https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/17/feature-01
سلامتی

سلیمانی کی ہلاکت پر تہران کا بزدلانہ ردعمل حکومت کی کمزوری کی علامت ہے

کاراونسیرائی اور اے ایف پی

ہفتے کے اختتام پر لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے اور پوری شدت سے، اعلیٰ ترین ملکی سربراہ علی خامنہ ای کے حوالے سے ‘‘مرگ بر حاکمِ جابر’’ ، ‘‘مرگ بر کاذبین’’ اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

کابل – جنوری کے آغاز میں فوجی کمانڈر کے ہلاکت خیر امریکی ڈرون حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے دلیری کا ابتدائی مظاہرہ فوراً ہی ماند پڑگیا، جس نے حکومتی استحکام کے لیے ناسور بننے والی داخلی کمزوری کو آشکار کردیا۔

3 جنوری کو بغداد میں ہونے والے حملے نے، جس میں اسلامی انقلابی محافظین کے دستے (IRGC) کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے،خونی انتقام کے لاتعداد دعووں کو مہمیز دی۔

ایران کے اعلیٰ ترین سربراہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی نے ‘‘سنگین انتقام’’ سے خبردار کیا۔

تہران کے اعلیٰ ترین سیکیورٹی ادارے، سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل، نے کہا کہ امریکہ کو ‘‘صحیح وقت اور جگہ پر... سنگین انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا’’۔

image

ایرانی فوج کے سربراہان 14 جنوری کو تہران میں ہونے والی تقریب میں سراسیمہ نظر آئے۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

image

13 جنوری کو ٹیلی گرام پر شائع ہونے والی اس تصویر میں ایک عورت کو ایرانی سیکیورٹی سروسز کے ایک رکن پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ [فائل]

ایرانی اسلامی انقلابی محافظین کے دستے (IRGC) کے سابق کمانڈر محسن رضائی، جو اب ملک کی مجمع تشخیص مصلحت نظام (Expediency Discernment Council) کے سیکریٹری ہیں، ٹوئٹر پر لکھتے ہیں ‘‘امریکہ کے خلاف انتہائی خوفناک انتقام’’۔

اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر، تخت روانچی نے کہا ‘‘بلاشبہ انتقام لیا جائے گا، انتہائی شدید انتقام’’۔

ایران کے آرمی چیف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ فساد کے آغاز کے لیے مطلوبہ ‘‘ہمت’’ سے عاری ہے۔

لاف زنی

ان تمام تر ڈرامائی ولولہ انگیز بیانات کے بعد، روحانی کے الفاظ میں، حکومت کا ‘‘فیصلہ کن ردعمل’’ 8 جنوری کو سامنے آیا جباس نے عراق میں امریکی اور دیگر غیر ملکی دستوں کی دو رہائشی بیسز پر 22 میزائل داغ دیے.

اُس وقت، ایران کے سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں کم از کم 80 امریکی دستے مارے گئے۔ تاہم، امریکی اور عراقی اہلکاروں نے کوئی بھی ہلاکت نہ ہونے کی تصدیق کردی۔

درحقیقت، یہ میزائل حملہ معمولی مادی نقصان کا مؤجب بنا۔

اُس وقت IRGC نے دعویٰ کیا ‘‘آئندہ بھی ہر فساد پرور اقدام یا جارحانہ عمل کا اور بھی زیادہ دردناک اور تباہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا’’۔

لیکن پھر IRGC کے سربراہان نے اپنی گزشتہ شیخیوں پر پسپائی اختیار کرنا شروع کردی۔

IRGC کے اعلیٰ کمانڈر حسین سلامی نے، 8 جنوری کے میزائل آپریشن کے حوالے سے، اتوار (12 جنوری) کو پارلیمنٹ کو بتایا ‘‘ہمارا مقصد دشمن کے سپاہیوں کو مارنا ہرگز نہیں تھا۔ یہ امر ہمارے لیے اہم نہیں تھا’’۔

انہوں نے ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا ‘‘یہ مادی تباہی صرف اس لیے تھی کہ ہم یہ بتا دینا چاہتے تھے کہ ہم دشمن سے کئی گنا طاقتور ہیں’’۔

IRGC فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادے نے اس بیانیے کو کئی بار دہرایا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کا کہنا تھا ‘‘ہم جان سے مارنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے’’۔

‘ہر بات میں مبالغہ آرائی’

حکومتی صلاحیتوں کی مبالغہ آمیزی کے لیے ایرانی قائدین کا اس حد تک جانا اور فوج کے ‘خوفناک انتقام’ کی بزدلانہ کارروائی نے جمہوری اور فوجی اداروں کی بڑی کمزوریوں کو ظاہر کردیا ہے۔

کابل میں مقیم فوج کے ایک تجزیہ کار عزیز احمد واردک نے کہا ‘‘امریکہ اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کا باہم کوئی تقابل ہی نہیں’’۔

سلیمانی کی ہلاکت کے بعد، تہران نے اپنی صلاحیتوں کی شیخی بگھاری اور کہا کہ وہ سنگین بدلہ لے گا اور امریکہ کو خطّے سے مار بھگائے گا۔

واردک کا کہنا تھا ‘‘لیکن آج تک، نہ تو اس نے سنگین بدلہ لیا اور نہ ہی امریکیوں کو خطے سے نکالا’’۔ ایسے بیانات کا مقصد صرف خطے میں موجود دوسرے ممالک پر اپنی دھونس جمانا ہوتا ہے’’۔

ان کا کہنا تھا ‘‘ایرانی فوج، خصوصاً IRGC، جھوٹ بول رہی ہے اور اپنے بارے میں ہر بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایران کے پاس وہ فوجی اور جنگی صلاحیتیں سرے سے ہیں ہی نہیں جن کا وہ دعویٰ کرتا ہے’’۔

کابل میں مقیم فوج کے تجزیہ کار عزیز استنکزئی نے کہا ‘‘IRGC نے ملک میں عوامی رائے کو قابو میں رکھنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا’’۔

انہوں نے کہا ‘‘ایرانی سربراہان نے اپنے میڈیا ذرائع سے یہ پروپیگنڈا پھیلانا شروع کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عراق میں امریکی بیسز پر میزائل حملوں میں 80 امریکی مارے گئے تھے’’۔

ان کا کہنا تھا ‘‘ایران کے سیاسی اور فوجی اہلکاروں کو سنگین انتقام کے نتائج معلوم تھے، لہذا انہوں نے جان بوجھ کر عراق میں امریکی فورسز کو نقصان نہیں پہنچایا’’۔

ان کے مطابق ‘‘ایرانی حکومت اور اس کی فوج کو یہ معلوم تھا کہ وہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے’’۔

‘مرگ بر حاکمِ جابر’

ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کی اندرونی لہر نے بھی نظامِ حکومت کی کمزوری کی پول کھول دی۔

ہفتے کے اختتام پر لاکھوں ایرانی ایک نئے غم و غصے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئےجس کی وجہ IRGC کی جانب سے یہ اعتراف تھا کہ اس باہمی فساد کے دوران ہی 8 جنوری کو یوکرین کے ایک مسافر طیارے کو غلطی سے مار گرایا گیا۔

مظاہرین، خامنہ ای کے حوالے سے، ‘‘مرگ بر حاکمِ جابر’’، ‘‘مرگ بر کاذبین’’ اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔

سماجی میڈیا پر شائع ہونے والی لاتعداد ویڈیوز سے پتہ چلا کہ مظاہرین خامنہ ای سے استعفیٰ اور طیارہ گرانے کے ذمہ داران کے خلاف مقدمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مظاہرین پکار پکار کر کہہ رہے تھے ‘‘خامنہ ای شرم کرو۔ ملک چھوڑ دو’’۔

یوکرینی طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی منٹ بعد انجانے میں زمین بوس ہوگیا – اور محض چند گھنٹوں بعد ایرانی حکومت نے عراق میں اپنے میزائل داغ دیے۔ طیارے میں سوار تمام 176 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوگئے۔

اگرچہ ویڈیو اور واقعاتی شہادت سے عیاں تھا کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل طیارے سے ٹکرایا تھا، لیکن تہران کئی دن تک اس بات کی تردید کرتا رہا کہ اس کا اپنا میزائل یوکرین کی بین الاقوامی ایئرلائنز کی پرواز PS752 کی تباہی کا باعث بنا تھا.

لیکن 11 جنوری کو روحانی نے اس سچ کو تسلیم کرلیا کہ ایرانی فوج نے ایک ‘‘تباہ کن غلطی’’ سے طیارہ مار گرایا تھا، جس کے بعد اسے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اور داخلی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

14 جنوری کو عدالت نے اس بھیانک غلطی پر پہلی گرفتاریوں کا اعلان کیا، تاہم یہ وضاحت نہیں کی کہ کتنی گرفتاریاں ہوں گی۔

بعض طلبہ مظاہرین نے بھی IRGC کو ‘‘نا اہل’’ اور ‘‘عوام کے لیے شرمناک’’ قرار دیا۔

ایک سیاسی کارکن، سابقہ پارلیمینٹیرین اور سابق ایرانی صدر آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحبزادی، فائزہ ہاشمی نے مظاہرین کے حق میں بیان دیا۔

بی بی سی کی فارسی سروس کی جانب سے ایک آڈیو ریکارڈنگ نشریات میں، انہوں نے نظام میں اصلاحاتی تبدیلیوں کے لیے خامنہ ای سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی بھی جاری رہنے پر حوصلہ افزائی کی۔

سابق پارلیمانی اسپیکر اور صفِ اول کے مخالف سیاستدان مہدی کروبی نے بھی کہا کہ خامنہ ای ملک چلانے کے لیے ‘‘عدم اہلیت’’ کا حامل ہے۔

کروبی نے سربراہِ اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خامنہ ای ملکی قیادت کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں بیان کردہ کسی بھی اہلیت کے حامل نہیں ہیں۔

کروبی کا مزید کہنا تھا کہ خامنہ ای یوکرینی طیارے کو مار گرانے اور اس میں سوار ہر شخص کی ہلاکت کا ‘‘براہِ راست ذمہ دار’’ تھا۔

انہوں نے کہا ‘‘یہ شرم کا مقام ہے کہ آپ بدھ [8 جنوری] کو ہونے والے حادثے سے آگاہ تھے، اس کے باوجود فوجی اور شہری اتھارٹیز اور ملک کی پروپیگنڈا مشین کو تین دن تک لوگوں کو بے وقوف بنانے کا موقع دیا’’۔

‘‘اور اگر آپ آگاہ نہیں تھے تو یہ اس سے بھی زیادہ شرمناک بات ہے’’، یہ بات انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کے حوالے سے کہی جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بعض ماتحت افراد نے خامنہ ای کو اس حادثے کے دو دن بعد خبر پہنچائی۔

[کابل میں مقیم سلیمان نے اس رپورٹ سازی میں معاونت کی۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

آپ سمیت بے چارے امریکی غلاموں کو یہ احساس ہی نہیں کہ ایران نےب13 بیلسٹک میزائل کس طاقت کے اڈوں پر فائر کئے ہین؟؟؟
دنیا کی ترقی یافتہ ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ، سپر ایڈوانسڈ ڈرون اور دنیا کی سب سے با صلاحیت سٹیلائٹ سیسٹم کی موجودگی میں امریکی اڈے کی پڑخچے آڑانا کسی اور ملک کے بس میں تھا؟؟ جس حقیقت کا اعتراف ہینری کسینجر جیسا کار کشتہ بیورو کریٹ اور ہلری کلنٹن جیسی سفارت کار کرچکی ہوں کہ ایران نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔۔۔۔اس سے آپ اور اسرائیلیوں کے درد کو دنیا سمجھ سکتی ہے!

جواب

شرم کرو یار کیوں امریکہ کے کندھوں پر چڑھے ہوئے ہو بزدلانہ بزدلانہ بزدلانہ کیئے جا رہے ہو کیا امریکہ نے دلیرانہ کام کیا ہے؟
کیا اپنے حق کے لئے لڑنا بزدلانہ کام ہے؟
ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنا ہی سب کچھ ہوتا ہے تو امریکہ طالبان کے ساتھ معاہدے کیوں کر رہا ہے وہاں بھی لڑے کیونکہ اس کے پاس طالبان سے اچھی اور جدید فوج ہے
اوئے پاگل کے بچے مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب وہ خدا پر توکل سے جنگ جیتے اسلحے اور ٹیکنالوجی سے نہیں
غزوہ بدر کی ہسٹری یاد نہیں؟

جواب