تجزیہ

خطے بھر میں اور اس سے آگے قاسم سلیمانی کی خونریزی کی سرگزشت

پاکستان فارورڈ

image

ایرانی فوج کی طرف سے 10 دسمبر کو شائع کی جانے والی نامعلوم تاریخ کی اس تصویر میں قاسم سلیمانی (درمیان میں) کو دیگر اعلی ایرانی فوجی سالاروں اور رہبرِ معظم علی خامنہ ای کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

تقریبا دو سال پہلے ان کی وفات سے قبل، ایرانی سپہ سالار اعلیٰ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو کچھ لوگ مشرقِ وسطی میں سب سے زیادہ خوف زدہ کرنے والا شخص تصور کرتے تھے۔

تقریبا دو دیہائیوں سے زیادہ کے عرصے تک ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی قدس فورس (آئی آر جی سی -کیو ایف) جو کہ ایرانی فوج کی ایک ایسی چیدہ شاخ ہے، جو دہشت گردی کی برآمد اور علاقے بھر میں، جس میں عراق، شام، لبنان، یمن اور افغانستان شامل ہیں، میں ایرانی حکومت کی نائب ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کی ذمہ دار رہی ہے۔

ان کے آخری منصوبوں میں عراق میں امریکہ کی اتحادی فورسز پر حملے کرنا شامل تھا جس میں گزشتہ سال 31 دسمبر کو بغداد میں امریکہ کے سفارت خانے پر ایک دن تک جاری رہنے والا حملہ شامل تھا، جس میں غارت گروں نے دیوار پر "سلیمانی ہمارا رہنما ہے" کے نعرے لکھ دیے تھے۔

بغداد میں 3 جنوری کو ہونے والے امریکی ڈرون کے ایک حملے میں سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا، جو تہران کی علاقے میں عسکریت پسندی اور تنازعات کو بونے کی کئی دیہائیوں سے جاری مہم، کا ایک اہم لمحہ بن گیا۔

image

سلیمانی کو 2017 میں البو کمال، شام میں کرد لباس میں دکھایا گیا ہے۔ [ایسنا]

image

سلیمانی کو 2018 میں عراق میں آئی آر جی سی کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ [جہان نیوز]

امریکہ کی حکومت نے سلیمانی کو 2011 میں اس وقت امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل بن احمد الجبیر جو کہ اب وزیر برائے امور خارجہ ہیں، کو واشنگٹن، ڈی سی میں ان کی موجودگی کے وقت ہلاک کرنے کے ناکام منصوبے کی نگرانی کرنے پر عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اس سے پہلے اسی سال، سلیمانی پر، شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے سویلین مظاہرین کی خونی پکڑ دھکڑ کے دوران مادی امداد فراہم کرنے پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

اپریل 2019 میں،امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے پوری آئی آر جی ایس کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا غیر معمولی قدم اٹھایا جس کی بڑی وجہ سلیمانی کی زیرِ قیادت قدس فورس کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات تھے۔

ملک سے باہر دہشت گردی پھیلانا

سلیمانی کی زیرِ قیادت، آئی آر جی سی- کیو ایف نے ملک سے باہر دہشت گردی پھیلائی، فرقہ واریت کو بھڑکایا، علاقائی حکومتوں کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا اور وہ -- لاکھوں نہیں تو ہزاروں ہلاکتوں -- اور پورے مشرقِ وسطی اور اس سے آگے بے حساب آفتوں کی ذمہ دار رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایرانی حکومت علاقے کی سیکورٹی کو نقصان پہنچانا جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اگر سلیمانی زندہ ہوتے تو تہران کی دھمکیاں اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہوتیں۔

سلیمانی کا "ریاستی قائدین کے ساتھ قریبی تعلقات کا وسیع سلسلہ موجود تھا، جیسے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور شام کے صدر بشار الاسد اور وہ ملیشیاء کے جنگجوؤں کے قریب بھی تھے اور جنگوں کے دوران میدانِ جنگ میں بھی موجود ہوتے"۔ یہ بات عراقی سینٹر برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ غازی فیصل حسین نے کہی۔

انہوں نے اس نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو تمام معاملات پر حکمرانی کرنی چاہئے، کہا کہ "انہوں نے ایرانی انقلاب اور ولایت الفقیہ کے نظریہ کو پھیلانے اور علاقے کی قانونی حکومتوں کو ایران کی ماتحت حکومتوں کے ساتھ تبدیل کرنے کے لیے کام کیا۔

یمن کے سیاسی تجزیہ نگار اور صحافی ودحہ الجلیل نے کہا کہ "قاسم سلیمانی کو علاقے میں آئی آر جی سی کا اثر و رسوخ بڑھانے کا کام سونپا گیا تھا"۔

سلیمانی کے پہلے دور کے ابتدائی سالوں میں 1999-1998 میں وہ عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کی راہنمائی کرنے میں وقف تھے۔

دس سال سے زیادہ کے عرصے تک، سلیمانی نے ایران کی طرف سے عدم استحکام پیدا کرنے اور عراقی حکومت کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے، ذاتی طور پر عراق میں دہشت گردوں کو ہدایات اور ہتھیار فراہم کیے۔

امریکہ کے محکمہ دفاع کے مطابق، 2000 کی دیہائی کے وسط میں، کم از کم 603 امریکی فوجی اہلکاروں کو عراق میں، ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے ہلاک کیا -- جو کہ عراق میں دشمن کی کاروائیوں میں ہلاک ہونے والے تمام امریکی شہریوں کے 17 فیصد حصے کی نمائںدگی ہے۔

اکتوبر 2019 کے آغاز سے اب تک، ہزاروں عراقی مظاہرین متعدد بار سڑکوں پر نکل آئے تاکہ وہ عراق میں ایران کے غیر مستحکم کر دینے والے اثر و رسوخ کے خلاف مظاہرہ کر سکیں۔

زد پذیر نوجوانوں کو بہلانا پھسلانا

شام میں، سلیمانی نے اسد کی خستہ حال فوج کو سہارا دینے کے لیے ایک بہت بڑے آپریشن کی نگرانی کی۔

کئی سالوں کے دوران جن کا آغاز 2014 کے آخیر میں ہوا، سلیمانی کی زیرِ نگرانی ایرانی کارکنان نے ملیشیا جنگجوؤں کو -- جن میں سے بہت سے کم عمر تھے اور/ یا معاشی طور پر زدپذیر پس منظر رکھتے تھے-- افغانستان، پاکستان، عراق اور دیگر ممالک کی شیعہ برادریوں سے بھرتی کیا۔

آئی آر جی سی کی زیرِ قیادت افغان ملیشیا، فاطمیون ڈویژن، میں شامل ہونے کے بدلے میں افغان شہریوں کو ایرانی شہریت اور ماہانہ تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم ایرانی حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں بار بار ناکام رہی ۔

فاطمیون کے ذرائع کے مطابق، شام میں خانہ جنگی کا آغاز کرنے سے، سلیمانی نے تقریبا 20،000 غریب افغان جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے کام کی نگرانی کی، جن میں سے کم از کم 2،000 ہلاک اور 8،000 زخمی ہو گئے۔

حزبِ مخالف کے سرگرم کارکنوں کے مطابق، دسمبر 2020 تک شام کی خانہ جنگی میں ہونے والی ہلاکتوں کا تخمینہ 387،100 سے 593،000 کے درمیان لگایا گیا ہے۔

ورلڈ ویژن کے مطابق، شام کے اندر تقریبا 6.2 ملین افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ مزید 5.6 ملین ہمسایہ ممالک بھاگ گئے ہیں۔

سلیمانی نے یمن میں ایرانی اثر و رسوخ کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کیا جہاں آئی آر جی سی کی حوثی باغییوں (انصار اللہ) کے لیے حمایت 2015 میں اس وقت بہت زیادہ بڑھ گئی جب سعودی عرب -- جو کہ علاقے میں ایران کا سب سے بڑا حریف ہے-- نے یمن کی حکومت کے کہنے پر مداخلت کی۔

آباد سینٹر برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر عبدالسلام محمد نے کہا کہ "سلیمانی کا کردار ایرن کی حکمت عملی کے نفاذ کو تیز کرنا تھا جس میں ثناء اور دمشق اور اس کے ساتھ ساتھ بیروت اور بغداد پر قبضہ کرنا شامل تھا"۔

" ان کی ہلاکت سے یہ حکمتِ عملی تبدیل نہیں ہو گی"، انہوں نے کہا۔

یمن ڈیٹا پراجیکٹ کے مطابق، یمن میں بحران جسے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بھڑکایا، 2015 سے اب تک 17,500 سے زیادہ شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا باعث بن چکا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے خبر دی ہے کہ 20 ملین سے زیادہ افراد خوارک کے حوالے سے غیر محفوظ ہیں اور 10 ملین قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بین الاقوامی تحقیق سے آشکار ہوا ہے کہ حوثی اکثر غیر قانونی طور پر طلبا، خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، انسانی ہمدری کی بنیاد پر کام کرنے والوں اور مذہبی اقلیتوں کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کرتے ہیں۔

غنڈا بن جانے والی ملیشیائیں

2014 اور 2015 میں، سلیمانی کی تصاویر جن میں انہوں نے عراق کے میدانِ جنگ میں فوجی وردی پہن رکھی تھی، تنازعہ میں ان کے براہ راست کردار کو آشکار کرتی ہیں۔

سلیمانی نے کئی سالوں کے دوران جو ملیشیائیں قائم کرنے میں مدد فراہم کی ان میں سے بہت سی سرکش ہو گئیں اور اپنے اصلی، واضح مذہبی اہداف سے بہت زیادہ حد تک دور ہو گئیں۔

عراق میں، ان ملیشیاؤں نے سلیمانی کے زیرِ پرستی کئی سالوں تک طاقت میں جو اضافہ حاصل کیا تھا، اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے عراقی مظاہرین کی پکڑ دھکڑ کی، پی ایم ایف میں دراندازی اور اس کا استحصال کیا، یہاں تک کہ حکومت کی بدعنوانی اور نااہلی پر مظاہرہ کرنے والے کئی درجن عراقی مظاہرین کو گولیاں بھی ماریں۔

ایک سینئر عراقی سیاست دان جو اپنا نام بتانا نہیں چاہتے، نے فروری میں رائٹرز کو بتایا کہ "ملیشیائیں عفریت، لالچی اور اتنی طاقتور بن گئیں کہ انہیں سنبھالا نہ جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ "انہوں نے کاروباروں سے رقم بٹوری، وہ ہر چیز میں اپنا حصہ چاہتے تھے، یہاں تک کہ حکومت کو بھی مجبور کیا کہ وہ ان کے وفاداروں کو ملازمتیں اور سرکاری ٹھیکے دے"۔

عراقی ملیشیا نے غیر قانونی طور پر ہتھیاروں پر بھی قبضہ کیا اور "دولتِ اسلامیہ (داعش) کے قبضے سے آزاد کیے جانے والے کئی شہروں میں سرمایہ کاری میں بھی خلل ڈالا۔

[اس خبر کی تیاری میں فارس العمران اور نبیل عبد اللہ التمیمی نے تعاون کیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

شرم آنی چاہئے کہ جھوٹ پھیلا رہے ہو۔ اب تو ٹرمپ نے بھی کہہ دیا کہ داعش کو امریکہ نے بنایا اور ایران پہلے ہی جان چکا تھا کہ داعش فتنہ ہے جو اسلام کو بدنام کرے گا لہذا اس فتنے کو ختم کرنا ہے اور اسی فتنے کو ختم کرنے کے لئے قدس فورس نے تن من دھن کی قربانیاں دی ہیں۔ بجائے اس کی کہ قدس فورس کی حمایت میں لکھو الٹا مخالفت میں لکھا ہے۔ تم وہابی بھی ایک فتنہ ہو بلکہ اب تو سعودیہ نے بھی وہابیت کو خارج کردیا ہے، یعنی اب تم خوارج ہو۔

جواب

یقیناً یہ ایک معلومات افزاء مضمون ھے اور ھمیں مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران اور اُس کے گرد و نواح کی صورت حال کو سمجھنے میں مدد فرام کرتا ھے. مگر جیسا کہ اس مضمون میں تمام تر خراب و بُرائی کو ذمہ دار جنرل سلیمانی اور ایران کو ٹھہرایا گیا ھے تو اس امر سے اتفاق کرنا مشکل ھے.

جواب