https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/03/feature-01
سلامتی |

چوٹی کے عسکریت پسند کمانڈر کی ہلاکت سے تہران کو واضح تنبیہ

سلام ٹائمز اور اے ایف پی

image

3 جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے باہر میزائل کی زد میں آنے والی گاڑی کی باقیات دکھائی گئی ہیں۔ ایران کی پشت پناہی کی حامل عراقی ملیشیا کے ارکان کے ہمراہ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی سپاہِ قدس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے۔ [عراقی وزیرِ اعظم پریس آفس]

بغداد – جمعہ (3 جنوری) کو ایک امریکی ڈرون سے ایران کے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی ( آئی آر جی سی ) کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے عسکریت پسندی اور تنازع کا بیج بونے تہران کی ایک دہائی طویل مہم میں محوری لمحہ ہے۔

جمعہ کو علی الصبح میزائلوں کی ایک بڑی تعداد نے بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بناتے ہوئے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامل ایک عراقی نیم فوجی دستے، حاشد الشعابی سے تعلق رکھنے والے ایک کانوائے کو ہدف بنایا۔ ایران کے طاقتور ترین کرداروں میں سے ایک تصور کیے جانے والے – سلیمانی ان گاڑیوں میں سے ایک میں سفر کر رہے تھے۔

چند ہی گھنٹے بعد، حاشد اور ، جو گزشتہ اپریل اس گروہ کی جانب سےدنیا بھر میں نفرت انگیز اقدامات کے بعد ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا، ہر دو نے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔

image

شام میں جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے اعزاز میں گزشتہ اگست سپاہِ قدس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی تہران میں ایک تقریب میں شرکت کرتے دکھائے گئے ہیں۔ سلیمانی 3 جنوری کو بغداد میں ہلاک ہوئے۔ [فائل]

image

نومبر میں ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے متعلق ایران میں بدامنی کے دوران سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ایک تصویر۔ سلیمانی کے فیصلوں اور اقدامات نے ایران کی تنہائی اور اس کی معیشت کو تباہ کرنے والی پابندیوں کے عائد ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔ [فائل]

امریکی محکمہٴ دفاع نے کہا کہ سلیمانی "عراق اور خطے بھر میں امریکی سفارتکاروں اور سروس ممبرز پر حملے کرنے کے منصوبوں پر سرگرمی سے عملدرآمد کر رہے تھے۔"

کہا گیا کہ انہوں نے "قاسم سلیمانی کو قتل کرتے ہوئے بیرونِ ملک امریکی عملہ کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن دفاعی اقدام کیا۔"

جمعہ کو CNN سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع مائیک پومپیو نے کہا کہ سلیمانی "خطے میں ایسے اقدامات – جیسا کہ انہوں نے بیان کیا، ایک بڑی کاروائی – کا منصوبہ بنانے پر سرگرمی سے کام کر رہے تھے جن سے سینکڑوں نہیں تو درجنوں امریکیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتیں۔"

پومپیو نے سلیمانی کے منصوبہ کے بارے میں کہا، "ہم جانتے ہیں کہ یہ ہونے کو تھا۔"

قبل ازاں جمعرات (2 جنوری) کو امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے تنبیہ کی تھی کہ اگر امریکہ کو حملوں کی منصوبہ سازی ہونے کی معلومات ملیں تو وہ "دفاعی اقدام" کرنے میں نہیں ہچکچائے گا۔

ایسپر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کرکک پر ایک ایران موافق گروہ کی جانب سے ایک راکٹ حملے میں ایک امریکی ٹھیکیدار کی ہلاکت کا مطلب تھا کہ "کھیل بدل چکا ہے"۔

ایسپر نے ایرانی قیادت سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید کہا، "ہمارے خلاف حملوں کا جواب ہماری مرضی کے وقت، طریقے، اور مقام پر ملے گا۔ ہم ایرانی قیادت پر ان کی تباہ کن سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔"

خطے کو ایک خطرہ

یروشلم کے عربی نام کی حامل سپاہِ قدس، لبنانی حزب اللہ اور فلسطینی گروہ حمّاس سمیت شدّت پسند گروہوں کو تربیت، مالیات اور اسلحہ فراہم کرنے کی غیر ملکی مہمات میں مہارت رکھتی ہے۔

سلیمانی اور ان کی قدس فورس شام کی خانہ جنگی میں اس ملک کی قیادت کی افواج کی حمایت میں فیصلہ کن رہی ہیں۔

اپنے علاقائی رسوخ کو پھیلانے اور برتری قائم کرنے کی جستجو میں سپاہِ قدس افغان، پاکستانی، عراقی اور یمنی نوجوانوں کو شام میں اپنے مفادات کے لیے لڑنے کی غرض سے بھرتی کر رہی ہے۔

یہ حکمتِ عملی کا مشاہدہفاطمیوں ڈویژن سے بھی ہو سکتا ہے، جو ایک ایسی اکائی ہے جس نے 2013 اور 2017 کے درمیان شام میں لڑنے کے لیے تقریباً 50,000 افغان پناہ گزین بھرتی کیے، اور زینبیون برگیڈ، جس کے پاکستانی عناصر کو ایران کی جانب سے آئی آر جی سی سے ملحقہ دیگر دھڑوں اور شامی قیادت کے ہمراہ لڑنے کے لیے بھیجے جانے سے قبل آئی آر جی سی کی تربیت اور اسلحہ دیا جاتا ہے۔

قومی نظامتِ سلامتی (این ڈی ایس) کے سابق ڈائریکٹر رحمت اللہ نبیل نے ٹویٹ کیا، "سلیمانی ایرانی قومی مفادات کے لیے ایک اثاثہ تھے، تاہم وہ خطے کے لیے ایک خطرہ تھے۔ وہ خطے میں ضیمنی جنگ کے ایک ماسٹر مائنڈ تھے۔ حالیہ برسوں میں فاطمیون، زینبیون، حیدریون اور حسینیون ان کی تخلیقات ہیں۔"

گزشتہ کئی دہائیوں سے آئی آر جی سی مشرقِ وسطیٰ اور اس سے بھی آگے 1996 میں سعودی عرب کے خوبار ٹاورز کی بمباری، 1994 میں ارجنٹائن کے یہودی کمیونیٹی سنٹر پر خود کش حملے، اور 1983 میں بیروت میں امریکی میرین بیرکوں پر ٹرک بم حملے سمیت متعدد دہشتگردانہ واقعات سے منسلک رہی ہے۔

آخری تنکہ

گزشتہ دسمبر میں بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ایک ہجوم کا حملہ، جسے مبینہ طور پر سلیمانی نے منظم کروایا، 2019 میں امریکہ مخالف اشتعال انگیزیوں کی ایک طویل کڑی میں آخری تھا۔

27 دسمبر کو عراقی ملیشیا نے سلیمانی کی سپاہِ قدس کی ہدایات کے تحت امریکی عسکری عملہ پر راکٹوں کا ایک جھنڈ داغا، جس کے نتیجہ میں ایک امریکی شہری جاںبحق اور چار امریکی فوجی زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ دو عراقی عسکری عملہ کے ارکان بھی زخمی ہوئے۔

گزشتہ چند ماہ میں ایرانی پشت پناہی کی حامل شعیہ ملیشیا نے متواتر عراق میں امریکی افواج کو رکھنے والی چھاؤنیوں پر حملے کیے، جن میں 9 دسمبر، 5 دسمبر، 3 دسمبر اور 9 نومبر کے حملے شامل ہیں۔

ستمبر میں متعدد میزائلوں نے، جن پر ایرانی ہونے کا قوی شبہ ہے، سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل فیلڈز پر آ گرے، جس سے ملک کی تیل کی پیداوار اور برآمد عارضی طور پر اپاہج ہو گئی۔

گزشتہ جولائی، جب آئی آر جی سی کی بحری افواج نے مبینہ طور پر ایک برطانوی ٹینکر ضبط کر لیا تو ایک ایرانی ڈرون نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی جنگی بیڑے کو دھمکایا۔

20 جون کو نے آبنائےپر ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا۔

موسمِ گرما کے دوران آئی آر جی سی نے متواتر آبنائے کے قریب ٹینکرز کو خطرے میں ڈالا۔ 13 جون کو کوکوکا کریجیئس اور فرنٹ الٹائر پر خلیج امان میں حملہ کیا گیا۔ امریکی فوج نے بعد ازاں ایک فوٹیج جاری کی جس میں اس نے کہا کہ ایک ایرانی گشتی کشتی دکھائی گئی تھی، جو ایک جہاز سے "سلامت لائمپٹ بارودی سرنگ" نکال رہے ہیں۔

داخلی مسائل

تمام تر مشرقِ وسطیٰ میں سلیمانی کے شیخی مار تصور کے باوجود، ان کے فیصلوں اور کاروائیوں نے ایران کی تنہائی اور پابندیاں لگنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

یہ ملک سے باہر سلیمانی کے فرائض کی انجام دہی سے متعلق بڑھتے ہوئے داخلی عدم اطمینان اور تنقید کے ماحول میں سامنے آیا۔

کہا جاتا ہے کہ ایرانی اصلاحاتی تحریک اور قدامت پسندوں کے رہنما IRGC کی قیادت کے خارجی امور سے نمٹنے کے طریق سے یکساں طور پر پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کو مزید تنہائی اور معاشی بحران سے زد پذیر کر رہے ہیں۔

2019 میں سرکاری ٹی وی پر چلنے والے ایک پیغام میں ایران کے سرپرستِ اعلیٰ علی خامنائی نے ایرانیوں کو درپیش معاشی مشکلات کو ملک کا اشد مسئلہ قرار دیا۔

ایرانی حکام ہزاروں احتجاج کنندگان، صحافیوں، حقوقِ انسانی کے فعالیت پسندوں اور طالبِ علموں کو گرفتار کرتے ہوئے ایرانی حکامنومبر میں شروع ہونے والے معاشی بحران سے متعلقہ حکومت مخالف احتجاج کے سلسلہ میں "وحشیانہ کریک ڈاؤن" کر رہے ہیں۔

ایرانی سیاست دانوں نے ان فیلڈ رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جو سلیمانی نے اعلیٰ حکام کو ارسال کیں، انہوں نے ان کو "گمراہ کن" اور "ایک غلط حکمتِ عملی" پر مبنی قرار دیا۔

آئی آر جی سی کی جانب سے موسمِ گرما میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اختلاف کو دبانے میں مدد کے لیے ایرانی منظم شدہ عراقی ملیشیا کی مدد کے نہایت غیر مقبول فیصلہ کے بعد سلیمانی کے اقدامات نے بھی ایرانی عوام میں غم و غصہ کو بھڑکایا۔

ایرانی سیاسی تجزیہ کار علی ناریمانی نے دسمبر میں کہا کہ سلیمانی نے "ان ملکوں، جن میں وہ کام کرتے ہیں، میں ہلچل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے" ان مسلح گروہوں کو ہدایات دیں جو "گینگ" کی طرز پر زیادہ کام کرتے ہیں۔

انہوں نے اس امرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کہ ان کے اقدامات ایران کو "ہمسایہ خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ میں مبتلا رکھتے ہیں"، کہا کہ یہ گروہ ہمسایہ ممالک میں ناچاقی پھیلاتے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کو خدشہ میں مبتلا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیمانی کی سپاہِ قدس کے اقدامات نے "ایران اور ایرانی عوام پر پابندیاں عائد کروائی ہیں جس سے معاشرتی اور معاشی صورتِ حال مزید مشکل ہو گئی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
31
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی

ایران ایک دہشتگرد ملک ہے جو ہمسایہ ممالک سے شعیوں کو بھرتی کر کے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کرتا ہے اور افغانستان، شام، عراق میں سنّیوں کو قتل کرتا ہے اور یمن سے دہشتگردانہ کاروائیوں کو سعودی عرب لاتا ہے۔

جواب

عراق ایران جنگ کے دوران ایرانیوں کا خون مغرب اور امریکہ کے ہاتھوں پر ہے

جواب

Bilkul darrusat...

جواب