کے لیے امریکہ کو موردِ الزام ٹھہرانے میں دیر نہیں لگاتی، تاہم ایرانی عوام اپنی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کے لیے زیادہ تعداد میں ہمت کر رہی ہے۔

200 فیصد تک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ مسلط کرنے کے ایک سخت فیصلہ نے 15 نومبر کو ملک گیر مظاہروں کو بھڑکایا۔

حکومتِ ایران کے اندازوں کے مطابق،120,000 سے 200,000 کے درمیان لوگوں میں احتجاج میں حصہ لیا۔

اگرچہ یہ احتجاج پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے شروع ہوا، تاہم بدامنی کی شدت—قرضوں تلے دبے شعبہٴ بنکاری سے لے کر فوج سے منسلک تنظیموں کے معیشت میں وسیع اور غیر شفاف کردار تک—گہری جڑوں کے حامل معاشی مسائل کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

متعدد ایرانیوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائےخطے بھر میں ذیلی جنگوں-- بطورِ خاص شام، عراق اور یمن – کی حمایت کا انتخاب کر کے اپنے ہی لوگوں کے معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔

نومبر کے مظاہروں کے بعدمظاہرین، صحافیوں، حقوقِ انسانی کے فعالیت پسندوں اور طالبِ علموں کے خلاف اس حکومت کے پر تشدد کریک ڈاؤن نے عوام کے خدشات کو خاموش کرنے کے بجائے ان کی پریشانی میں اضافہ کیا۔

تلخ الفاظ، کم از کم بدلہ

ان معاشی مشکلات اور ان کی وجہ سے داخلی بدامنی نے پچھلی مرتبہ مغرب کے خلاف سختی دکھاتے ہوئےایرانی حکومت کی مغرب کے مدِ مقابل ہونے کی خواہش کو نقصان پہنچایا ہو گا۔

سلیمانی کے قتل کے بعد اولاً خامنہ ای، صدر حسن روحانی، اور متعدد دیگر ایرانی اعلیٰ حکام نے امریکہ کے خلاف "سخت بدلے" کی تنبیہ کی تھی۔

یہ بدلہ 8 جنوری کو عراق میں امریکی اڈوں کے خلاف 22 میزائل داغے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں 80 ایرانی فوجی مارے گئے۔ پنٹاگان کے مطابق، حقیقت میں اس حملے نے معمولی مالی نقصان پہنچایا اور اس وقوعہ کے بعد 11 امریکی فوجیوں کے زخموں کا علاج کرایا گیا۔

مغربی طاقتوں کے خلاف لڑ سکنے کی اپنی نااہلیت کا ادراک ہونے پر ایرانی رہنماؤں نے واپس اپنی گزشتہ شیخی کی ڈگر پر چلنا شروع کر دیا۔

آئی آر جی سی کے اعلیٰ کمانڈر حسین سلامی نے 12 جنوری کو پارلیمان کو بتایا، "ہمارا مقصد درحقیقت دشمن کے فوجیوں کو قتل کرنا نہیں تھا۔ یہ اہم نہیں تھا۔"

ایرانی رہنماؤں کے لیے حکومت کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی ضرورت اور فوج کے "سخت بدلے" کی بزدلی نے ایران کی دینی اور عسکری نظاموں کی بڑی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔

روحانی نے 16 جنوری کو کہا کہ ایران "عسکری مقابلہ یا جنگ سے بچنے کے لیے روزانہ کام کر رہا ہے"، اور انہوں نے اس امر کو برقرار رکھا کہ دنیا کے ساتھ مذاکرات تا حال "ممکن" ہیں۔

آیا ایرانی حکومت ایرانی عوام کے ساتھ مذاکرات پر آ کر ان کے مطالبات سننا چاہتی ہے یا نہیں، اس امر کو ابھی سامنے آنا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500