تجزیہ

ایران کے لیے سلیمانی کی میراث: شہریوں کے پیسے کا رخ مہنگی پراکسی جنگوں کی جانب موڑنا

پاکستان فارورڈ

image

قدس فورس کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایرانی پیشوا علی خامنہ ای کی 2018 کی ایک تصویر۔ [Leader.ir]

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے مقتول کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی میراث کو جاری رکھنے کے لیے حکومتِ ایران کے اصرار کی وجہ سے ایرانی عوام کو اخراجات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

3 جنوری کو بغداد میں ایک امریکی حملے میں مارے جانے سے قبل سلیمانی عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان سمیت خطے بھر میں متعدد ضمنی جنگوں کے ذریعے آئی آر جی سی کے وسعت کے ایجنڈا کی قیادت کر رہے تھے.

یہ اقدامات مہنگے پڑے ہیں اور انہوں نے بارہا تہران کی غلط ترجیحات کو عیاں کیا ہے، جبکہ ایرانیوں کا حکومت اور پیچ دار معیشت پر عدم اطمینان بڑھتا چلا گیا۔

سیاسی تجزیہ کار کریم سمادیان نے کہا، "کئی برسوں تک آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ خطے میں ایران کی مؤثر موجودگی کی جڑیں مذہب اور ایران کے پیشوائے اعلیٰ علی خامنہ ای کے روحانی رسوخ میں ہیں۔"

image

مئی 2020 میں ایران کے وزیرِ ثقافت عبّاس صالحی قاسم سلیمانی کی بیٹی زینب کو سلیمانی کی ایک تصویر پیش کر رہے ہیں جس میں وہ ایک شعیہ امام سے بغل گیر ہیں۔ [Jamaran.ir]

image

ایک منہ بولتی تصویر۔ جنوری 2020 میں معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومتِ ایران کی کوششوں سے متعلق خطاب کے دوران، بدحال علاقہ میں رہنے والی دو نوجوان لڑکیاں اس مقام کے عقب میں پہنچ گئیں جہاں ایرانی صدر حسن روحانی خطاب کر رہے تھے۔ [فائل]

انہوں نے کہا کہ حقیت تو یہ ہے کہ آئی آر جی سی "مالی طور پر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، اور اس کے پاس آئی آر جی سی کمانڈروں اور علاقائی اتحادیوں کی جبیں بھرنے کے لیے کافی پیسے نہیں۔"

انہوں نے کہا کہ مالیات کا فقدان، جو جزوی طور پر ایران اور بطورِ خاص آئی آر جی سی کے خلاف حکومتِ امریکہ کی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوا، ایرانی پراکسی گروہوں کے مابین تنازع اور بے چینی میں حالیہ اضافہ کا سبب ہے۔

سمادیان نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دراصل آغاز ہی سے آئی آر جی سی کا "نظریہ" پیسہ ہے، نہ کہ مذہب۔

مشرقی شام میں بنیادی طور پر عراقی ملیشیا، کتائب حزب اللہ اور آئی آر جی سی کمانڈروں کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت اور رسوخ کے لیے مدِ مقابل دیگر ضمنی گروہوں کے درمیان تقسیم بڑھ رہی ہے۔

شامی قبائلی کاؤنسل کے ایک رکن شیخ مدار الاسد کے مطابق، اس دراڈ کی بڑی وجہ ان غالب زمینی ملیشیاؤں کے مابین قیادت، دولت کے وسائل اور رسوخ کے لیے شدید مقابلہ ہے جن کی تنخواہیں فی جنگجو 1,500 ڈالر سے کم ہو کر 300 ڈالر تک آ گئی ہیں۔

یمن میں ایران کی پشت پناہی کے حامل حوثیوں (انصار اللہ) کے زیرِ انتظام علاقہ جات کو اسمگل ہونے والی منشیات کی مقدار میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ رہا ہے۔

کم از کم کسی حد تک اس اصافے کی وجہ، اپنے پراکسی جنگوں کے اتحادیوں کی حمایت میں ایران کی تخفیف کے باعث حوثیوں کا متبادل ذرائع آمدنی تلاش کرنا ہے۔

غلط ترجیحات

اپنے گھٹتے ہوئے فنڈز کے باوجود، تہران دہشتگردی، فرقہ واریت اور غلط معلومات برآمد کرنے کو ایرانی عوام کی روزمرہ کی ضروریات پر مسلسل ترجیح دے رہا ہے۔

ایرانی میڈیا نے خبر دی کہ 2 دسمبر کو حکومتِ ایران نے 21 مارچ کو شروع ہونے والے آئندہ مالی سال کے لیے 33.7 ملین ڈالر کے ریاستی بجٹ کا مسودہ پارلیمان میں پیش کیا۔

بجٹ کے اس مسودہ کی قدر 8,413 ٹرلین ریال رکھی گئی ہے – جو ایرانی کرنسی میں تیزی سے کمی کی وجہ سے گزشتہ برس کے مقابلہ میں ریال کے اعتبار سے 74 فیصد زیادہ ہے لیکن زرِ نقد کے اعتبار سے 5 بلین ڈالر کم ہے۔

اس بجٹ میں قاسم سلیمانی کے کام کی اشاعت اور اسے قائم رکھنے کے لیے ان کی موت کے بعد بنائی گئی فاؤنڈیشن، جسے عموماً "قاسم سلیمانی فاؤنڈیشن" کہا جاتا ہے، کے لیے 80.5 بلین ریال (327,000 ڈالر) شامل ہیں۔

سلیمانی کی 29 سالہ بیٹی زینب سلیمانی اس تنظیم کی قیادت کر رہی ہیں۔

زینب نے 5 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے ایک بیان جاری کیا کہ وہ یہ رقم قبول نہیں کریں گی، جس کا بہتر استعمال عوام کی ضروریات پوری کرنا ہو گا۔

تاہم، مزید خبروں سے انکشاف ہوا کہ اس فاؤنڈیشن نے رواں برس حکومت سے 400,000 ڈالر کے مالیات وصول کیے، اور یہ رقم آئی آر جی سی کے رواں برس کے بجٹ کے ذیلی زمرہ کے طور پر قاسم سلیمانی فاؤنڈیشن کے لیے مختص کی گئی تھی۔

خود آئی آر جی سی کے لیے مالیات وافر ہیں۔

مارچ میں خامنہ ای نے آئی آر جی سی کے لیے آئندہ برس کے مالیات میں، حکومت کے مجوزہ استقرار سے 33 فیصد اضافہ کر دیا۔

غلط ترجیحات کی ایک اور علامت میں، آئی آر جی سی اپنے کمانڈروں کی دیوقامت تصاویر اور یادگاروں کے لیے مالیات فراہم کر رہی ہے۔ ان میں بغداد ہوائی اڈے کے داخلی راستے پر دیوقامت تصویر "جمال النصر" شامل ہے، جس کی پردہ کشائی 19 جون کو الحشد الشعبی (پی ایم ایف) نے کی۔

اس دیو قامت تصویر میں ہوائی اڈے کے قریب امریکی حملے میں جاںبحق ہونے والے سلیمانی اور پی ایم ایف کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس عراقیوں کے ایک مجمع کو سلامی دیتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

جون میں کرونا وائرس بحران کے دوران سلیمانی کے آبائی صوبے کرمان کے شہر جیروفت میں ان کا ایک نیا مجسمہ ایستادہ کیا گیا، جس کا بڑے پیمانے پر تمسخر اڑایا گیا اور سوشل میڈیا کے صارفین نے حکومتِ ایران کی ترجیحات پر تنقید کی۔

درایں اثناء، لبنان کے جنوبی قصبہ مارون الراس میں ایران سے منسلک اور اس کی مالیات یافتہ حزب اللہ نے سلیمانی کے ایک مجسمہ کی پردہ کشائی کی۔

ایرانی عوام سے پیسہ کھیچنا

جبکہ ایرانی عوام ایک بدتر ہوتے معاشی بحران سے نبردآزما ہیں، خامنہ ای نے باسیج کے بجٹ کو بھی دوگنا کر دیا ہے، جو کہ آئی آر جی سی کے زیرِ انتظام ہے اور اکثر داخلی اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

گزشتہ نومبر میں پٹرول کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافے کے ہلا دینے والے فیصلے کے بعد، وسیع پیمانے پر احتجاج کے دوران باسیج نیم فوجی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، اس کریک ڈاؤن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کم از کم 304 آدمی، عورتیں اور بچے مارے گئے تھے۔

یہ واضح ہے کہ تہران آئی آر جی سی کی مداخلت اور احتجاج پر کریک ڈاؤنز کو ادویات اور خوراک سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔

ایران وائر نے ایران میں خبروں کے مقامی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی کہ مارچ میں خامنہ ای نے کوویڈ-19 کے خلاف جنگ کے لیے ایران کے قومی ترقیاتی فنڈ سے ایک بلین یورو (1.2 بلین ڈالر) نکالنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم اب تک ایران کی وزارتِ صحت کو ان فنڈز کا صرف 27 فیصد ہی مل سکا اور وہ کارکنانِ صحت کی تنخواہیں نہیں ادا کر سکتے۔

پارلیمان کی صحت کمیٹی کے چیئرمین حسین علی شہریاری نے مقامی خبروں کے لیے بتایا، "اس فنڈ سے ایک بلین ڈالر نکالے گئے لیکن کہیں اور صرف ہو گئے۔ حکومت کو شفافیت کے ساتھ چلنا چاہیئے اور کارکنانِ صحت کے جائز مطالبات کا جواب دینا چاہیئے۔"

پورا ملک وبا کی لپیٹ میں آنے پر ضروری آلات و ادویات سے ایران کے نگہداشت صحت کے کارکنان کی معاونت کرنے کے بجائے آئی آر جی سی نے اپریل میں کوویڈ-19 کی "تشخیص" کے لیے تیار کی گئی ایک مضحکہ خیز تدبیر کا انکشاف کیا۔

سلیمانی کی موت سے قبل اور اس کے بعد متعدد مہلک سانحات کی وجہ سے، آئی آر جی سی کی خراب ہو جانے والی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے، اس حکومت کی جانب سے بے حساب وسائل اور قیمتی وقت صرف کیے جانے کی متعدد مثالوں میں سے، یہ ایک مثال تھی۔.

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500